ترقیاتی منصوبوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی چیف الیکشن کمشنر حکومت نے الیکشن کا شیڈول مانگ لیا نامزدگی فار
وزیرخزانہ نے پابندی ہٹانے کی درخواست کی، کراچی کے حالات انتخابی عمل میں رکاوٹ نہیں بن سکتے، چیف الیکشن کمشنر
جعلی ڈگریوں پردوبارہ سماعت کافیصلہ،پولنگ ڈے کااعلان صدرکرینگے، نائیک،انتخابی اخراجات کیلیے فنڈز دینے کی یقین دہانی فوٹو: ایکسپریس/فائل
الیکشن کمیشن نے ترقیاتی منصوبوں کیلیے فنڈز کی منتقلی پر پابندی میں نرمی کردی ہے جبکہ حکومت نے کمیشن کوانتخابات کیلیے 2ارب کے فوری فنڈز جاری کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے انتخابی شیڈول مانگ لیا۔
پولنگ ڈے کا اعلان صدر کریں گے جبکہ کمیشن نے ملک بھر میں سیاستدانوں کے بل بورڈز اور وال چاکنگ پیر تک ہٹانے کا حکم دیدیا۔روزنامہ''ایکسپریس'' میں وزارت خزانہ کی طرف سے الیکشن کمیشن کی منظوری کے بغیر وزیراعظم کے حلقے کیلیے سپلیمنٹری گرانٹ کی مد میں ساڑھے تین ارب روپے سے زائد کے فنڈز فراہم کرنے کی منظوری دینے کے بارے میں شائع ہونے والی خبر کے بعد وزارت خزانہ کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے کسی ایک منصوبے کے ترقیاتی فنڈز کو کسی دوسرے منصوبے پر منتقل کرنے پر عائد کردہ پابندی کو نرم کردیا ہے۔
اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ سلیم ایچ مانڈوی والا نے الیکشن کمیشن کو آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کیلیے اسمبلیوں کی تحلیل سے قبل مزید دو ارب روپے جاری کرنے کی یقین دہانی کروادی ہے جبکہ وزارت خزانہ کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے کسی ایک منصونے کے ترقیاتی فنڈز کو کسی دوسرے منصوبے پرمنتقل کرنے پر عائد کردہ پابندی کو نرم کردیا ہے علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کی طرف سے ایک سرکلر بھی جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کسی ایک منصونے کے ترقیاتی فنڈز کو کسی دوسرے منصوبے پرمنتقل کرنے پر عائد کردہ پابندی کو نرم کردیا گیا ہے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال 2012-13 کیلیے ترقیاتی فنڈز کی مشروط طور پر ایڈجسٹمنٹ اورکسی دوسرے منصوبے کیلیے منتقلی کی جاسکے گی۔
آن لائن کے مطابق الیکشن کمیشن نے مالی سال 2012-13ء کے لیے منظور کردہ ترقیاتی اسکیموں کیلیے فنڈز جاری کرنے کی مشروط اجازت دیدی ہے جس سے رکے ہوئے ترقیاتی منصوبے بحال ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے وزیراعظم کے اسپیشل سیکریٹری، سیکریٹری منصوبہ بندی کمیشن، سیکریٹری ریلویز وزیر ہاؤسنگ اور چاروں چیف سیکریٹریز کو مراسلے بھجوائے گئے ہیں جن میں انھیں مالی سال 2012-13 ء کیلیے منظور کردہ ترقیاتی اسکیموں میں فنڈز جاری کرنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم کی زیر صدارت کمیشن کے اجلاس میں وزیر خزانہ' سیکریٹری خزانہ' کمیشن کے سندھ' پنجاب اور کے پی کے کے ممبران و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ وزیر خزانہ نے قومی اسٹرٹیجک کے جاری منصوبوں پر پابندی ہٹانے کی درخواست کی تو الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ قومی منصوبوں پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی جبکہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) فخرالدین جی ابراہیم نے کہا ہے کہ انتخابات کے انعقاد سے متعلق غیر یقینی کی صورتحال نہیں ہے۔
انتخابات ہر حال میں ہونگے کراچی کے حالات انتخابی عمل میں رکاوٹ نہیں بن سکتے، الیکشن کمیشن نے قومی منصوبوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی جبکہ عام انتخابات کے دوران فوج کی تعیناتی کے حوالے سے عسکری حکام اور الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس آج ہوگا۔ وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن سے انتخابی شیڈول مانگ لیا' پولنگ ڈے کا اعلان صدر مملکت کریں گے ۔
