بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا حکومتی اعلان

شہر اور دیہات کے درمیان بجلی کی تقسیم کے حوالے سے فرق ختم ہو جائے گا

شہر اور دیہات کے درمیان بجلی کی تقسیم کے حوالے سے فرق ختم ہو جائے گا۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس احمد خان لغاری نے اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک بھر میں 86سو میں سے 5297 فیڈرز سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا مژدہ سنایا جس سے ایک کروڑ سے زائد صارفین مستفید ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت 2700میگاواٹ بجلی سرپلس موجود ہے' آج کے بعد شہر اور دیہات کے درمیان بجلی کی تقسیم کے حوالے سے فرق ختم ہو جائے گا تاہم انھوں نے واضح کیا کہ جن علاقوں میں بجلی چوری اور لاسز زیادہ ہوں گے وہاں لوڈشیڈنگ جاری رہے گی' بجلی کی چوری نہ رکی تو ہر سال بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو 135ارب روپے کے نقصانات کا سامنا رہے گا۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہونا خوش آیند ہے تاہم حکومت نے بجلی چوری کرنے والوں کے حوالے سے جو پالیسی اپنائی ہے وہ شاید اس کے نزدیک صائب ہو لیکن فہمیدہ حلقے اس پالیسی کو حکومت کی نااہلی سے تعبیر کر رہے ہیں۔


بجلی چوری کرنے والوں کو لوڈشیڈنگ کی سزا دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ ذمے داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ عوامی حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ بجلی چوری میں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کے اہلکار بھی ملوث ہوتے ہیں اور وہ ہی بجلی چوری کے حربے بتاتے ہیں جب تک ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی بجلی چوری کا عمل رکنے میں نہیں آئے گا اور بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو پہنچنے والے جس خسارے کی نشاندہی وفاقی وزیر کر رہے ہیں وہ جاری رہے گا۔ دوسری جانب جن علاقوں میں صارفین بل ادا کیے بغیر گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل بجلی کا استعمال کر رہے ہیں ان کو بھی بل وصولی کے نیٹ میں لایا جائے' ان کا بوجھ بل ادا کرنے والے صارفین پر ڈالنا ظلم کے مترادف ہے۔ بجلی لاسز اور چوری کو روکنا حکومت کا کام ہے۔

حکومت نے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے' تو امر یہ ہے کہ یہ سردیوں کا موسم ہے جس میں بجلی کا استعمال ویسے ہی کم ہو جاتا ہے' گرمیاں آئیں گی تو پھر دیکھا جائے گا کہ حکومت اپنا یہ وعدہ ایفا کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا روایتی طور پر عوام کو لالی پاپ دے دیا گیا ہے۔ اوور بلنگ کی شکایات بھی عام ہیں اگرچہ عوام کے احتجاج پر گزشتہ دنوں اووربلنگ پر قومی اسمبلی سے قانون منظور کیا گیا جس کی ابھی سینیٹ سے منظوری ہونا باقی ہے۔ اب سینیٹ کو جلد از جلد اس قانون کی منظوری دے دینی چاہیے تاکہ اوور بلنگ کے سلسلے کو روکا جا سکے۔
Load Next Story