جب کرپشن راج کرتی ہے

دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت لیکن ہمارے اندر سے وہ طاقت اٹھ گئی ہے جو خیر و برکت اور رعب اور وقار کا سبب تھی۔


Abdul Qadir Hassan March 12, 2013
[email protected]

کئی باتیں یاد آتی ہیں تو جی چاہتا ہے کہ یہ یاد نہ آئیں، شاید کسی نے ایسی ہی کیفیت سے گزر کر کہا تھا کہ یاد ماضی ایک عذاب ہے، اس لیے یا خدا مجھ سے میرا حافظہ چھین لے۔ زندگی میں کئی لوگ ایسے بھی ملے جو ہم سے سینئر تھے لیکن دعویٰ کرتے تھے کہ ان کا حافظہ بہت اچھا ہے، ان میں ایک صاحب تھے خان غلام محمد لونڈ خوڑ، ایسا بے تکلف اور صاف گو لیڈر میں نے نہیں دیکھا۔ انھوں نے بازار حسن میں شادی کی تھی اور ایک عرصہ تک وہاں رہے بھی چنانچہ جب کبھی باتوں میں اس کا ذکر آتا تو وہ بلا تکلف اس کو بیان کر دیا کرتے۔ اس خاتون نے اپنا پس منظر مکمل بھول کر بلاشبہ ایک گھریلو نئی زندگی شروع کی اور ایک پٹھان خاندان کا فرد بن گئی۔

یہ واقعہ انھی کا ہے کہ کسی نے ان کو بتایا کہ ایک افسانہ نگار سعادت حسن منٹو نے ان کے خلاف مضمون لکھا ہے۔ یہ سن کر خان صاحب سخت غصے میں آ گئے اور لاہور میں منٹو کی تلاش شروع کر دی چنانچہ وہ دفتر امروز میں پہنچے جہاں کسی نے انھیں بتایا کہ منٹو وہاں ایڈیٹر احمد ندیم قاسمی کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ بھاری بدن کے خان صاحب دروازہ کھول کر قاسمی صاحب کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ یہاں منٹو تو نہیں آیا۔ بہت ہی شریف اور خوش مزاج قاسمی صاحب نے سامنے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہے منٹو۔ اس پر خان صاحب نے کہا کہ تم نے میرے خلاف کیا لکھا ہے۔ منٹو نے بتایا کہ میں نے لکھا ہے کہ خان لونڈ خوڑ شراب پیتا ہے اور اس نے ہیرا منڈی کی ایک لڑکی سے شادی کی ہے۔

خان صاحب نے کھڑے کھڑے کہا کہ یہ تو تم نے ٹھیک لکھا ہے، کسی نے مجھے غلط اطلاع دی ہے کہ تم نے میرے خلاف لکھا ہے۔ خان صاحب سیاستدان تھے اور سرحد کے وزیر اعلیٰ خان عبد القیوم خان نے ان کو صوبے سے نکال دیا تھا چنانچہ وہ لاہور میں پناہ گزین تھے۔ کبھی کبھار وہ پریس کانفرنس بھی کرتے تو بعد میں گنتے کہ کتنی پیسٹریاں کھائی گئی ہیں اور کتنی بچ گئی ہیں۔ بل میں وہ اس کا خاص خیال رکھتے۔ صوبہ سرحد میں اپنی انتہائی قیمتی زمین بیچ کر انھوں نے بازار حسن میں شادی کی اور پھر سیاست پر بھی اپنی زمین خرچ کی۔ یہ وہ مبارک زمانہ تھا جب سیاستدان ایک عام آدمی سے زیادہ دیانت دار ہوتے تھے اور ملک میں برکت تھی۔

بے سروسامانی کے باوجود اس دیانت و امانت کی طاقت سے ہم نے اس ملک کو ملک بنا دیا جب کہ اس کے قیام کے ساتھ ہی ہندو دانشوروں اور نامور سیاستدانوں نے پیش گوئی کر دی تھی اور کتابیں بھی لکھی تھیں کہ یہ ملک چند ماہ یا چند برسوں کا مہمان ہے اور پھر اکھنڈ بھارت ہے۔ ان دنوں کچھ عرصے سے پھر ایسی ہی باتیں کہی جا رہی ہیں اور انتہائی شرم اور بدقسمتی یہ ہے کہ ایسی ناپاک باتیں کرنے والوں میں اب بعض پاکستانی دانشور بھی شامل ہیں اگر یہی دانشوری ہے تو اس پر ہزار لعنت۔ یہ سب باتیں ملک سے دیانت و امانت کی رخصتی اور کرپشن کے راج سے شروع ہوئی ہیں جب کہ ہم پہلے سے کہیں زیادہ طاقت ور ہیں۔

دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت لیکن ہمارے اندر سے وہ طاقت اٹھ گئی ہے جو خیر و برکت اور رعب اور وقار کا سبب تھی اور جس کے بل بوتے پر ہم ایک سپر پاور سے بھڑ گئے تھے۔ مسلمہ فوجی چال ہے کہ حملہ آور ہمیشہ زیادہ طاقت ور ہوتا ہے اور یہ حملہ اچانک ہو تو اس جنگی چال سے حملہ آور کی طاقت مزید بڑھ جاتی ہے لیکن بھارت کے جرنیلوں نے تسلیم کیا ہے کہ 1965 میں انھیں فتح حاصل نہیں ہوئی تھی اور یہ تو عالمی ریکارڈ پر ہے اور رہے گا جب تک یہ دنیا زندہ ہے کہ ہم نے دنیا کی ایک سفاک سپر پاور کو بیچ میدان میں شکست دی اور افغانستان کی سرحد پر دریائے آمو کا پانی گواہ ہے کہ اس میں روسی بہادروں کے آنسو بھی شامل ہیں لیکن یہی پاکستان اپنے گھر مشرقی پاکستان میں اس خیر و برکت سے محرومی کی وجہ سے جنگ ہار گیا اور عبرت بن گیا۔

آج ہم کرپشن کے جس دریا میں غوطے کھا رہے ہیں، اس میں ہم جان بچانے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں مگر خود پاکستانی کہتے ہیں کہ یہ ملک کوئی رہنے کی جگہ ہے، میں موم بتی کی کمزور ٹمٹماتی روشنی میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں کیونکہ ہمارے حکمران ہماری بجلی بھی اربوں روپے کی رشوت میں کھا گئے ہیں۔ سپریم کورٹ آج بھی ہمارے وزیر اعظم کی گرفتاری کی بات کر رہا ہے جو کبھی بجلی کے وزیر ہوا کرتے تھے، اس خود کشی پر مُصر قوم سے کوئی کہتا ہے کہ بدنام بینکوں والے کسی ملک میں ہمارا کیا تھا جو خط لکھنے سے برملا مانع تھا جس ملک کے حکمران ایسے ہوں اسے کون بچا سکتا ہے اور کوئی ایسے ملک کو کس خوشی میں باقی رکھے۔ تاریخ میں رومی سلطنت کا بڑا نام رہا ہے۔

میں نے سقوط روم پر ایک فلم دیکھی جس کے آخر میں کسی الیکشن کے موقعے پر اسمبلی کے ارکان ووٹروں کی برملا خرید و فروخت کر رہے ہیں، فلم یہاں اس جملے کے ساتھ ختم ہوتی ہے کہ پھر یوں روم کی سلطنت کا زوال شروع ہو گیا۔ ہم تو ایسے مرحلوں سے بار بار گزر چکے ہیں اور الیکشن پھر سر پر ہیں، آخر میں ایک حکمران کی دیانت اور امانت کا ایک روحانی واقعہ بیان کرتا ہوں کہ ملک شام میں ایک چرواہے کی بکری کو بھیڑیا کھا گیا۔ اس نے رونا پیٹنا شروع کر دیا جس پر اس کے بیٹے نے کہا کہ بابا ایسے واقعات تو جنگل میں ہوتے ہی رہتے ہیں پھر اس قدر پریشانی کیوں، اس پر اس کے والد نے کہا کہ بیٹا میں بکری کو نہیں اپنے حکمران کی وفات پر رو رہا ہوں، اس کا سایہ اٹھ گیا اور بات مجھ تک بھی پہنچ گئی۔ عمر بن العزیز اس وقت بہت دور انتقال کر گئے تھے۔

مقبول خبریں