اسلحہ کے آزادانہ استعمال کا سدباب ناگزیر

انسانی جان اتنی سستی ہوگئی ہے کہ راہ چلتے کسی کو بھی مار کر دندناتے ہوئے فرار ہوجاتے ہیں


Editorial December 05, 2017
انسانی جان اتنی سستی ہوگئی ہے کہ راہ چلتے کسی کو بھی مار کر دندناتے ہوئے فرار ہوجاتے ہیں۔ فوٹو: فائل

کراچی میں طاقت کا نشہ اور دولت کا زعم ایک اور طالب علم کی جان لے گیا، سی ویو پر کار اور ہیوی بائیک ٹکرانے کے بعد ڈبل کیبن میں سوار بائیک سواروں کے ساتھیوں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق جب کہ اس کا دوست زخمی ہوگیا۔ طاقت کے نشے میں بدمست اور بگڑے رئیس زادوں کا یہ رویہ کچھ نیا نہیں۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات میں مجرموں کو عبرت ناک سزا کی کوئی مثال موجود نہیں۔ اس سے پیشتر بھی اسی قبیل کے کئی واقعات میڈیا میں رپورٹ ہوئے، میڈیا اور عوامی دباؤ کے باعث وقتی طور پر ملزمان کو گرفتار بھی کیا لیکن مقدمہ درج کرتے ہوئے ناقص دفعات، مقدمات کی طوالت، اور ملزمان کے اثر و رسوخ کے باعث ملزمان بری ہوگئے۔

بااثر خاندانوں کے ان بگڑے شہزادوں کا قانون سے بے خوفی کا یہ عالم ہے کہ ملزمان شہر میں اس طرح دندناتے پھرتے ہیں جیسے جنگل کا قانون ہو۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اثر و رسوخ، دولت کی ریل پیل اور اسلحے کی نمائش کی اجازت کیوں دی جاتی ہے؟ آج شہر میں کتنی ہی ڈبل کیبن گاڑیاں پرائیوٹ مسلح گارڈز کے ہمراہ سڑکوں پر دوڑتی دکھائی دیتی ہیں، کئی ایک دہشت گردی کے واقعات ان سے منسوب ہوچکے ہیں، وزرا کی طرح کانوائے کی شکل میں سفر کرنے والے ان ''بااثر'' افراد کو کس قانون کے تحت اسلحہ کی نمائش اور ''داداگیری'' کی اجازت دی گئی ہے۔

فرعونی کروفر کے ساتھ سفر کرنے والے ان امیرزادوں کی راہ میں کوئی معمولی شخص رکاوٹ بن جائے تو ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ختم ہوجاتی ہیں، ان کی نظر میں انسانی جان اتنی سستی ہوتی ہے کہ راہ چلتے کسی کو بھی مار کر دندناتے ہوئے فرار ہوجاتے ہیں۔ صائب ہوگا کہ ملک میں قانون کی رٹ بحال کرتے ہوئے یوں کھلے عام اسلحہ لے کر گھومنے پر پابندی لگائی جائے، اور مذکورہ واقعات میں شامل ملزمان کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے عبرت ناک سزاؤں کی مثال قائم کی جائے تاکہ آیندہ کوئی بھی شخص اپنی خاندانی حیثیت، اثر و رسوخ اور طاقت کے نشے میں جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے ہزار بار سوچے۔ ان واقعات کا سدباب اسی صورت ہوسکتا ہے جب قانون امیر و غریب سب کے لیے یکساں ہو۔