ایران و عراق میں زلزلہ

عراق و ایران کے زلزلے سے کتنے معصوم پھول کنکریٹ تلے دب کر ابدی نیند سوگئے

عراق و ایران کے زلزلے سے کتنے معصوم پھول کنکریٹ تلے دب کر ابدی نیند سوگئے۔فوٹو:فائل

ایران اور عراق کے سرحدی علاقوں میں زلزلے کے باعث ہلاکتیں 237 سے تجاوز کرگئیں، زلزلے کے جھٹکے ایران، عراق کے ساحلی علاقوں سمیت سعودی عرب، بحرین، ترکی، اسرائیل، اردن، لبنان، قطر تک محسوس کیے گئے۔

امریکی زولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز عراق کا جنوبی شہر حلیجا تھا، اس کی زمین کی گہرائی 34 کلومیٹر تھی، عراق کی سرحد سے متصل ایرانی صوبہ کرمان شاہ شدید متاثر ہوا، صرف ایران میں 141 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جب کہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے، املاک کے نقصانات کی اطلاعات کے ساتھ جانی نقصانات کی اندوہناک خبریں بھی مسلسل آرہی ہیں۔

دنیا کو آفات سماوی، زلزلوں، ماحولیاتی تبدیلیوں، سمندری طوفانوں، جنگلات کے کٹاؤ سے زمینی، بحری اور فضائی آلودگی کے ہولناک چیلنجوں کا سامنا ہے، عالمی سطح پر سائنس دان زمین کی برہمی کے ان غیر معمولی مظاہر کے سامنے مستقل بند باندھنے سے مجبور نظر آتے ہیں، تاہم ان کی ٹیکنالوجیکل پیش رفت، سائنسی ایجادات اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ارضیاتی تحقیقات کا دائرہ وسیع تر ہوتا جارہا ہے، سیلابوں کی روک تھام کے کئی منصوبے مغرب میں روبہ عمل لائے جارہے ہیں، ترقی یافتہ ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں کے کثیر جہتی معاہدوں اور اقوام متحدہ کے ادارے گلوبل شعور کی بیداری کے لیے رکن ممالک کو ہر ممکن انسدادی تدابیر اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔


لائیو سائنس ڈاٹ کام کے مطابق گزشتہ 15 برسوں میں ارضیاتی کیفیت اور سیزمولوجیکل حساسیت نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، ایک سروے کے مطابق عالمی سطح پر مختلف خطوں اور جزائر میں 5 لاکھ زلزلے آئے مگر محسوس نہیں کیے گئے، ان میں ایک لاکھ جھٹکے ریکارڈ ہوئے، سروے کے مطابق ان زلزلوں میں ایک سو کے لگ بھگ زلزلے تباہی لائے ہیں، چلی کے 27 فروری 2010 کے زلزلے سے شہر دس فٹ سرک گیا تھا، ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی ڈرلنگ بھی زلزلوں کا پیش خیمہ بنتی ہے، پیسیفک ریجن، شرق اوسط کے کوہستانی اور ساحلی علاقے، پاکستان کے سمندری اور ساحلی علاقوں مثلاً کراچی، منوڑہ جب کہ بدین، ٹھٹہ، جاتی بندر کو طغیانی، سمندری کٹاؤ اور زیر زمیں پانی کی سطح کم ہونے کے باعث زلزلوں کی فالٹ لائن میں شمارکیا جاتا ہے، بلوچستان کے شہر کوئٹہ کا زلزلہ اپنی تباہی اور ہلاکتوں کے اعتبار سے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔

2005 میں ایبٹ آباد تباہ کن زلزلے سے شدید متاثر ہوا، بے شمار انسانی جانیں تلف ہوئیں اور کروڑوں اربوں کی املاک زمیں بوس ہوگئیں۔ زلزلوں کے اسباب پر ریسرچ کا سلسلہ جاری ہے، ارضی پلیٹوں کی رگڑ، مستقل گڑگڑاہٹ، اور ہولناک تبدیلیوں کا عمل سانحات کا باعث بن جاتا ہے، سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق 20 مستقل جگہ بدلتی، سرکتی پلیٹوں کی اتھل پتھل سے آن واحد میں بلند و بالا عمارات ریت کا ڈھیر اور ہزاروں انسان موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ عراق، ترکی، ایران زلزلوں کی رینج میں ہیں، یہاں زلزلوں سے ہونے والے نقصانات عالمی سماج کا دل دہلا دیتے ہیں، اپنے گھروں، دفتروں اور بازاروں میں بے خبر انسان پل بھر میں زمین کی سفاکی کی نذر ہوجاتے ہیں، اور وہ ممالک جو صدہا قسم کے سیاسی، معاشی، جنگی اور کاروباری مسابقت اور مفادات میں الجھے ہوئے ہوتے ہیں، ماحولیاتی تباہ کاریوں سے بے نیازی کا افسوس ناک رویہ اختیار کیے رہتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ سائنسی ایجادات نے انسانی زندگی کو رشک جنت بنادیا ہے مگر آلودگی کا زہر بھی انسانوں کی رگ جاں سے نزدیک تر کردیا ہے، آج صنعتی ترقی کو سب سے بڑا چیلنج ماحولیاتی آلودگی اور شہروں کی کثافت و گندگی کے ڈھیروں سے ہے۔ پاکستان کا ساحل سمندر آلودگی کا منبع ہے، دریاؤں میں صنعتی، کیمیائی کثافتوں اور غلاظتوں کے دریا بہائے جاتے ہیں، پاکستان میں نوکر شاہی نے آفات سماوی، قوانین فطرت سے متصادم اقدامات پر عملدرآمد جب کہ آلودگی کے خاتمہ کے لیے پیش رفت کی ہوتی، شہری، دیہی اور زرعی علاقوں میں ماحول کو پاک وصاف رکھنے کی سائنسی تدابیر عمل میں لائی جاتی تو اسموگ کی زہریلی دھند سے میڈیا آسمان سر پر نہ اٹھاتا۔ یہ صوبائی حکومتوں کی انتظامی سطح پر ماحولیاتی مسائل اور چیلنجوں سے صرف نظر کرنے، تجاہل عارفانہ کی درد انگیز کہانی کو زندہ رکھنے کا غیر انسانی بیانیہ ہے جسے زلزلوں کی زبانی بیان کرتے ہوئے قلم اشکبار ہوجاتا ہے، صرف تصور کیا جائے کہ عراق و ایران کے زلزلے سے کتنے معصوم پھول کنکریٹ تلے دب کر ابدی نیند سوگئے۔

زلزلوں کو روکا نہیں جاسکتا مگر ان کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریسکیو کا ہمہ وقت میکنزم تیار رہنا چاہیے، سمندری طوفانوں، ماحولیاتی آلودگی اور بحری حیاتیات کو لاحق آلودگی سے ملکی وسائل سے قوم محروم رہ جاتی ہے۔ ایک سائنسدان کا کہنا ہے کہ نسل انسانی نے خود اپنے برپا کیے ہوئے ماحولیاتی بربادی کے اس تماشے کا سدباب نہ کیا تو دنیا فطرت کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکے گی۔ اس کا اندازہ عالمی برادری زلزلوں اور دنیا کے مختلف خطوں، جزائر اور بحر ہند میں آنے والے سونامیوں، آبی وسائل کے فقدان اور ہولناک آبی قلت کے خطرات میں اپنے مستقبل کی دھندلی سی تصویر دیکھ سکتی ہے۔ ایران وعراق میں زلزلے سے متاثرین کے لیے اہل وطن سے جو ہوسکتا ہے وہ کریں، برادر ملکوں کے دکھی اور غمزدہ عوام اور تکلیف میں مبتلا زخمیوں کے علاج ومعالجہ کے لیے دامے درمے سخنے ہر ممکن مدد کے لیے آگے بڑھیں۔
Load Next Story