چور تو مچائیں گے شور
پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اب تک بھٹو کا فیصلہ سب سے متنازعہ رہا ہے۔
msuherwardy@gmail.com
جب معاشرے میں چوری عام ہو۔ چور کھلے عام پھر رہے ہوں۔ ایسے میں اگر ایک چور کو پکڑ کر سزا دے بھی دی جائے تو اس سے چوری نہیںرکتی بلکہ سزا ملنے والا چور مظلوم بھی بن جاتا ہے۔ سزا چاہے جتنی بھی قانونی و جائز ہو لیکن پھر بھی وہ چور یہ باور کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ اس اکیلے کو سزا دے کر اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ وہ مظلوم ہے۔ اس طرح وہ چور نظام عدل کو نہ صرف للکارنے کی پوزیشن میں آجاتا ہے بلکہ نظام عدل کی ساکھ پر سوالیہ نشان اٹھانے پر بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔ اسی لیے احتساب جب تک برابر اور سب کے لیے نہ ہو مکمل نہیں ہو تا اور قانون بھی جب تک سب کے لیے برابر نہ ہو مکمل نہیں ہو تا۔
میاں محمد نواز شریف پاکستان کے نظا م عدل پر ابھی تک اسی لیے سوال اٹھانے پر کامیاب ہوئے ہیں کہ عدل کے جس پیمانے پر انھیں سزا دی جائے گی اس میں وہ تنہا ہیں جب کہ جو جرم انھوں نے کیا ہے اس طرح کے کئی مجرم سیاست اور دیگر شعبوں میں آزاد پھر رہے ہیں۔ جس پیمانے پر نواز شریف کو نا اہل کیا گیا جب تک اس پیمانے پر ملک کے تمام سیاستدانوں کو نہیں تولا جائے گا تب تک نظام عدل کی ساکھ داؤ پر ہی رہے گی۔ پاکستان کا نظام عدل ایک امتحان سے گزر رہا ہے۔ اور اگر وہ اس امتحان میں عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا تو عدالتی نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان گہرے سے گہرے ہوتے جائیں گے۔
پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اب تک بھٹو کا فیصلہ سب سے متنازعہ رہا ہے۔ اور آج بھی دراصل نواز شریف بھٹو کے فیصلے کے پیچھے ہی چھپ کر پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نواز شریف یہی کہہ رہے ہیں جس طرح بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کو عوامی قبولیت حاصل نہیں ہوئی تھی اسی طرح نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے کو بھی عوامی قبولیت حاصل نہیں ہو گی۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی عدلیہ کو بھی بھٹو کے فیصلے کے محرکات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر بھٹو کے فیصلے کے بعد عدلیہ ہر قاتل کے ساتھ اس کے پیچھے چھپے ہاتھ کو بھی پھانسی کی سزا سنا دیتی اور یہ قانون مسلمہ حقیقت بن جاتا تو بھٹو کی پھانسی کے فیصلہ کو بھی عوامی قبولیت حا صل ہو جاتی۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بھٹو کے بعد بھی پاکستان میں طاقتور وڈیروں اور سیاستدانوں نے اپنے مخالفین کو قتل کروایا۔ لیکن ان کے مقدمات کے فیصلے بھٹو کے مقدمہ کی طرز پر نہیں کیے گئے۔ جس کے نتیجے میں بھٹو کے سیاسی وارثان عوام کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوئے کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ کیا پاکستان کی عدلیہ نے ماضی سے سبق سیکھا ہے۔ اسی پر نواز شریف کی سیاست کا دارومدار ہے۔ اب جب سراج الحق کی پٹیشن، جس میں یہ پانامااسکینڈل میں شامل تمام افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، کی سماعت کے لیے بنچ بن گیا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پانامااسکینڈل میں شامل ہر فرد کے ساتھ نظام عدل ویسا ہی سلوک کرے جیسا نواز شریف کے ساتھ ہوا ہے۔ عدلیہ کو اپنا معیار اور انصاف کے اصول برقرار رکھنے ہو نگے۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ نوازشریف کو سزاد لوانے میں پیش پیش عمران خان، شیخ رشید پاناماکے باقی کرداروں کو سزا دلوانے کے لیے عدلیہ کے ساتھ نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ تو عدلیہ کے سہارے اپنی سیاسی لڑائی لڑ رہے تھے۔ وہ اب عدلیہ کے ساتھ نہیں ہیں۔ کیونکہ اب باقی لسٹ میں تو ان کے دوست بھی شامل ہیں۔ یہ تو مرد قلندر درویش سراج الحق ہی ہے جو دیوانہ وار عدالت میں پہنچ گیا ہے۔ کہ ملک کی دولت کو باہر منتقل کرنے والوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچنا چاہیے۔ اگر باقی بچ گئے تو نواز شریف بھی بچ جائے گا۔
