نیشنل میوزیم میں گندھارا تہذیب کی قیمتی مورتیاں کھلے آسمان تلے موجود
انتظامیہ نے قیمتی مورتیوں اورنوادرات کو بغیرکسی حفاظتی انتظام کے میوزیم کے پارک میں پھینک دیابچوں نے انہیںکھلونابنالیا
کورنگی میں برآمد ہونے والے نوادرات نیشنل میوزیم کے حوالے کیے گئے تھے لیکن میوزیم کے عملے کی بے حسی کے باعث عجائب گھر کے باہر پڑے ہیں۔ فوٹو ایکسپریس
MIRANSHAH:
ڈھائی ہزارسال قدیم گندھاراتہذیب سے تعلق رکھنے والی مورتیاں اورنوادرات نیشنل میوزیم آف پاکستان کے پارک میں کھلے آسمان تلے کسی سیکیورٹی کے بغیرموجودہیں،پارک میں آنے والے عام افرادبغیرکسی روک ٹوک کے مورتیوں کامعائنہ کررہے ہیں جبکہ من چلے نوجوان اوربچوں نے مورتیوںکو کھلونابنالیاہے بعض بچے اس پرسواری بھی کررہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کراچی پولیس کی جانب سے اسمگلنگ کے الزام میں پکڑی جانے والی مورتیوںکوان کی تاریخی حیثیت کی جانچ پڑتال کیلیے نیشنل میوزیم آف پاکستان کی انتظامیہ کے حوالے کیاگیاتھاتاہم نیشنل میوزیم کی انتظامیہ نے ممکنہ طورپرگندھارا تہذیب سے تعلق رکھنے والی مورتیوں کوبحفاظت رکھنے کے بجائے کھلے آسمان تلے اوربغیرکسی حفاظتی انتظامات کے ایک ایسے مقام پرپھینک دیاہے جہاں پارک میں آنے والا ہرشخص باآسانی نہ صرف ان کامعائنہ کرسکتاہے بلکہ انھیں نقصان بھی پہنچاسکتاہے،پارک میں آنے والے بچوں نے قدیم مورتیوںکوکھلونابنالیا ہے اور اگرکوئی شخص چاہے توباآسانی انھیں اٹھاکربھی لے جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے کراچی میں بارش کی پیشن گوئی کی گئی ہے،بارش کی صورت مورتیوںکوپانی سے محفوظ رکھنے کے بھی کوئی انتظامات نہیںکیے گئے،پانی میں بھیگنے کی صورت میں مورتیوں اورنوادرات کے خراب ہونے کاخدشہ ہے۔واضح رہے کہ عوامی کالونی پولیس نے 6 اور 7 جولائی کی درمیانی شب حساس ادارے کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کر کورنگی سنگرچورنگی کے قریب ایک کنٹینر پرچھاپہ مار کر گندھارا تہذیب کی قیمتی مورتیاں اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی تھی اوردوملزموںکو گرفتار کرلیاتھاپکڑے جانے والے کنٹینر میں موجود مورتیاں کراچی سے راولپنڈی کے راستے سیالکوٹ اسمگل کی جارہی تھیں تاہم پولیس اور حساس اداروں نے مورتیاں اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی تھی۔
ڈھائی ہزارسال قدیم گندھاراتہذیب سے تعلق رکھنے والی مورتیاں اورنوادرات نیشنل میوزیم آف پاکستان کے پارک میں کھلے آسمان تلے کسی سیکیورٹی کے بغیرموجودہیں،پارک میں آنے والے عام افرادبغیرکسی روک ٹوک کے مورتیوں کامعائنہ کررہے ہیں جبکہ من چلے نوجوان اوربچوں نے مورتیوںکو کھلونابنالیاہے بعض بچے اس پرسواری بھی کررہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کراچی پولیس کی جانب سے اسمگلنگ کے الزام میں پکڑی جانے والی مورتیوںکوان کی تاریخی حیثیت کی جانچ پڑتال کیلیے نیشنل میوزیم آف پاکستان کی انتظامیہ کے حوالے کیاگیاتھاتاہم نیشنل میوزیم کی انتظامیہ نے ممکنہ طورپرگندھارا تہذیب سے تعلق رکھنے والی مورتیوں کوبحفاظت رکھنے کے بجائے کھلے آسمان تلے اوربغیرکسی حفاظتی انتظامات کے ایک ایسے مقام پرپھینک دیاہے جہاں پارک میں آنے والا ہرشخص باآسانی نہ صرف ان کامعائنہ کرسکتاہے بلکہ انھیں نقصان بھی پہنچاسکتاہے،پارک میں آنے والے بچوں نے قدیم مورتیوںکوکھلونابنالیا ہے اور اگرکوئی شخص چاہے توباآسانی انھیں اٹھاکربھی لے جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے کراچی میں بارش کی پیشن گوئی کی گئی ہے،بارش کی صورت مورتیوںکوپانی سے محفوظ رکھنے کے بھی کوئی انتظامات نہیںکیے گئے،پانی میں بھیگنے کی صورت میں مورتیوں اورنوادرات کے خراب ہونے کاخدشہ ہے۔واضح رہے کہ عوامی کالونی پولیس نے 6 اور 7 جولائی کی درمیانی شب حساس ادارے کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کر کورنگی سنگرچورنگی کے قریب ایک کنٹینر پرچھاپہ مار کر گندھارا تہذیب کی قیمتی مورتیاں اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی تھی اوردوملزموںکو گرفتار کرلیاتھاپکڑے جانے والے کنٹینر میں موجود مورتیاں کراچی سے راولپنڈی کے راستے سیالکوٹ اسمگل کی جارہی تھیں تاہم پولیس اور حساس اداروں نے مورتیاں اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی تھی۔