حافظ محمد سعید کی رہائی کے بعد کا منظر نامہ

امریکا کو اب حا فظ سعید میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ہاں بھارت میں ضرور شور ہے

msuherwardy@gmail.com

حافظ سعید کی دس ماہ بعد رہائی بھی اتنا ہی بڑا معمہ ہے جتنا ان کی نظر بندی تھی۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں تھا تو انھیں نظر بند کیوں گیا۔ اگر کوئی ثبوت نہیں تھا تو کیوں پکڑا گیا۔ انھیں بھی نواز شریف کی طرح یہ سوال کرنے کا پورا حق ہے کہ مجھے کیوں پکڑا گیا تھا۔ لیکن حافظ سعید کی اچھی بات یہی ہے کہ وہ زیادہ سوال نہیں کرتے بلکہ کام کرنے پر یقین کرتے ہیں۔ حافظ سعید نے اپنی رہائی پر کوئی سوال نہیں کیا ہے۔ اسی طرح انھوں نے اپنی نظر بندی پر بھی کوئی سوال نہیں کیا تھا۔

بہر حال حافظ سعید اپنے موقف پر ڈٹے رہنے والے شخص ہیں۔ مفاہمت اور لچک ان کی ڈکشنری میں نہیں ہے۔یہ ان کو کوئی پہلی دفعہ نظر بند نہیں کیا گیا تھا۔ وہ پہلے بھی دو دفعہ نظر بند ہوئے ہیں۔ اور اسی طرح رہا بھی ہوئے ہیں۔ شاید اب انھیں نظر بند کرنے والوں کو بھی پتہ ہے کہ اگر انھیں غلط نظر بند کیا بھی گیا تو وہ عدالت سے رہا ہو جائیں گے۔ لیکن یہ کوئی اچھی رسم نہیں ہے۔ا س سے پہلے انھیں سپریم کورٹ نے بھی رہا کیا ہے۔ لیکن مجھے خدشہ ہے کہ انھیں پھر نظر بند بھی کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ حافظ سعید ایک قانون پسند شہری ہیں۔ اور انھوں نے آج تک پاکستان میں پاکستان کے آئین و قانون کی مکمل پاسداری کی ہے۔ ان پر تو دفعہ 144کی خلاف ورزی کا بھی کوئی مقدمہ نہیں ہے۔ ان کے جلسے اور جلوسوں میں آج تک ایک ٹریفک لائٹ بھی نہیں ٹوٹی۔ لیکن پھر بھی انھیں اب باقاعدگی سے نظر بندی سے مسلسل لطف اندوز ہونا پڑتا ہے۔ یہ قانون پسندی بھی ان کی نظر بندی نہیں روک سکتی۔

اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ اور ثبوت نہیں ہوتا تو آخر کیا مجبوری ہوتی ہے کہ حکومت انھیں نظر بند کر دیتی ہے۔ بات سادہ ہے جس طرح ہمارے ملک میں گاؤں کا چوہدری اپنے ناپسندیدہ افراد کو تھانے میں گرفتار کروا دیتا ہے۔ اس کے لیے ان کا کوئی جرم کرنا ضروری نہیں ہے۔ صرف چوہدری کی نا پسندیدگی ہی کافی ہوتی ہے۔ اسی طرح حافظ سعید بھی دنیا کے چوہدری امریکا کے دباؤ پر ہی نظر بند ہوتے ہیں۔


اس دفعہ بھی حکومت پاکستان نے ٹرمپ کی ناراضی کے خوف سے ان کو نظر بند کر دیا تھا۔ فارغ ہونے والے طارق فاطمی ہی اس تھیوری کے روح رواں تھے کہ اگر حافظ سعید کے خلاف کاروائی نہ کی گئی تو امریکا پاکستان کے خلاف سخت کاروائی کرے گا۔ یہ وہ وقت تھا جب ٹرمپ کے ساتھیوں کو بھی ٹرمپ کی پالیسی کا کوئی علم نہیں تھا۔ کسی کو کچھ نہیں پتہ تھا کہ ٹرمپ کیا کریں گے۔ اس لیے پاکستان کے وسیع تر مفاد میں سب حافظ سعید کی نظر بندی پر مان گئے۔ لیکن پھر وقت گزرتا گیا۔ دس ماہ گزر گئے اور اب امریکی کانگریس میں پاکستان کے حوالے سے جو نئی قرار داد آئی ہے اس میں لشکر طیبہ کو نکال دیا گیا۔ صرف حقانی نیٹ ورک پر کارروائی کی شرط عائد کی گئی ہے۔

