رینجرز اپنے اہلکارنہ بچا سکے ہمیں تحفظ کیسے دینگے شہری
ٹارگٹ کلنگ اور مغویوں کی لاشیں پھینکنے کے واقعات رینجرز اور پولیس پرسوالیہ نشان ہیں
ٹارگٹ کلنگ اور مغویوں کی لاشیں پھینکنے کے واقعات رینجرز اور پولیس پرسوالیہ نشان ہیں فوٹو: فائل
پاک کالونی سے رینجرز سیکیورٹی ونگ کے2 مغوی اہلکاروں کی لاشیں ملنے کے بعد رینجرز سندھ حرکت میں آگئی۔
جس کے بعد پاک کالونی اور لیاری میں بھاری نفری نے مختلف علاقوں کا محاصرہ کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی اور دوران انھیں شدید مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے اہلکاروں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے تو وہ عام شہری کو کیا تحفظ فراہم کر سکیں گے۔
ایک ارب روپے سے زائد بجٹ اور پولیس کے مساوی اختیارات ملنے کے باوجود رینجرز اس کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائی جو اس سے امید کی جا رہی تھی، شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے بعد قتل کر کے لاشیں پھینکنے کے سیکڑوں واقعات کے علاوہ رواں سال کے ابتدائی2 ماہ میں450 سے زائد شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کے واقعات پولیس کی کارکردگی اوررینجرزکی شہر میں موجودگی بھی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے ۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ2 ماہ میں سیکڑوں افراد کو زندگی سے محروم کردیا گیا جبکہ اغوا برائے تاوان کے واقعات میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا تاہم رینجرز کی جانب سے عام شہری کو بچانے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایسی چابکدستی دیکھنے میں نہیں آئی جیسی انھوں نے اپنے اہلکاروں کے قاتلوں کو تلاش کرنے میں دکھائی۔
جس کے بعد پاک کالونی اور لیاری میں بھاری نفری نے مختلف علاقوں کا محاصرہ کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی اور دوران انھیں شدید مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے اہلکاروں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے تو وہ عام شہری کو کیا تحفظ فراہم کر سکیں گے۔
ایک ارب روپے سے زائد بجٹ اور پولیس کے مساوی اختیارات ملنے کے باوجود رینجرز اس کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائی جو اس سے امید کی جا رہی تھی، شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے بعد قتل کر کے لاشیں پھینکنے کے سیکڑوں واقعات کے علاوہ رواں سال کے ابتدائی2 ماہ میں450 سے زائد شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کے واقعات پولیس کی کارکردگی اوررینجرزکی شہر میں موجودگی بھی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے ۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ2 ماہ میں سیکڑوں افراد کو زندگی سے محروم کردیا گیا جبکہ اغوا برائے تاوان کے واقعات میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا تاہم رینجرز کی جانب سے عام شہری کو بچانے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایسی چابکدستی دیکھنے میں نہیں آئی جیسی انھوں نے اپنے اہلکاروں کے قاتلوں کو تلاش کرنے میں دکھائی۔