جمعرات کو الیکشن کمیشن کیساتھ انتخابی ترامیم پر مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کاغذات نامزدگی فارم میں ترمیم سمیت کئی معاملات پر تحفظات ہیں،الیکشن کمیشن کو آگاہ کردیا ہے کہ اس کی منظوری موجودہ شکل میں نہیں دی جا سکتی الیکشن کمیشن نے وزارت قانون کو تحفظات تحریری صورت میں الیکشن کمیشن کو فراہم کر نے کی ہدایت کی ہے انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اجلاس میں الیکشن کمیشن سے مجوزہ انتخابی شیڈول مانگ لیا ہے الیکشن کمیشن کی جانب سے تجویز کیے گئے انتخابی شیڈول پر صدر مملکت اتحادی جماعتوں کیساتھ مشاورت کرکے پولنگ ڈے کا اعلان کریں گے ۔
پولنگ ڈے کا اعلان صدر کریں گے جبکہ کمیشن نے ملک بھر میں سیاستدانوں کے بل بورڈز اور وال چاکنگ پیر تک ہٹانے کا حکم دیدیا۔روزنامہ''ایکسپریس'' میں وزارت خزانہ کی طرف سے الیکشن کمیشن کی منظوری کے بغیر وزیراعظم کے حلقے کیلیے سپلیمنٹری گرانٹ کی مد میں ساڑھے تین ارب روپے سے زائد کے فنڈز فراہم کرنے کی منظوری دینے کے بارے میں شائع ہونے والی خبر کے بعد وزارت خزانہ کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے کسی ایک منصوبے کے ترقیاتی فنڈز کو کسی دوسرے منصوبے پر منتقل کرنے پر عائد کردہ پابندی کو نرم کردیا ہے۔
اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ سلیم ایچ مانڈوی والا نے الیکشن کمیشن کو آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کیلیے اسمبلیوں کی تحلیل سے قبل مزید دو ارب روپے جاری کرنے کی یقین دہانی کروادی ہے جبکہ وزارت خزانہ کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے کسی ایک منصونے کے ترقیاتی فنڈز کو کسی دوسرے منصوبے پرمنتقل کرنے پر عائد کردہ پابندی کو نرم کردیا ہے علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کی طرف سے ایک سرکلر بھی جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کسی ایک منصونے کے ترقیاتی فنڈز کو کسی دوسرے منصوبے پرمنتقل کرنے پر عائد کردہ پابندی کو نرم کردیا گیا ہے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال 2012-13 کیلیے ترقیاتی فنڈز کی مشروط طور پر ایڈجسٹمنٹ اورکسی دوسرے منصوبے کیلیے منتقلی کی جاسکے گی۔
آن لائن کے مطابق الیکشن کمیشن نے مالی سال 2012-13ء کے لیے منظور کردہ ترقیاتی اسکیموں کیلیے فنڈز جاری کرنے کی مشروط اجازت دیدی ہے جس سے رکے ہوئے ترقیاتی منصوبے بحال ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے وزیراعظم کے اسپیشل سیکریٹری، سیکریٹری منصوبہ بندی کمیشن، سیکریٹری ریلویز وزیر ہاؤسنگ اور چاروں چیف سیکریٹریز کو مراسلے بھجوائے گئے ہیں جن میں انھیں مالی سال 2012-13 ء کیلیے منظور کردہ ترقیاتی اسکیموں میں فنڈز جاری کرنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم کی زیر صدارت کمیشن کے اجلاس میں وزیر خزانہ' سیکریٹری خزانہ' کمیشن کے سندھ' پنجاب اور کے پی کے کے ممبران و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ وزیر خزانہ نے قومی اسٹرٹیجک کے جاری منصوبوں پر پابندی ہٹانے کی درخواست کی تو الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ قومی منصوبوں پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی جبکہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) فخرالدین جی ابراہیم نے کہا ہے کہ انتخابات کے انعقاد سے متعلق غیر یقینی کی صورتحال نہیں ہے۔
انتخابات ہر حال میں ہونگے کراچی کے حالات انتخابی عمل میں رکاوٹ نہیں بن سکتے، الیکشن کمیشن نے قومی منصوبوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی جبکہ عام انتخابات کے دوران فوج کی تعیناتی کے حوالے سے عسکری حکام اور الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس آج ہوگا۔ وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن سے انتخابی شیڈول مانگ لیا' پولنگ ڈے کا اعلان صدر مملکت کریں گے ۔
جمعرات کو الیکشن کمیشن کیساتھ انتخابی ترامیم پر مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کاغذات نامزدگی فارم میں ترمیم سمیت کئی معاملات پر تحفظات ہیں،الیکشن کمیشن کو آگاہ کردیا ہے کہ اس کی منظوری موجودہ شکل میں نہیں دی جا سکتی الیکشن کمیشن نے وزارت قانون کو تحفظات تحریری صورت میں الیکشن کمیشن کو فراہم کر نے کی ہدایت کی ہے انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اجلاس میں الیکشن کمیشن سے مجوزہ انتخابی شیڈول مانگ لیا ہے الیکشن کمیشن کی جانب سے تجویز کیے گئے انتخابی شیڈول پر صدر مملکت اتحادی جماعتوں کیساتھ مشاورت کرکے پولنگ ڈے کا اعلان کریں گے ۔