باجوڑ میں افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کا حملہ

افغانستان سے دہشت گرد جتھوں کی صورت میں حملہ آور ہوتے اور اپنی کارروائیاں کرتے رہے ہیں

افغانستان سے دہشت گرد جتھوں کی صورت میں حملہ آور ہوتے اور اپنی کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

MIRPURKHAS:
افغانستان کے صوبہ کنڑ سے پاکستان کی قبائلی ایجنسی باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں پاک فوج کا کیپٹن اور سپاہی شہید جب کہ 4 جوان زخمی ہوگئے۔اطلاعات کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 10سے 12 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، کچھ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پاک فوج نے کہا ہے کہ پاکستان بارڈر پر افغانستان کی طرف سیکیورٹی خلا کی قیمت چکا رہا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق گزشتہ روز ہونے والا دہشت گردوں کا حملہ افغانستان کے صوبہ کنڑ سے کیا گیا۔ پاک افغان سرحد کے قریبی علاقے میں افغان حکومت کی رٹ قائم نہیں ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گرد اس طرح کی کارروائیاں کرتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق پاکستان نے بارڈر پر اپنی طرف اپنا کام کردیا ہے، تمام علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کیا، بارڈر پر باڑ کی تنصیب اور پوسٹیں بنائی گئی ہیں، بارڈر پر عملے میں اضافہ کیا ہے تاہم افغانستان کی طرف تمام اسٹیک ہولڈرز کو مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ فوجیوں اور شہریوں کی جانیں سرحد کے دونوں اطراف ایک جتنی قیمتی ہیں، اب اس امر کی ضرورت ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کیا جائے اور افغانستان کی جانب سے موثر بارڈر سیکیورٹی پر توجہ دی جائے۔ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کا یہ پہلا حملہ نہیں ہے' ماضی میں کئی بار افغانستان سے دہشت گرد جتھوں کی صورت میں حملہ آور ہوتے اور اپنی کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔


سوات میں بھی ایسا حملہ ہو چکا ہے' بنوں جیل سے دہشت گردوں کو فرار کرانے کا واقع بھی ہوچکا ہے، باجوڑ میں جو حملہ ہوا ہے' اس کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردوں کے گروپ نے حملہ کیا اور یہ گروپ بھاری ہتھیاروں سے لیس تھا۔اس کا مطلب ہے کہ دہشت گردوں کی تعداد خاصی تھی اور بھاری ہتھیاروں میں سے کون کون سے ہتھیار ان کے پاس تھے' اس کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں لیکن یہ بات طے تھی کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گرد بغیر کسی روک ٹوک کے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ پاکستان کے علاقے میں داخل ہوئے اور ہماری سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔ گزشتہ دنوں جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے ایک اہلکار کو بھی قتل کیا گیا' اس کے بارے میں پاکستان نے اب تک کیا کیا اور افغان حکومت کیا کرر ہی ہے' کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے۔

پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں اور فوجی حکام کے درمیان کئی رابطے ہو چکے ہیں لیکن ڈیورنڈ لائن کو محفوظ بنانے کے بارے میں کوئی حتمی سمجھوتہ نہیں ہو سکا۔ پاکستان کا احتجاجی ردعمل بھی نرم ہوتا ہے جس کی وجہ سے افغانستان کی حکومت اس کا کوئی اثر نہیں لیتی۔ یوں سرحدی علاقوں میں پاکستانی علاقوں میں افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردوں کی آمد جاری ہے اور افغانستان کی سیکیورٹی فورسز اپنا کام نہیں کر رہی بلکہ وہ دہشت گردوں کی مدد کرتی ہیں۔ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد کے قریبی علاقے میں افغانستان کی حکومت کی رٹ قائم نہیں ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گرد اس طرح کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ پاکستان کو اس حوالے سے اسٹرٹیجی بنانی چاہیے' اگر پاکستان سے متصل سرحدی علاقے میں افغانستان کی حکومت کی رٹ قائم نہیں تو پاکستان کو گرم تعاقب کی سٹرٹیجی اپنانی چاہیے۔

افغانستان کی حکومت کو اس بارے میں دوٹوک انداز میں بتایا جانا چاہیے کہ اگر وہ اپنے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے قابل نہیں ہے تو پاکستان یہ کام خود کرے گا کیونکہ ہم روز روز اپنے فوجیوں کی شہادت برداشت نہیں کر سکتے۔افغانستان کی حکومت جن علاقوں میں اپنی رٹ نہیں رکھتی وہاں اسے اپنے ریاستی اقتدار اعلیٰ کا حق نہیں جتانا چاہیے ،پاکستان کو اس حوالے سے امریکا کو بھی آگاہ کرنا چاہیے کیونکہ افغانستان کی حکومت امریکا کو بھی پاکستان کے بارے گمراہ کرتی ہے ۔امریکا اور مغربی ممالک افغانستان کی حکومت کو اربوں ڈالر سالانہ امداد دے رہے ہیں۔ افغانستان کی مقتدر اشرافیہ اربوں ڈالر امداد لے کر بھی کچھ نہیں کرتی اور الٹا پاکستان کے بارے میں مغربی دنیا کو گمراہ کررہی ہے۔ پاکستان کو اس پروپیگنڈا کا بھی توڑ کرنا چاہیے۔
Load Next Story