شاہ عنایت شہید جس نے چشمۂ عشق پر وضوکیا

شاہ عنایت کے قتل کا جب فتویٰ حاصل کیا گیا تو اس کے جواز میں ان کے گناہ یوں گنوائے گئے۔

zahedahina@gmail.com

یہ وہ زمانہ ہے جب ہر طرف دہشت گردی کی آندھی چل رہی ہے۔ ایسے میں وہ لوگ قابلِ قدر ہیں جو رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی بات کرتے ہیں۔ اس موضوع پر کتابیں اور کتابچے شایع کرتے ہیں۔ جلسے کراتے ہیں اور اس میں لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں۔ یہ وہ تمام کام ہیں جن میںہروقت جان کا خطرہ رہتا ہے۔

ایسے ہی ایک سرپھرے خادم حسین سومرو ہیں جنہوں نے سندھ صوفی انسٹیٹیوٹ قائم کیا۔ کئی کتابیں لکھیں۔ مرتب کریں اور ان کی اشاعت کا اہتمام کیا۔ ایسے ہی ایک انسان دوست مخدوم زاہد عباس لانگاہ ہیں جو مخدوم صدو لانگاہ ریسرچ کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ یہ بھی صوفی خیالات و افکار کو پھیلانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔

چند دنوں پہلے مخدوم صدو لانگاہ ریسرچ کمیٹی اور سندھ صوفی انسٹیٹیوٹ کی طرف سے سندھ کے عظیم شہید صوفی شاہ عنایت کی یادگاری محفل کا اہتمام کیا گیا۔ اس محفل میں صوفی شہید کی زندگی اور ان کے افکار پر مخدوم عباس لانگاہ، ڈاکٹر ضیاء الحق شاہ، تاج جویو، ذوالفقار ہالیپوٹو، خادم حسین سومرو، سکھر سے آئے ہوئے بچل بھٹی نے مقالے پڑھے اور میں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سندھ لینگویج اتھارٹی جو سندھ کی معروف دانشور فہمیدہ حسین کی نگرانی میں کام کررہی ہے، اس کے ہال میں یہ تقریب منعقد ہوئی جس کی ابتداء صوفی عنایت ایوارڈ کے اعلان اور تقسیم سے ہوئی۔ یہ باوقار ایوارڈ جناب جی ایم سید، سید سبط حسن، صوفی حضور بخش، ڈاکٹر جعفر احمد، خادم حسین سومرو، Empires of the indus لکھنے والی ایلس البینو اور مجھے بھی دیا گیا۔ اس عزت افزائی کے لیے میں جس قدر بھی ممنون ہوں وہ کم ہے۔

اس روز میں نے شہید صوفی کو نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سندھو دریا کے چوڑے پاٹ کی طرح وسیع المشربی اور رواداری سندھ کا وصفِ خاص رہا ہے اور کیوں نہ ہو کہ یہاں اسلام اور ہندو مت کے ساتھ ساتھ بدھ مت کے ماننے والوں کا ڈیرا بسیرا رہا ہے۔ لفظ سیکولر ازم جس سے لوگ ابھی کچھ دنوں پہلے واقف ہوئے ہیں جب کہ سندھ کے عظیم صوفی صدیوں پہلے اس لفظ سے ناواقف ہوتے ہوئے بھی سیکولر ازم کے فلسفے پر ایمان رکھتے تھے۔

تب ہی اٹھارہویں صدی کی ابتداء میں شاہ صوفی عنایت شہید نے رواداری اور انسانی مساوات کی مثال قائم کرتے ہوئے غریب کسان کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ وہ یہ نعرہ لے کر اٹھے کہ جو کمائے وہی کھائے۔ انھوں نے اجتماعی کھیتی(کمیون) کا طریقہ اختیار کیا جو اس زمانے کے گورنروں، جاگیرداروں، زمینداروں اور ظاہر پرست ملائوں کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ تھا۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے وہ تمام حربے استعمال کیے گئے جو اہل اقتدار ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں۔