عدلیہ کو یہ سمجھنا ہو گا کہ وہ بھی عوام کی عدالت میں جوابدہ ہے۔ یہ درست ہے کہ عدلیہ کو فیصلہ کرتے وقت عوامی رائے کو نہیں بلکہ قانون اور آئین کو سامنے رکھنا ہوتا ہے لیکن جب اس قانون اور آئین کے تحت سزائیں سب کو نہ ملیں تو عدلیہ عوامی عدالت میں اپنا مقدمہ ہار جاتی ہے۔ عدلیہ کو اپنی عوامی ساکھ کو بہر حال مد نظر رکھنا ہوگا۔ سراج الحق کی پٹیشن میں پاناماکے باقی کرداروں جن کی تعداد تین سو سے زائد ہے کو بھی انصا ف کے اسی معیار سے گزرنا ہو گا جس سے نواز شریف اور ان کے اہل خانہ گزرے ہیں۔ جو فیصلہ نواز شریف کے اقامے پر ہوا ہے وہی فیصلہ ہر اقامے پر ہونا چاہیے۔ قطع نظر وہ کون ہے۔
اسی طرح میرے کچھ دوستوں کی رائے ہے کہ نواز شریف کے بعد عمران خان کو نا اہل نہ قرار دیا جائے کیونکہ اس سے ملک میں سیاسی انتشار میں اضافہ ہو گا۔ میرے ان دوستوں کا موقف ہے کہ پہلے ہی ایک سیاسی جماعت عدلیہ کے خلاف ہو چکی ہے روز عدلیہ پر حملہ کر رہی ہے ایسے میں اگر دوسری بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر کو بھی نا اہل قرار دے دیا گیا تو عدلیہ پر تو ہر طرف سے حملہ ہو جائے گا۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ میرے یہ دوست نادان ہیں۔ انھوں نے نہ تو ماضی سے سبق سیکھا ہے اور نہ ہی یہ اداروں کے دوست ہیں۔
یہ در پردہ نواز شریف کے دوست ہیں۔ اگر پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے عمران خان کو ایک رتی رعایت بھی دی اور اس ایک رتی رعایت کی وجہ سے وہ بچ جاتے ہیں تو ملک میں عدلیہ کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ نواز شریف کے بیانیہ کو تقویت ملے گی۔ عدلیہ عوامی عدالت میں ہار جائے گی۔ نادان دوست کہہ رہے ہیں کہ جہانگیر ترین کو نااہل کر دینے سے معاملہ حل ہو جائے گا۔ نہیں اگر یہ ثابت ہو گیا کہ پاناماکے فیصلہ کے معیار کے مطابق عمران خان کی نا اہلی بنتی تھی اور عدلیہ نے نہیں کی تو عدلیہ کی ساکھ کو نہ صرف نا قا بل تلافی نقصان پہنچے گا بلکہ نواز شریف کی نا اہلی بھی بے معنی ہو جائے گی۔ نواز شریف ہار کر بھی جیت جائیں گے۔
دوسری طرف اگر عمران خان بھی پاناماکے فیصلہ کے معیار کے مطابق نا اہل ہو جاتے ہیں ۔ تو نہ صرف نواز شریف کی تحریک اپنی موت آپ مر جائے گی بلکہ عمران خان بھی کوئی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہو نگے۔ ملک میں اداروں کے وقار میں قابل قدر اضافہ ہو گا۔ عدلیہ کا وقار بلند ہو گا۔ یہ تاثر بھی ختم ہو جائے گا کہ یہ احتساب کسی فرد واحد کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ملک ایک روشن مستقبل کی طرف چل سکے گا۔ کاش سراج الحق جس طرح نواز شریف کے خلاف مقدمہ میں فریق تھے عمران خان کے خلاف مقدمہ میں بھی فریق بنتے اس سے ان کے وقار میں قابل قدر اضافہ ہو تا۔ پاکستان کی عدلیہ کے پاس اس وقت ایک سنہری موقع ہے وہ پاکستان کو ایک کرپشن فری ملک کی طرف لے جا سکتی ہے۔ ہر اس شخص کو جس کی دولت بیرون ملک ہے اس کو پاکستان کی سیاست سے آؤٹ کر سکتی ہے۔ سیاست کو کاروبار بنانیوالوں کو کیفر کردار تک پہنچا سکتی ہے۔ سیاست میں پیسے کے کردار کو ختم کر سکتی ہے۔ ملک میں پیسے والوں کی سیاست کو ختم کر سکتی ہے۔ لینڈ کروزر کی سیاست کو ختم کر سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے ہماری عدلیہ کو ہر کیس کو پاناماکیس سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ ورنہ عدلیہ ایک مرتبہ پھر رسوا ہو جائے گی۔ جیسے بھٹو کیس میں ہوئی تھی۔
