کالنگ ریٹس پر امریکی اعتراض حصص مارکیٹ بڑی مندی سے بچ گئی
امریکی اعتراض کی خبر پر ٹیلی کام سیکٹر میں فروخت،98 پوائنٹس تنزلی کے بعد کھادسیکٹرمیں خریداری سے بہتری۔
مندی 29 پوائنٹس تک محدود، انڈیکس 17964 ہوگیا، 59 فیصد حصص کی قیمتیں کم، مزید 5 ارب 93 کروڑ کا نقصان۔ فوٹو : فائل
کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کو کاروباری صورتحال مختلف نوعیت کی اطلاعات کے زیراثر رہی اور اتارچڑھائو کے بعد مندی کا تسلسل قائم رہا تاہم ایک کثیرقومی ادارے کے حصص میں ہونے والی خریداری کے باعث مارکیٹ نمایاں مندی سے بچ گئی اور انڈیکس کی 17900 کی حد گر کر بحال ہوگئی۔
مندی کے باعث 59 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید5 ارب 93 کروڑ7 لاکھ47 ہزار651 روپے ڈوب گئے، پاکستان کے نئے انٹرنیشنل کالنگ ٹیرف پر امریکی اعتراض اور پرانے ٹیرف کے مطابق ادائیگیوں کی خبر نے کیپٹل مارکیٹ کی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کیے جس کی وجہ سے پی ٹی سی ایل سمیت ٹیلی کام سیکٹر کی دیگر کمپنیوں کے حصص پر فروخت کا رحجان غالب ہوا جس سے ایک موقع پر 98.43 پوائنٹس کی کمی سے انڈیکس کی 17900 کی حد بھی گرگئی تھی لیکن اس دوران حکومت کی جانب سے اینگروکے لیے گیس ٹیرف نہ بڑھانے اور پرانے ٹیرف پر ہی قدرتی گیس فراہم کرنے کی خبر بھی مارکیٹ میں آئی جس نے مندی کی شدت میں کمی کی اور انڈیکس کی17900 کی حد بحال ہوگئی۔
کاروباری دورانیے میں ٹیلی کام، بینکنگ اور سیمنٹ سیکٹر پر فروخت کا رحجان غالب رہا جو مارکیٹ کی مزید تنزلی کا سبب بنا، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، بینکوں و مالیاتی اداروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر25 لاکھ 17 ہزار754 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس میں سے بیشتر اینگروکارپوریشن کے علاوہ بعض دیگر شعبوں کی کمپنیوں پر کی گئی جبکہ میوچل فنڈ کی جانب سے10 لاکھ29 ہزار30 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے 6 لاکھ35 ہزار804 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے8 لاکھ 52 ہزار919 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔
مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 28.73 پوائنٹس کی کمی سے 17964.18 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس11.41 پوائنٹس کی کمی سے 14590.74 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس105.92 پوائنٹس کی کمی سے 31215.45 ہوگیا۔
کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 27.75 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر 23 کروڑ58 لاکھ47 ہزار780 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار336 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں114 کے بھائو میں اضافہ، 198 کے داموں میں کمی اور24 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں کولگیٹ پامولیو کے بھائو84 روپے بڑھ کر1764.01 روپے اور وائتھ پاکستان کے بھائو 40 روپے بڑھ کر940 روپے ہوگئے جبکہ یونی لیور پاکستان کے بھائو103.75 روپے کم ہوکر11000 روپے اور باٹا پاکستان کے بھائو 67.67 روپے کم ہو کر 1325 روپے ہوگئے۔
مندی کے باعث 59 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید5 ارب 93 کروڑ7 لاکھ47 ہزار651 روپے ڈوب گئے، پاکستان کے نئے انٹرنیشنل کالنگ ٹیرف پر امریکی اعتراض اور پرانے ٹیرف کے مطابق ادائیگیوں کی خبر نے کیپٹل مارکیٹ کی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کیے جس کی وجہ سے پی ٹی سی ایل سمیت ٹیلی کام سیکٹر کی دیگر کمپنیوں کے حصص پر فروخت کا رحجان غالب ہوا جس سے ایک موقع پر 98.43 پوائنٹس کی کمی سے انڈیکس کی 17900 کی حد بھی گرگئی تھی لیکن اس دوران حکومت کی جانب سے اینگروکے لیے گیس ٹیرف نہ بڑھانے اور پرانے ٹیرف پر ہی قدرتی گیس فراہم کرنے کی خبر بھی مارکیٹ میں آئی جس نے مندی کی شدت میں کمی کی اور انڈیکس کی17900 کی حد بحال ہوگئی۔
کاروباری دورانیے میں ٹیلی کام، بینکنگ اور سیمنٹ سیکٹر پر فروخت کا رحجان غالب رہا جو مارکیٹ کی مزید تنزلی کا سبب بنا، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، بینکوں و مالیاتی اداروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر25 لاکھ 17 ہزار754 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس میں سے بیشتر اینگروکارپوریشن کے علاوہ بعض دیگر شعبوں کی کمپنیوں پر کی گئی جبکہ میوچل فنڈ کی جانب سے10 لاکھ29 ہزار30 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے 6 لاکھ35 ہزار804 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے8 لاکھ 52 ہزار919 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔
مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 28.73 پوائنٹس کی کمی سے 17964.18 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس11.41 پوائنٹس کی کمی سے 14590.74 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس105.92 پوائنٹس کی کمی سے 31215.45 ہوگیا۔
کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 27.75 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر 23 کروڑ58 لاکھ47 ہزار780 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار336 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں114 کے بھائو میں اضافہ، 198 کے داموں میں کمی اور24 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں کولگیٹ پامولیو کے بھائو84 روپے بڑھ کر1764.01 روپے اور وائتھ پاکستان کے بھائو 40 روپے بڑھ کر940 روپے ہوگئے جبکہ یونی لیور پاکستان کے بھائو103.75 روپے کم ہوکر11000 روپے اور باٹا پاکستان کے بھائو 67.67 روپے کم ہو کر 1325 روپے ہوگئے۔