یہ امریکا کے لیے ایک گناہ بے لذت سے زیادہ کچھ نہیں۔ اسی لیے کانگریس کے دہشتگردی میں تعاون کی امداد کے بل میں سے لشکر طیبہ کو نکال دیا گیا ہے۔ آپ سوال کر سکتے ہیں کہ اگر ایسا ہے تو حافظ سعید کی رہائی پر امریکا کے وائٹ ہاؤس، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور پنٹاگون نے مذمتی بیانات کیوں جاری کیے ہیں۔ جو لوگ امریکا کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہاں ان تینوں اداروں کی طرف سے صحافیوں کو روزانہ بریفنگ دی جاتی ہے جہاں صحافی ہر قسم کا سوال کر سکتے ہیں۔

بھارت نواز صحافیوں نے ان تینوں پریس بریفنگ میں حافظ سعید کی رہائی پر سوال کیے اور تینوں موقع پر مذمتی بیان جا ری کر دیے گئے۔ ہمیں سمجھنا چاہیے امریکا حا فظ سعید کی رہائی کو خوش آیند تو قرار نہیں دے سکتا۔ اس لیے جو کہا گیا وہ کہنا امریکا کی مجبوری ہے۔ لیکن پالیسی کو کانگریس کے بل کی روشنی میں دیکھا جائے۔ امریکا کو اب حا فظ سعید میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ہاں بھارت میں ضرور شور ہے۔لیکن بھارت کا دباؤ کوئی اہم نہیں ہے۔ بھارت کو بھی پاکستان پر دباؤ ڈلوانے کے لیے امریکا کی ضرورت رہتی ہے۔ امریکا کو اپنے مفادات عزیز ہیں۔

یہ درست ہے کہ سیاست ایک مشکل کھیل ہے۔ حافظ سعید کو اس کھیل کو اس کے قواعد کے مطابق کھیلنا ہو گا۔ عوام سے ووٹ لینا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے عوام سے عوام کی بات کرنی ہو گی۔ حافظ سعید کو ایک سیاسی حافظ سعید بننے کے لیے عوامی ہونا ہو گا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ عوامی نہیں ہیں لیکن ووٹ لینے کے لیے صرف کشمیر کا وکیل ہونا کافی نہیں۔ انھیں عوام کو یہ یقین دلانا ہو گا کہ وہ عوام کے تمام مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انھیں پٹرول کی بڑھتی قیمت اور مہنگائی پر بھی بات کرنی ہو گی۔ دیگر سیاسی مسائل میں بھی اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔

انھیں میدان سیاست میں ایک ایسا ماحول بنانا ہو گا کہ میدان سیاست کے تمام کھلاڑی انھیں بھی ایک سیاسی کھلاڑی کے طور پر قبول کرلیں۔ ان کو ایک سیاسی نظریہ کے طور پر سامنے آنا ہو گا۔ ابھی تک ان کی گفتگو کا مرکز بھارت اور کشمیر ہوتا ہے لیکن انھیں یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اس سے آگے بھی جانتے ہیں۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ ان کا پارلیمنٹ پہنچنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ ملی مسلم لیگ کو بھی ابھی وقت چاہیے۔ آجانا اور چھا جانے والا ماحول نہیں ہے۔ لیکن حافظ سعید کے پاس وقت نہیں۔ انھیں ہر حال میں پارلیمنٹ میں پہنچنا ہے۔ یہ ان کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ باقی سب بعد میں۔
Load Next Story