عدلیہ کو اور دیگر ادروں کو سمجھنا ہو گا کہ چور تو شور مچائیں گے۔ انھیں ان کے شور سے متاثر نہیں ہونا بلکہ فیصلے کرنا ہونگے۔ اسی لیے کہتے ہیں عدلیہ نہیں اس کے فیصلے بولتے ہیں۔ اور یہ فیصلوں کے بولنے کا وقت ہے۔
میاں محمد نواز شریف پاکستان کے نظا م عدل پر ابھی تک اسی لیے سوال اٹھانے پر کامیاب ہوئے ہیں کہ عدل کے جس پیمانے پر انھیں سزا دی جائے گی اس میں وہ تنہا ہیں جب کہ جو جرم انھوں نے کیا ہے اس طرح کے کئی مجرم سیاست اور دیگر شعبوں میں آزاد پھر رہے ہیں۔ جس پیمانے پر نواز شریف کو نا اہل کیا گیا جب تک اس پیمانے پر ملک کے تمام سیاستدانوں کو نہیں تولا جائے گا تب تک نظام عدل کی ساکھ داؤ پر ہی رہے گی۔ پاکستان کا نظام عدل ایک امتحان سے گزر رہا ہے۔ اور اگر وہ اس امتحان میں عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا تو عدالتی نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان گہرے سے گہرے ہوتے جائیں گے۔
پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اب تک بھٹو کا فیصلہ سب سے متنازعہ رہا ہے۔ اور آج بھی دراصل نواز شریف بھٹو کے فیصلے کے پیچھے ہی چھپ کر پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نواز شریف یہی کہہ رہے ہیں جس طرح بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کو عوامی قبولیت حاصل نہیں ہوئی تھی اسی طرح نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے کو بھی عوامی قبولیت حاصل نہیں ہو گی۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی عدلیہ کو بھی بھٹو کے فیصلے کے محرکات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر بھٹو کے فیصلے کے بعد عدلیہ ہر قاتل کے ساتھ اس کے پیچھے چھپے ہاتھ کو بھی پھانسی کی سزا سنا دیتی اور یہ قانون مسلمہ حقیقت بن جاتا تو بھٹو کی پھانسی کے فیصلہ کو بھی عوامی قبولیت حا صل ہو جاتی۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بھٹو کے بعد بھی پاکستان میں طاقتور وڈیروں اور سیاستدانوں نے اپنے مخالفین کو قتل کروایا۔ لیکن ان کے مقدمات کے فیصلے بھٹو کے مقدمہ کی طرز پر نہیں کیے گئے۔ جس کے نتیجے میں بھٹو کے سیاسی وارثان عوام کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوئے کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ کیا پاکستان کی عدلیہ نے ماضی سے سبق سیکھا ہے۔ اسی پر نواز شریف کی سیاست کا دارومدار ہے۔ اب جب سراج الحق کی پٹیشن، جس میں یہ پانامااسکینڈل میں شامل تمام افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، کی سماعت کے لیے بنچ بن گیا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پانامااسکینڈل میں شامل ہر فرد کے ساتھ نظام عدل ویسا ہی سلوک کرے جیسا نواز شریف کے ساتھ ہوا ہے۔ عدلیہ کو اپنا معیار اور انصاف کے اصول برقرار رکھنے ہو نگے۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ نوازشریف کو سزاد لوانے میں پیش پیش عمران خان، شیخ رشید پاناماکے باقی کرداروں کو سزا دلوانے کے لیے عدلیہ کے ساتھ نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ تو عدلیہ کے سہارے اپنی سیاسی لڑائی لڑ رہے تھے۔ وہ اب عدلیہ کے ساتھ نہیں ہیں۔ کیونکہ اب باقی لسٹ میں تو ان کے دوست بھی شامل ہیں۔ یہ تو مرد قلندر درویش سراج الحق ہی ہے جو دیوانہ وار عدالت میں پہنچ گیا ہے۔ کہ ملک کی دولت کو باہر منتقل کرنے والوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچنا چاہیے۔ اگر باقی بچ گئے تو نواز شریف بھی بچ جائے گا۔
