اقتصادی شرح نمو 4 فیصد رہے گی بجٹ اہداف پر نظرثانی

رواں مالی سال بجٹ خسارہ 6.5، ٹیکس ٹوجی ڈی پی شرح 10.5 اور قرضے جی ڈی پی کے 60.4 فیصد تک ہوجائینگے۔


Numainda Express March 09, 2013
سال 2013-14 کے لیے بجٹ 3.495 ٹریلین، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 2675 ارب روپے مقرر کیے جانے کی تجویز ہے، دستاویز فوٹو : فائل

MULTAN: وفاقی حکومت کی طرف سے آئندہ مالی سال 2013-14 کیلیے 1550 ارب روپے سے زائد خسارے کے حامل وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 3.4 ٹریلین روپے سے زائد رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ رواں مالی سال کے بجٹ اہداف نظرثانی کرتے ہوئے کم کردیے گئے۔

''ایکسپریس'' کو وزارت خزانہ کی طرف سے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے تیار کردہ خدوخال میں دیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا حجم 3.495 ٹریلین روپے سے زیادہ متوقع ہے جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 2675 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا مجموعی خسارہ1620 ارب روپے متوقع ہے تاہم صوبوں کا بجٹ 70 ارب روپے فاضل رہنے کی توقع ہے جس سے وفاقی بجٹ خسارہ کم ہو کر 1550 ارب روپے کے لگ بھگ متوقع ہے، اس کے علاوہ آئندہ بجٹ میں صوبوں کو 393 ارب روپے کیے جائیں گے۔

4

دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں دفاع کیلیے 627 ارب روپے جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی (ڈیٹ سروسنگ) کیلیے 1150 ارب روپے مختص کیے جانے کی توقع ہے، قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت آئندہ مالی سال کے دوران صوبوں کو 1628 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے جبکہ افراط زر کی شرح کا ہدف 9 فیصد تک مقرر کیے جانے کی توقع ہے، جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4.5 فیصدرکھنے کی تجویز دی گئی ہے،علاوہ ازیں آئندہ مالی سال کیلیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 2.675 ٹریلین روپے، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 6 کھرب 89 ارب روپے اور خام وصولیوں کا ہدف3.522 ٹریلین روپے تاہم مجموعی خالص ریونیو کا ہدف 1.894 ٹریلین روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ کی مد میں 450 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق رواں مالی سال کیلیے مقررہ بجٹ اہداف نظر ثانی کر کے کم کردیے گئے ہیں جس کے مطابق رواں مالی سال کیلیے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4.3 فیصد سے کم کرکے 4فیصد، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کا ہدف 11.1 فیصد سے کم کرکے10.5 فیصد، مالیاتی خسارے کا ہدف4.7 فیصد سے بڑھا کر6.5 فیصد، جی ڈی پی کے لحاظ سے قرضوں کی شرح (ڈیٹ ٹو جی ڈی پی)کا ہدف 56.6فیصد سے بڑھا کر60.4 فیصد اور جی ڈی پی کے لحاظ سے اخراجات جاریہ کی شرح کا ہدف منفی 1.2 فیصد سے کم کرکے منفی 0.6 فیصد کردیا گیا ہے۔