روسی شہریوں کا ایڈز کو بیماری ہی تسلیم کرنے سے انکار
ایچ آئی وی ایڈز ایک من گھڑت کہانی ہے جس کو مغرنی دنیا نے خوف کے لئے پیدا کیا ہے۔
روس میں ایڈزسے متعلق افواہوں نے خطرناک رخ اختیارکرلیاہے:فوٹو:انٹرنیٹ
DERA GHAZI KHAN:
روس میں ایڈز کو ایک من گھڑت کہانی تصورکرنے والے ہزاروں ایچ آئی وی متاثرین نے ادویات کو ترک کردیا۔
ایڈز متاثرین کا ماننا ہے کہ ایچ آئی وی ایڈز نام کی کوئی بیماری وجود ہی نہیں رکھتی، اس خوف کو مغربی دنیا نے پیدا کیا ہے اور یہ ایک من گھڑت کہانی ہے۔ روسی حکومت کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک آن لائن ویب سائٹ پر ایڈز کے حوالے سے مواد موجود تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایچ آئی وی ایڈز کا کوئی وجود نہیں ہے اور یہ کہ اس کو مغربی دنیا نے ایچ آئی وی ایڈز کی من گھڑت کہانی بنائی ہے تاکہ باقی دنیا میں خوف پیدا کیا جاسکے۔
روس کے شہر سینٹ پیٹربرگ کے معروف اسپتال بوٹکن کے سینئر ڈاکٹرکا کہنا ہے کہ ہزاروں ایچ آئی وی ایڈز متاثرین نے اس افواہ پریقین کرتے ہوئے ادویات کا استعمال ترک کردیا ہے جو انتہائی خطرناک ہے، نگہداشت میں نہ رہنے والے مریض لمبے عرصے تک اس مرض کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں اور آخرکار اس مرض ہی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ حال ہی میں ایک 10 سالہ بچی اس موت کا شکار ہوئی کیونکہ اس کے خاندان کا ماننا تھا کہ ایچ آئی وی ایڈز کا کوئی وجود نہیں ہے۔
واضح رہے کہ دنیا بھرمیں ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ اور اس سے ہونے والی اموات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے جب کہ رواں سال مشرقی یورپ اورجنوبی ایشیا میں ایڈز کے مرض میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ روس میں ایچ آئی وی ایڈز دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مرض بن گیا ہے۔
روس میں ایڈز سے انکار کرنے والے افراد کے منظم گروہ اور پلیٹ فارم سوشل میڈیا پر کام کررہے ہیں۔ روس میں مقبول فیس بک جیسے ایک پلیٹ فارم وی کے پر ایسے کئی گروپس موجود ہیں جہاں لوگ ایڈز کی نفی میں تبادلہ خیال کرتے ہیں اور اپنی اپنی جانب سے من گھڑت ثبوت پیش کرتے ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق ایسے افراد معصوم بچوں کو بھی ایڈز کی دوا نہیں دے رہے جو ان کے نزدیک سب بڑا مسئلہ ہے۔ دوسری جانب ایڈز کے خلاف لڑنے والے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ وہ اب تک نہیں جانتے ہیں کہ ان باتوں سے کتنے لوگ متاثر ہوکر ایڈز یا ایچ آئی وی کا علاج چھوڑ چکے ہیں۔
روس میں ایڈز کو ایک من گھڑت کہانی تصورکرنے والے ہزاروں ایچ آئی وی متاثرین نے ادویات کو ترک کردیا۔
ایڈز متاثرین کا ماننا ہے کہ ایچ آئی وی ایڈز نام کی کوئی بیماری وجود ہی نہیں رکھتی، اس خوف کو مغربی دنیا نے پیدا کیا ہے اور یہ ایک من گھڑت کہانی ہے۔ روسی حکومت کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک آن لائن ویب سائٹ پر ایڈز کے حوالے سے مواد موجود تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایچ آئی وی ایڈز کا کوئی وجود نہیں ہے اور یہ کہ اس کو مغربی دنیا نے ایچ آئی وی ایڈز کی من گھڑت کہانی بنائی ہے تاکہ باقی دنیا میں خوف پیدا کیا جاسکے۔
روس کے شہر سینٹ پیٹربرگ کے معروف اسپتال بوٹکن کے سینئر ڈاکٹرکا کہنا ہے کہ ہزاروں ایچ آئی وی ایڈز متاثرین نے اس افواہ پریقین کرتے ہوئے ادویات کا استعمال ترک کردیا ہے جو انتہائی خطرناک ہے، نگہداشت میں نہ رہنے والے مریض لمبے عرصے تک اس مرض کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں اور آخرکار اس مرض ہی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ حال ہی میں ایک 10 سالہ بچی اس موت کا شکار ہوئی کیونکہ اس کے خاندان کا ماننا تھا کہ ایچ آئی وی ایڈز کا کوئی وجود نہیں ہے۔
واضح رہے کہ دنیا بھرمیں ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ اور اس سے ہونے والی اموات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے جب کہ رواں سال مشرقی یورپ اورجنوبی ایشیا میں ایڈز کے مرض میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ روس میں ایچ آئی وی ایڈز دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مرض بن گیا ہے۔
روس میں ایڈز سے انکار کرنے والے افراد کے منظم گروہ اور پلیٹ فارم سوشل میڈیا پر کام کررہے ہیں۔ روس میں مقبول فیس بک جیسے ایک پلیٹ فارم وی کے پر ایسے کئی گروپس موجود ہیں جہاں لوگ ایڈز کی نفی میں تبادلہ خیال کرتے ہیں اور اپنی اپنی جانب سے من گھڑت ثبوت پیش کرتے ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق ایسے افراد معصوم بچوں کو بھی ایڈز کی دوا نہیں دے رہے جو ان کے نزدیک سب بڑا مسئلہ ہے۔ دوسری جانب ایڈز کے خلاف لڑنے والے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ وہ اب تک نہیں جانتے ہیں کہ ان باتوں سے کتنے لوگ متاثر ہوکر ایڈز یا ایچ آئی وی کا علاج چھوڑ چکے ہیں۔