عدلیہ کو یہ سمجھنا ہو گا کہ وہ بھی عوام کی عدالت میں جوابدہ ہے۔ یہ درست ہے کہ عدلیہ کو فیصلہ کرتے وقت عوامی رائے کو نہیں بلکہ قانون اور آئین کو سامنے رکھنا ہوتا ہے لیکن جب اس قانون اور آئین کے تحت سزائیں سب کو نہ ملیں تو عدلیہ عوامی عدالت میں اپنا مقدمہ ہار جاتی ہے۔ عدلیہ کو اپنی عوامی ساکھ کو بہر حال مد نظر رکھنا ہوگا۔ سراج الحق کی پٹیشن میں پاناماکے باقی کرداروں جن کی تعداد تین سو سے زائد ہے کو بھی انصا ف کے اسی معیار سے گزرنا ہو گا جس سے نواز شریف اور ان کے اہل خانہ گزرے ہیں۔ جو فیصلہ نواز شریف کے اقامے پر ہوا ہے وہی فیصلہ ہر اقامے پر ہونا چاہیے۔ قطع نظر وہ کون ہے۔
اسی طرح میرے کچھ دوستوں کی رائے ہے کہ نواز شریف کے بعد عمران خان کو نا اہل نہ قرار دیا جائے کیونکہ اس سے ملک میں سیاسی انتشار میں اضافہ ہو گا۔ میرے ان دوستوں کا موقف ہے کہ پہلے ہی ایک سیاسی جماعت عدلیہ کے خلاف ہو چکی ہے روز عدلیہ پر حملہ کر رہی ہے ایسے میں اگر دوسری بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر کو بھی نا اہل قرار دے دیا گیا تو عدلیہ پر تو ہر طرف سے حملہ ہو جائے گا۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ میرے یہ دوست نادان ہیں۔ انھوں نے نہ تو ماضی سے سبق سیکھا ہے اور نہ ہی یہ اداروں کے دوست ہیں۔
یہ در پردہ نواز شریف کے دوست ہیں۔ اگر پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے عمران خان کو ایک رتی رعایت بھی دی اور اس ایک رتی رعایت کی وجہ سے وہ بچ جاتے ہیں تو ملک میں عدلیہ کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ نواز شریف کے بیانیہ کو تقویت ملے گی۔ عدلیہ عوامی عدالت میں ہار جائے گی۔ نادان دوست کہہ رہے ہیں کہ جہانگیر ترین کو نااہل کر دینے سے معاملہ حل ہو جائے گا۔ نہیں اگر یہ ثابت ہو گیا کہ پاناماکے فیصلہ کے معیار کے مطابق عمران خان کی نا اہلی بنتی تھی اور عدلیہ نے نہیں کی تو عدلیہ کی ساکھ کو نہ صرف نا قا بل تلافی نقصان پہنچے گا بلکہ نواز شریف کی نا اہلی بھی بے معنی ہو جائے گی۔ نواز شریف ہار کر بھی جیت جائیں گے۔
دوسری طرف اگر عمران خان بھی پاناماکے فیصلہ کے معیار کے مطابق نا اہل ہو جاتے ہیں ۔ تو نہ صرف نواز شریف کی تحریک اپنی موت آپ مر جائے گی بلکہ عمران خان بھی کوئی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہو نگے۔ ملک میں اداروں کے وقار میں قابل قدر اضافہ ہو گا۔ عدلیہ کا وقار بلند ہو گا۔ یہ تاثر بھی ختم ہو جائے گا کہ یہ احتساب کسی فرد واحد کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ملک ایک روشن مستقبل کی طرف چل سکے گا۔ کاش سراج الحق جس طرح نواز شریف کے خلاف مقدمہ میں فریق تھے عمران خان کے خلاف مقدمہ میں بھی فریق بنتے اس سے ان کے وقار میں قابل قدر اضافہ ہو تا۔ پاکستان کی عدلیہ کے پاس اس وقت ایک سنہری موقع ہے وہ پاکستان کو ایک کرپشن فری ملک کی طرف لے جا سکتی ہے۔ ہر اس شخص کو جس کی دولت بیرون ملک ہے اس کو پاکستان کی سیاست سے آؤٹ کر سکتی ہے۔ سیاست کو کاروبار بنانیوالوں کو کیفر کردار تک پہنچا سکتی ہے۔ سیاست میں پیسے کے کردار کو ختم کر سکتی ہے۔ ملک میں پیسے والوں کی سیاست کو ختم کر سکتی ہے۔ لینڈ کروزر کی سیاست کو ختم کر سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے ہماری عدلیہ کو ہر کیس کو پاناماکیس سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ ورنہ عدلیہ ایک مرتبہ پھر رسوا ہو جائے گی۔ جیسے بھٹو کیس میں ہوئی تھی۔
عدلیہ کو اور دیگر ادروں کو سمجھنا ہو گا کہ چور تو شور مچائیں گے۔ انھیں ان کے شور سے متاثر نہیں ہونا بلکہ فیصلے کرنا ہونگے۔ اسی لیے کہتے ہیں عدلیہ نہیں اس کے فیصلے بولتے ہیں۔ اور یہ فیصلوں کے بولنے کا وقت ہے۔