توہینِ مذہب کے قوانین ختم کر دیناچاہئیںاقوام متحدہ
’خطرناک‘ قوانین اظہار پر پابندی اور اقلیتوں کے حقوق سلب کرنے کی طاقت دیتے ہیں
’خطرناک‘ قوانین اظہار پر پابندی اور اقلیتوں کے حقوق سلب کرنے کی طاقت دیتے ہیں فوٹو وکی پیڈیا
آزادمذہب کیلیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کاکہنا ہے کہ جن ممالک میں بھی توہین مذہب اورمذہب تبدیل کرنے کیخلاف قوانین موجود ہیں انھیں یہ ختم کردینا چاہیئیں۔
یہ سفارش اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں کی گئی ہے۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ایلچی ہینر بیلیفیلڈ کا کہنا ہے کہ یہ مذہبی عقائد یا شخصیات کی توہین روکنے یا پھر کسی مذہب یا عقیدے کو رد کرنے والوں کو سزا دینے کیلئے بنائے جانے والے قوانین 'خطرناک' ہیں۔ایسے قوانین ریاستوں کو آزادی اظہار پر پابندی لگانے اور اقلیتوں کے حقوق سلب کرنے کی طاقت اور موقع دیتے ہیں۔
یہ سفارش اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں کی گئی ہے۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ایلچی ہینر بیلیفیلڈ کا کہنا ہے کہ یہ مذہبی عقائد یا شخصیات کی توہین روکنے یا پھر کسی مذہب یا عقیدے کو رد کرنے والوں کو سزا دینے کیلئے بنائے جانے والے قوانین 'خطرناک' ہیں۔ایسے قوانین ریاستوں کو آزادی اظہار پر پابندی لگانے اور اقلیتوں کے حقوق سلب کرنے کی طاقت اور موقع دیتے ہیں۔