سزایافتہ فوجی افسربریگیڈیئرعلی کی اہلیہ کا چیف جسٹس کوخط
شوہرکے ساتھ جیل میں ناروا سلوک کی شکایت ،سی کلاس دی گئی،خط کامتن۔
شوہرکے ساتھ جیل میں ناروا سلوک کی شکایت ،سی کلاس دی گئی،خط کامتن۔ فوٹو: فائل
جی ایچ کیو پر حملے، ملک سے بغاوت اور کالعدم تنظیم کے ساتھ روابط کے الزام میں فوجی عدالت سے سزا یافتہ بریگیڈیئرعلی خان کی اہلیہ بیگم انجم علی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کوخط لکھ کراپنے شوہر کے ساتھ جیل میں ہونے والے ناروا سلوک کی شکایت کی ہے۔
بدھ کوبرطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس کے نام تحریرکیے گئے خط میں بیگم انجم علی نے لاہورہائیکورٹ کے بعض ججوں پربھی الزام لگایا ہے کہ وہ ان کے شوہرکی درخواست سننے سے پہلوتہی کررہے ہیں۔خط میں بیگم انجم علی نے چیف جسٹس کی توجہ اپنے شوہرکوراولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں فراہم کی گئی سی کلاس کی جانب دلواتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی فوجی افسرکو اے کلاس سے محروم رکھاگیاہے جبکہ فوجی قواعدکے مطابق وہ جیل میں اے کلاس کے حقدار ہیں۔
بیگم انجم علی نے کہاکہ ان کے شوہر پی ایچ ڈی کی تیاری کررہے تھے اس کے علاوہ انھیں اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز سے بھی نوازاگیاتھا۔برطانوی میڈیاکے مطابق سزا یافتہ فوجی کی اہلیہ نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنے شوہرکوفوج سے ریٹائرمنٹ کے باوجود فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کے خلاف ایک درخواست لاہورہائیکورٹ میں پچھلے سال فروری میں دائرکی تھی۔ یہ درخواست ہائیکورٹ کے نوججوں کے پاس سماعت کے لیے گئی لیکن یاتومذکورہ جج نے سماعت سے معذرت کرلی اور یا پھر انھیں تبدیل کردیا گیا۔
بریگیڈئیر علی کی اہلیہ نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اس عمل کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے شوہر کے ساتھ عدلیہ کا یہ سلوک 'ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے جوآزاد عدلیہ کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے۔بریگیڈیئرعلی کو فوجی عدالت نے پچھلے سال پانچ برس قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔
بدھ کوبرطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس کے نام تحریرکیے گئے خط میں بیگم انجم علی نے لاہورہائیکورٹ کے بعض ججوں پربھی الزام لگایا ہے کہ وہ ان کے شوہرکی درخواست سننے سے پہلوتہی کررہے ہیں۔خط میں بیگم انجم علی نے چیف جسٹس کی توجہ اپنے شوہرکوراولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں فراہم کی گئی سی کلاس کی جانب دلواتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی فوجی افسرکو اے کلاس سے محروم رکھاگیاہے جبکہ فوجی قواعدکے مطابق وہ جیل میں اے کلاس کے حقدار ہیں۔
بیگم انجم علی نے کہاکہ ان کے شوہر پی ایچ ڈی کی تیاری کررہے تھے اس کے علاوہ انھیں اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز سے بھی نوازاگیاتھا۔برطانوی میڈیاکے مطابق سزا یافتہ فوجی کی اہلیہ نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنے شوہرکوفوج سے ریٹائرمنٹ کے باوجود فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کے خلاف ایک درخواست لاہورہائیکورٹ میں پچھلے سال فروری میں دائرکی تھی۔ یہ درخواست ہائیکورٹ کے نوججوں کے پاس سماعت کے لیے گئی لیکن یاتومذکورہ جج نے سماعت سے معذرت کرلی اور یا پھر انھیں تبدیل کردیا گیا۔
بریگیڈئیر علی کی اہلیہ نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اس عمل کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے شوہر کے ساتھ عدلیہ کا یہ سلوک 'ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے جوآزاد عدلیہ کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے۔بریگیڈیئرعلی کو فوجی عدالت نے پچھلے سال پانچ برس قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