ایئر پورٹ حملہ کیس کراچی سے منتقلی کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری
اسٹیل مل میں اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث سابق جنرل منیجر اور افسران کی درخواست ضمانت پر جواب طلب
ٹیکس ریفنڈ میں کروڑوں روپے کے گھپلے میں ملوث ملزمان کی درخواست ضمانت کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائی کورٹ نے ایئرپورٹ حملہ کیس کراچی سے منتقل کرنے کے خلاف درخواست پر پراسیکیوٹر جنرل سندھ سمیت دیگر کو نوٹس جاری کردیے۔
ہائی کورٹ کے2رکنی بینچ کے روبرو ایئرپورٹ حملہ کیس کراچی سے سکھر منتقلی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت نے ملزم سرمد صدیقی کی درخواست پر پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور دیگر کو ازسر نوٹس جاری کردیے۔ عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل اور دیگر سے 12دسمبرکوجواب طلب کرلیا،ایئرپورٹ حملہ کیس سکھر منتقل کرنے پر عدالت برہم ہوگئی،جسٹس صادق حسین بھٹی نے ریمارکس دییے کہ جب ملزموں کے گواہ کا تعلق کراچی سے ہے تو مقدمہ سکھر کیوں منتقل کیا گیا۔
پراسیکیوٹرنے بتایا کہ عدالت نے اس سے پہلے صرف پراسیکیوٹر جنرل کو نوٹس جاری کیا تھا دیگر سے بھی جواب مانگا جائے،دائر درخواست کے مطابق ایئرپورٹ حملہ کیس میں 4دہشت گردوںکوملٹری کورٹ نے سزا سنائی، ندیم پٹیل اور سرمد صدیقی کا مقدمہ اے ٹی سی جیل ٹرائل کے لیے منتقل کیا گیا۔ ایئر پورٹ حملہ کیس کا ٹرائل اے ٹی سی کراچی میں آخری مراحل میں ہے، سی ٹی ڈی نے مفرور ملزم عبد الرشید کی گرفتاری ظاہر کرکے21اکتوبر کو مقدمہ سکھر منتقل کردیا،سکھر میں ہماری جان کوخطرہ ہے، ایئر پورٹ حملہ کیس سکھر منتقل کرنے سے روکا جائے۔
ہائی کورٹ نے اسٹیل مل میں اربوں روپے کی کرپشن میں سابق جی ایم و دیگر افسران کی درخواست ضمانت پر فریقین سے 5دسمبر تک جواب طلب کرلیا،2رکنی بینچ کے روبرو اسٹیل مل میں اربوں کرپشن میں سابق جی ایم سمین اصغر اور افسران اسٹیل مل دیگر افسران کی درخواست ضمانت کی سماعت کی سماعت ہوئی،عدالت نے ملزموں کی درخواست ضمانت پر فریقین سے 5دسمبر کودلائل طلب کرلیے، نیب کے مطابق ملزمان نے کوئلہ اور دیگر را مٹیریل مہنگے داموں اور غیر ضروری طور پر بر آمدکیا،کیسز اینٹی کرپشن میں ہونے کے دوران سنگل بینچ سے ملزمان نے ضمانت لے رکھی ہے۔
کیس نیب عدالت کو منتقل ہونے بعد ملزمان کو ضمانت کے لیے ازسر نو ڈویژن سے رجوع کرنا چاہیے، ہائی کورٹ نے ٹیکس ریفنڈ میں کروڑوں روپے کے گھپلے میں ملوث ملزمان کی درخواست ضمانت کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کردی۔
2رکنی بینچ کے روبرو ٹیکس ریفنڈ میں کروڑوں روپے فراڈ اور گھپلے سے متعلق ملزموں عمران، فرقان اور عبدالوحد کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی،ملزموںکے وکیل نے کہا کہ ان کے موکلین نے پلی بارگین کے لیے چیئرمین نیب کو درخواست ارسال کردی،پلی بار گین کا فیصلہ آنے تک سماعت ملتوی کی جائے،عدالت نے ملزموں کی درخواست پر نیب 12 دسمبر کو جواب طلب کرلیا،نیب کے مطابق ملزموں نے ٹیکس ریفنڈ میں جعلی انوائسز بنا کر قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا ، تینوں ملزموں کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے۔
ہائی کورٹ نے پروفیسر ادیب الحسن رضوی کو سکھر میں زمین دینے سے متعلق ملزم دیدار علی جتوئی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے نیب 28 نومبرکے لیے نوٹس جاری کر دیے،2رکنی بینچ کے روبرو پروفیسر ادیب رضوی کے سکھر میں اسپتال کو زمین دینے سے متعلق سماعت ہوئی،عدالت نے ملزم دیدار علی جتوئی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 30لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا،عدالت نے تفتیش میں نیب سے تعاون کرنے کا حکم دیا ،درخواست پر عدالت نے نیب کو28نومبر کے لیے نوٹس جاری کردیے۔
دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملزم نے پروفیسر ادیب رضوی کو سکھر میںگردے کے اسپتال کی تعمیرات کے 6ایکڑ زمین دی،ذاتی زمین اسپتال کو دینے کے باوجود نیب تحقیقات کے لیے نوٹس بھیج دیا،گرفتاری کا خدشہ ہے روکا جائے۔
ہائی کورٹ کے2رکنی بینچ کے روبرو ایئرپورٹ حملہ کیس کراچی سے سکھر منتقلی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت نے ملزم سرمد صدیقی کی درخواست پر پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور دیگر کو ازسر نوٹس جاری کردیے۔ عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل اور دیگر سے 12دسمبرکوجواب طلب کرلیا،ایئرپورٹ حملہ کیس سکھر منتقل کرنے پر عدالت برہم ہوگئی،جسٹس صادق حسین بھٹی نے ریمارکس دییے کہ جب ملزموں کے گواہ کا تعلق کراچی سے ہے تو مقدمہ سکھر کیوں منتقل کیا گیا۔
پراسیکیوٹرنے بتایا کہ عدالت نے اس سے پہلے صرف پراسیکیوٹر جنرل کو نوٹس جاری کیا تھا دیگر سے بھی جواب مانگا جائے،دائر درخواست کے مطابق ایئرپورٹ حملہ کیس میں 4دہشت گردوںکوملٹری کورٹ نے سزا سنائی، ندیم پٹیل اور سرمد صدیقی کا مقدمہ اے ٹی سی جیل ٹرائل کے لیے منتقل کیا گیا۔ ایئر پورٹ حملہ کیس کا ٹرائل اے ٹی سی کراچی میں آخری مراحل میں ہے، سی ٹی ڈی نے مفرور ملزم عبد الرشید کی گرفتاری ظاہر کرکے21اکتوبر کو مقدمہ سکھر منتقل کردیا،سکھر میں ہماری جان کوخطرہ ہے، ایئر پورٹ حملہ کیس سکھر منتقل کرنے سے روکا جائے۔
ہائی کورٹ نے اسٹیل مل میں اربوں روپے کی کرپشن میں سابق جی ایم و دیگر افسران کی درخواست ضمانت پر فریقین سے 5دسمبر تک جواب طلب کرلیا،2رکنی بینچ کے روبرو اسٹیل مل میں اربوں کرپشن میں سابق جی ایم سمین اصغر اور افسران اسٹیل مل دیگر افسران کی درخواست ضمانت کی سماعت کی سماعت ہوئی،عدالت نے ملزموں کی درخواست ضمانت پر فریقین سے 5دسمبر کودلائل طلب کرلیے، نیب کے مطابق ملزمان نے کوئلہ اور دیگر را مٹیریل مہنگے داموں اور غیر ضروری طور پر بر آمدکیا،کیسز اینٹی کرپشن میں ہونے کے دوران سنگل بینچ سے ملزمان نے ضمانت لے رکھی ہے۔
کیس نیب عدالت کو منتقل ہونے بعد ملزمان کو ضمانت کے لیے ازسر نو ڈویژن سے رجوع کرنا چاہیے، ہائی کورٹ نے ٹیکس ریفنڈ میں کروڑوں روپے کے گھپلے میں ملوث ملزمان کی درخواست ضمانت کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کردی۔
2رکنی بینچ کے روبرو ٹیکس ریفنڈ میں کروڑوں روپے فراڈ اور گھپلے سے متعلق ملزموں عمران، فرقان اور عبدالوحد کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی،ملزموںکے وکیل نے کہا کہ ان کے موکلین نے پلی بارگین کے لیے چیئرمین نیب کو درخواست ارسال کردی،پلی بار گین کا فیصلہ آنے تک سماعت ملتوی کی جائے،عدالت نے ملزموں کی درخواست پر نیب 12 دسمبر کو جواب طلب کرلیا،نیب کے مطابق ملزموں نے ٹیکس ریفنڈ میں جعلی انوائسز بنا کر قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا ، تینوں ملزموں کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے۔
ہائی کورٹ نے پروفیسر ادیب الحسن رضوی کو سکھر میں زمین دینے سے متعلق ملزم دیدار علی جتوئی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے نیب 28 نومبرکے لیے نوٹس جاری کر دیے،2رکنی بینچ کے روبرو پروفیسر ادیب رضوی کے سکھر میں اسپتال کو زمین دینے سے متعلق سماعت ہوئی،عدالت نے ملزم دیدار علی جتوئی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 30لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا،عدالت نے تفتیش میں نیب سے تعاون کرنے کا حکم دیا ،درخواست پر عدالت نے نیب کو28نومبر کے لیے نوٹس جاری کردیے۔
دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملزم نے پروفیسر ادیب رضوی کو سکھر میںگردے کے اسپتال کی تعمیرات کے 6ایکڑ زمین دی،ذاتی زمین اسپتال کو دینے کے باوجود نیب تحقیقات کے لیے نوٹس بھیج دیا،گرفتاری کا خدشہ ہے روکا جائے۔