یہ بات ہمارے لیے ایک اعزاز سے کم نہیں ہے کہ اب سے تین سو برس پہلے سندھ کے جامد سماج میں صوفی شاہ عنایت نے انقلاب فرانس اور مارکس ازم کے ظہور سے بہت پہلے اجتماعی کھیتی یا کمیون کا تصور پیش کیا تھا۔ انھوں نے انسان دوستی کے فروغ کی بات کی اور یہ نعرہ لگایا کہ جو بوئے وہ کھائے۔وہ مذہبی، مسلکی اور نسلی تفریق کے قائل نہیں تھے۔ تب ہی ان کے مرید کسانوں میں ارد گرد کے ہندو اور بودھ مت کے لوگ بھی شامل ہوئے۔

ان لوگوں نے جھوک کے محاصرے کے دوران گورنر ٹھٹھہ اعظم خان کے لشکریوں سے جنگ کی اور اس جنگ میں جو خون بہا وہ مسلمانوں، ہندوئوں اور بودھوں کا تھا۔ عوام کے اتحاد اور ایکتا کی یہ ایک خوبصورت مثال تھی۔ سیکولر بنیادوں پر شاہ شہید کے خوابوں کے سماج کی تعمیر کا خواب پورا نہ ہوسکا۔ لیکن یہ خواب تاریخ میں سفر کرتا رہا اور آج ہم تک آیا ہے۔ سندھ کے صوفی،کثیر المشرب، روادار اور سیکولر سماج کا یہ تانا بانا، شاہ شہید عنایت، شاہ لطیف سے شیخ ایاز تک ایسے ہی خیالات اور عملی جدوجہد کے ذریعے آیا ہے۔

شاہ عنایت شہید کے بارے میں سائیں سید نے لکھا ہے کہ وہ سندھ کے مشہوردرویش مخدوم صدو لانگاہ کی اولاد سے تھے۔ یہ درویش میران پور میں رہائش پذیر تھے۔شاہ عبداللطیف نے غالباً اپنے عنفوان شباب میں شاہ عنایت کی بزرگی و درویشی کی شہرت سن کر ان سے ملاقاتیں کی تھیں۔ شاہ لطیف اکثر اپنے داد کے مزارپر جاتے تھے۔ چنانچہ اسی دوران انھیں شاہ عنایت صوفی سے میل ملاقات کے مواقعے ملتے رہتے تھے۔شاہ عنایت کے زہد وفیض کے چرچے پھیلنے لگے تو چہار طرف کے لوگ جوق در جوق آپ کے چشمۂ شیریں سے سیراب ہونے کے لیے جمع ہونے لگے۔ آپ کی اس بے پناہ مقبولیت کو دیکھ کر گردوپیش کے زمینداروں،مولویوں اور پیروں کے دلوں میں آتش حسد بھڑک اٹھی۔

شاہ عنایت صوفی کی تعلیمات، تنگ نظری اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ایک کھلا چیلنج تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں ملائوں اور پیروں نے شریعت و طریقت کو اپنے استحصال و اقتدار کا کھلونا بنا رکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ صوفی صاحب جیسے بزرگ کو اس تصنع اور ڈھونگ کے خلاف کھلی بغاوت کا اعلان کرنا پڑا۔ وہ سندھ کے سماج میں ایک ایسا انقلاب لانا چاہتے تھے کہ جو اس عہد کے تسلیم شدہ نظریوں،د ستوروں اور قوانین کی بیخ کنی کے مترادف تھا۔ اسی وجہ سے اس دور کے وڈیروں، مولویوں، پیروں اور حکمرانوں کا ان سے خائف ہونا فطری امر تھا۔

شاہ عنایت کے قتل کا جب فتویٰ حاصل کیا گیا تو اس کے جواز میں ان کے گناہ یوں گنوائے گئے:


وہ اس وقت کے ملائوں کے اعتقادات نیز پیران وقت کے پیری مریدی کے کاروبار کو جائز تسلیم نہیں کرتے تھے اور آزاد خیالی کی تبلیغ کرتے تھے۔٭ مذہبی فرقہ بندیوں کو ختم کرکے آزاد خیالی کے رشتے کی بنیاد پر بلاتفریق مذہب و فرقہ، ذات وطبقہ انھوں نے اپنی جماعت بنائی جس سے اس وقت کے مذہبی تاثرات و اقتدار کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ محسوس کیا گیا۔٭ اپنی جماعت کے لوگوں کے لیے انھوں نے جو لباس مقررکیا اس کا رنگ ہندو سنیاسیوں یا بدھ دھرم کے بھکشوئوں اور لامائوں کے لباس کے رنگ جیسا یعنی گیروا تھا۔

اس رنگ ولباس سے مسلمان مولوی، ملا خاص طور پر بڑا تعصب رکھتے تھے۔٭صوفی صاحب کی جماعت کے لوگوں نے حکومت وقت کو مالیانہ دینے سے انکار کیا تھا۔٭ شاہ صاحب کا خیال تھا کہ لوگوں کے ذاتی اعتقادات جن کو انھوں نے غورو فکر کے بعد صداقت کے ساتھ اختیار کیا ہو ان کے ذاتی معاملات ہیں۔ سماج اور حکومت کو اس میںدخل اندازی کا کوئی حق نہیں۔

شاہ کے دشمنوں نے ان سے نجات کے لیے ٹھٹھہ کے گورنر سے امداد طلب کی۔ گورنر اعظم خان ایک بڑا لشکر لے کر آیا۔ شاہ کے مریدین بے جگری سے لڑے۔ شاہ سے کہا گیا کہ ہم آپ کی شرائط پر صلح کرلیں گے۔ اس طرح آپ کے مریدین کی جان بچ جائے گی۔ یوں جھوک کے طویل محاصرے کے بعد قرآن کو درمیان میں لاکر صوفی عنایت شاہ سے صلح کی بات کی گئی۔ انھوں نے صلح کی تجویزمنظور کرلی۔ جھوک کے پھاٹک کھول دیے گئے اور انھیں بہت عزت و احترام کے ساتھ نواب اعظم خان کے خیمے میں لے جایا گیا جہاں انھیں ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا دی گئیں۔

قرآن کو درمیا ن میں لاکر جو عہد شکنی کی گئی اس کے بعد جو کچھ ہوا، اس کے بارے میںسبط حسن نے لکھا ہے کہ ''تب شاہی انتقام کی آگ نے جھوک کا رخ کیا اور فقیروں کا قتل عام شروع ہوا۔ ان کے گھر جلادیے گئے۔ ان کا اثاثہ لوٹ لیا گیا اور بستی کی چہار دیواری مسمار کردی گئی۔ جھوک کی اجتماعی کھیتی خون کے دریا میں ڈوب گئی۔ نہ بیج بونے والے بچے اور نہ فصل کاٹنے والے۔''یہ سبط حسن تھے جنہوں نے شاہ شہید کو ''وادی سندھ کا پہلا سوشلسٹ صوفی'' قرار دیا ۔ سبط صاحب نے بجا طور پر لکھا تھا کہ:

''یہ تحریک کسی چھوٹے سے تالاب کے بند پانی میں ایک کنکری کی موجوں سے زیادہ نہ تھی مگر ان لہروں میں طوفانی موجوں کی توانائی چھپی ہوئی تھی جو ابھرکر سامنے آئے تو پورے جاگیردارانہ نظام کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جانے کی قوت رکھتی ہے۔''

سید سبط حسن نے اعظم خان اور صوفی شاہ عنایت کے درمیان ہونے والا مکالمہ جو حافظ شیرازی کے اشعار سے ہوا تفصیل سے لکھا ہے۔ وہ جب قید خانے کی طرف لے جائے جارہے تھے تو انھوں نے دربار میں بلند آواز میں کہا:

میں نے جس چشمۂ عشق پر وضو کیا

اسی وقت ہستی کی ہر شے کو سات سلام کیا

قیدو بند کی صعوبتیں سہنے کے بعد جب ان کا سر قلم کیا جانے والا تھا تو انھوں نے قیدِہستی سے آزاد کرنے والوں کو دعا دیتے ہوئے کہا:

رہا یندی مُرا از قیدِ ہستی

جزا ک اللہ فی الدارین خیرا
Load Next Story