اے جی سندھ محکمہ تعلیم سے اسکول کالجز میں بھرتی ہونیوالے ملازمین کی فہرست طلب
ان بلوں کو مسترد کردیا ہے اور ان پر اعتراض لگایاجارہا ہے کہ اپنے پوسٹنگ اور جوائننگ آرڈرز کی ازسرنو تصدیق کرائی جائے
ذرائع کے مطابق اے جی سندھ کے پاس اب تک ان بھرتی ہونے والے 8ہزار سے زائد ملازمین کی تصدیق شدہ فہرست محکمہ تعلیم نے فراہم نہیں کی ہے. فوٹو: فائل
اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ(اے جی سندھ) نے صوبائی محکمہ تعلیم کو آگاہ کیا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے میں اسکول اور کالجز کیڈر میں گریڈ ایک سے گریڈ 16تک کے نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کی تصدیق شدہ فہرست فوری ارسال کی جائے۔
تاکہ ملازمین کو بروقت تنخواہ کی ادائیگی کو یقینی بنایا جاسکے ،ذرائع کے مطابق اے جی سندھ نے صوبائی محکمہ تعلیم کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی گریڈ ایک سے گریڈ 16تک پوسٹوں پر 2011سے لیکر 20جنوری 2013تک بھرتی ہونے والے ملازمین کی حتمی فہرست فراہم کی جائے ۔
ذرائع کے مطابق اے جی سندھ کے پاس اب تک ان بھرتی ہونے والے 8ہزار سے زائد ملازمین کی تصدیق شدہ فہرست محکمہ تعلیم نے فراہم نہیں کی ہے جس کی وجہ سے ملازمین کی تنخواہیں التوا کا شکار ہیں ،ذرائع نے مزید بتایا کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں سیکڑوں بھرتی ہونے والے نئے ملازمین جوائننگ کے باوجود تنخواہوں سے محروم ہیں۔
ذرائع کے مطابق جو ملازمین انفرادی طور پر تنخواہوں کے حصول کیلیے مینول بل جمع کرارہے ہیں،اے جی سندھ نے ان بلوں کو مسترد کردیا ہے اور ان پر اعتراض لگایاجارہا ہے کہ اپنے پوسٹنگ اور جوائننگ آرڈرز کی ازسرنو تصدیق کرائی جائے ،اے جی سندھ نے محکمہ تعلیم کو بھیجے گئے مراسلہ میں واضح کیا ہے کہ بھرتی ہونے والے ملازمین کی حتمی فہرست نہ ہونے کی وجہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جاسکتی ہے ۔
تاکہ ملازمین کو بروقت تنخواہ کی ادائیگی کو یقینی بنایا جاسکے ،ذرائع کے مطابق اے جی سندھ نے صوبائی محکمہ تعلیم کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی گریڈ ایک سے گریڈ 16تک پوسٹوں پر 2011سے لیکر 20جنوری 2013تک بھرتی ہونے والے ملازمین کی حتمی فہرست فراہم کی جائے ۔
ذرائع کے مطابق اے جی سندھ کے پاس اب تک ان بھرتی ہونے والے 8ہزار سے زائد ملازمین کی تصدیق شدہ فہرست محکمہ تعلیم نے فراہم نہیں کی ہے جس کی وجہ سے ملازمین کی تنخواہیں التوا کا شکار ہیں ،ذرائع نے مزید بتایا کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں سیکڑوں بھرتی ہونے والے نئے ملازمین جوائننگ کے باوجود تنخواہوں سے محروم ہیں۔
ذرائع کے مطابق جو ملازمین انفرادی طور پر تنخواہوں کے حصول کیلیے مینول بل جمع کرارہے ہیں،اے جی سندھ نے ان بلوں کو مسترد کردیا ہے اور ان پر اعتراض لگایاجارہا ہے کہ اپنے پوسٹنگ اور جوائننگ آرڈرز کی ازسرنو تصدیق کرائی جائے ،اے جی سندھ نے محکمہ تعلیم کو بھیجے گئے مراسلہ میں واضح کیا ہے کہ بھرتی ہونے والے ملازمین کی حتمی فہرست نہ ہونے کی وجہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جاسکتی ہے ۔