سانحہ کراچی5روز گزر جانے کے باوجود متاثرہ خاندان مسیحا کے منتظر
صرف میڈ یا پر بلند و بانگ دعوے کیے جارہے ہیں،متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کے لیے کوئی نمائندہ نہیں آرہا، متاثرہ افراد
جمعرات کو بھی متاثرہ افراد اپنے تباہ گھروں اور دکانوں کو دیکھ کر آبدیدہ ہوتے رہے، مختلف تنظیموں کے کیمپ قائم فوٹو: ایکسپریس
سانحہ کراچی کو 5 روز گزر جانے کے باوجود متاثرہ خاندان اب بھی مسیحا کے منتظر ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق 3مارچ کو ابوالحسن اصفہانی روڈ پر عباس ٹاؤن کے قریب واقع رہائشی اپارٹمنٹس اقرا سٹی اور رابعہ فلاور کی درمیانی سڑک پر کیے جانیوالے انتہائی خوفناک اور دل دہلادینے والے بم دھماکے کو 5 روز گزر جانے کے باوجود متاثرہ خاندان اب تک میسحاؤں کے منتظر ہیں، ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے سانحہ کو گزرے ہوئے5 روز ہوگئے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ صرف اور صرف میڈ یا پر بلند و بانگ دعوے کیے جارہے ہیں لیکن متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کے لیے کوئی نمائندے نہیں آرہا۔
ان کا کہنا تھا جو لوگ حکومت میں موجود ہیں وہ نہیں آرہے تو وہ اپنا دکھ کس کو بتائیں ، جمعرات کو سانحہ کراچی کے متاثرہ افراد بڑی تعداد میں اپنے فلیٹ اور دکانوں پر موجود تھے اور اپنے گھروں اور دکانوں کو دیکھ کر آبدیدہ ہو رہے تھے اور سامان منتقل کر رہے تھے، متاثرہ افراد کا کہنا کہ انھیں ماضی کے دن یاد آرہے ہیں، جب سب ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔
کوئی اپنے کاروبار میں خوش تھا تو کوئی اپنی فیملی کے ہمراہ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے تھے کہ بم دھماکے سے سیکڑوں لوگوں کی زندگی یکسر تبدیل ہو گئی، گزشتہ روز بھی جعفریہ ڈزاسٹر مینجمنٹ سیل ، مجلس وحدت مسلمین، ڈپٹی کمشنر کراچی ، شہید فاؤنڈیشن پاکستان ، متحدہ قومی موؤمنٹ اور دیگر انجمنوں کے کیمپ قائم رہے جہاں متاثرہ خاندانوں کو کھانے پینے کی اشیا، کمبل اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیا فراہم کی جا رہیں تھیں۔
تفصیلات کے مطابق 3مارچ کو ابوالحسن اصفہانی روڈ پر عباس ٹاؤن کے قریب واقع رہائشی اپارٹمنٹس اقرا سٹی اور رابعہ فلاور کی درمیانی سڑک پر کیے جانیوالے انتہائی خوفناک اور دل دہلادینے والے بم دھماکے کو 5 روز گزر جانے کے باوجود متاثرہ خاندان اب تک میسحاؤں کے منتظر ہیں، ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے سانحہ کو گزرے ہوئے5 روز ہوگئے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ صرف اور صرف میڈ یا پر بلند و بانگ دعوے کیے جارہے ہیں لیکن متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کے لیے کوئی نمائندے نہیں آرہا۔
ان کا کہنا تھا جو لوگ حکومت میں موجود ہیں وہ نہیں آرہے تو وہ اپنا دکھ کس کو بتائیں ، جمعرات کو سانحہ کراچی کے متاثرہ افراد بڑی تعداد میں اپنے فلیٹ اور دکانوں پر موجود تھے اور اپنے گھروں اور دکانوں کو دیکھ کر آبدیدہ ہو رہے تھے اور سامان منتقل کر رہے تھے، متاثرہ افراد کا کہنا کہ انھیں ماضی کے دن یاد آرہے ہیں، جب سب ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔
کوئی اپنے کاروبار میں خوش تھا تو کوئی اپنی فیملی کے ہمراہ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے تھے کہ بم دھماکے سے سیکڑوں لوگوں کی زندگی یکسر تبدیل ہو گئی، گزشتہ روز بھی جعفریہ ڈزاسٹر مینجمنٹ سیل ، مجلس وحدت مسلمین، ڈپٹی کمشنر کراچی ، شہید فاؤنڈیشن پاکستان ، متحدہ قومی موؤمنٹ اور دیگر انجمنوں کے کیمپ قائم رہے جہاں متاثرہ خاندانوں کو کھانے پینے کی اشیا، کمبل اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیا فراہم کی جا رہیں تھیں۔