2008ء کی پیپلز پارٹی کی حکومت میں صدر آصف زرداری کی خصوصی دلچسپی سے جو 18 ویں ترمیم ہوئی تھی جس کی منظوری میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما میاں رضا ربانی نے تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر جو کردار ادا کیا تھا اس پر پیپلز پارٹی ہی کے ایک رہنما لطیف کھوسہ نے کہا تھا کہ 1973 کے آئین کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے۔
پی پی، (ن) لیگ و دیگر پارٹیوں نے صوبوں کو بہت زیادہ مل جانے والی انتظامی اور مالی خودمختاری پر خوشی کے شادیانے بجائے تھے اور وفاق کو کمزور اور صوبوں کی حد سے زیادہ خودمختاری پر تنقید بھی ہوئی تھی جو اب درست قرار دی جا رہی ہے اور اٹھارویں ترمیم میں صوبوں اور این ایف سی ایوارڈ کے بعض معاملات میں تبدیلی کے لیے 28 ویں ترمیم لانے کی وفاقی سطح پر کوشش کی جا رہی ہے جس پر وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا ہے کہ اس سلسلے میں ابھی حکومت کی تیاری ممکن ہی نہیں ہے۔ حکومتی حلقوں کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی واضح اعلان نہیں کیا جا رہا اور بلاول بھٹو کے حالیہ بیان کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی رابطہ بھی نہیں کیا گیا ہے۔
یہ بھی الزام ہے کہ پیپلز پارٹی کی خواہش ہی پر 18 ویں ترمیم کرائی گئی تھی کیونکہ 2013 تک پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت ملک میں غیر مقبول ہو چکی تھی اور ملک اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا جس کا اندازہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو تھا کہ ایسے حالات میں پیپلز پارٹی دوبارہ اقتدار میں نہیں آ سکے گی، اس لیے اس نے اپنے صوبے سندھ پر خصوصی توجہ دی تھی اور 18 ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو بہت زیادہ خودمختار بنوایا تھا۔ پارٹی قیادت کو امید تھی کہ پی پی کو وفاقی حکومت ملے نہ ملے مگر سندھ میں حکومت پی پی کو ضرور ملتی رہے گی ۔
پیپلز پارٹی قیادت کے خدشات درست ثابت ہوئے اور 2013 کے بعد پیپلز پارٹی وفاقی سطح پر کمزور اور سندھ میں مضبوط سے مضبوط ہوتی رہی اور 18 ویں ترمیم کے باعث پیپلز پارٹی سندھ میں 18 سالوں سے حکومت کرتی آ رہی ہے اور ہر بار سندھ میں پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کرتی آ رہی ہے جس کا سہرا بلاشبہ صرف آصف زرداری کے سر جاتا ہے جن کی کامیاب منصوبہ بندی سے چوتھی بار سندھ میں پیپلز پارٹی مسلسل الیکشن پہلے سے بھی زیادہ کامیابی سے جیت رہی ہے۔
اندرون سندھ کی تقریباً تمام اہم سیاسی شخصیات پیپلز پارٹی میں شامل اور شریک اقتدار ہیں اور پیپلز پارٹی اپنی چھوٹی مخالف مسلم لیگ (ف) کا صفایا کر چکی ہے اور کراچی میں بھی کامیاب ڈینٹ مار کر ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو سیاسی نقصان پہنچا چکی ہے اور کراچی میں آج نہ صرف پہلی بار ان کا میئر ہے بلکہ کراچی میں پہلے سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی کے پاس ہیں جس کی اہم وجہ سندھ میں مسلسل پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔
سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو اس بار چیئرمین سینیٹ بنوایا گیا تھا جب کہ مسلم لیگ (ن) کو بھی میاں رضا ربانی کو دوبارہ چیئرمین سینیٹ بنانے پر اعتراض نہیں تھا اور رضا ربانی کی ذاتی شہرت بہت اچھی ہے، نہ ان پر کسی کرپشن کا داغ ہے۔
میاں رضا ربانی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ 28 ویں آئینی ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ 26 ویں اور 27 ویں ترمیم آئین کی متعدد دفعات اور خاص کر عدلیہ اور آئین کو مسخ کر چکی ہے۔ پی پی کی 2008 کی حکومت عدلیہ بحالی کی سزا بھگت چکی ہے جب کہ 2017 میں عدلیہ کے ہاتھوں نواز شریف بھی یوسف رضا گیلانی کی طرح نااہل قرار پائے تھے اور 26 ویں اور 27 ویں ترامیم خود پیپلز پارٹی کی حمایت سے منظور ہوئی تھی اس کی منظوری سے قبل انتہائی بااختیار مگر جانبدار عدلیہ کا جو کردار تھا وہ میاں رضا ربانی سمیت سب کے سامنے تھا اور مجبور ہو کر عدلیہ سے ڈسی ہوئی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے مل کر 26 ویں اور 27 ترمیم کی تھی۔ مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کے مقابلے میں عدلیہ سے زیادہ سزاوار ہوئی اور سب سے زیادہ فائدہ پی ٹی آئی کو ہوا تھا جو اب 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کا نتیجہ بھگت رہی ہے جس نے پی پی اور (ن) لیگ کے خلاف عدلیہ سے جو من پسند فیصلے لیے تھے اب اس کے الٹ ہو رہا ہے۔
اب 2026 میں مسلم لیگ (ن) 28 ویں ترمیم کی خواہش مند ہیں۔ مسلم لیگ کی وفاقی حکومت کو 18 ویں ترمیم کی وجہ سے مالی نقصان اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو مالی طور فائدہ پہنچ رہا ہے۔ وفاقی حکومت کمزور اور صوبوں کی تمام حکومتیں مالی طور پر مکمل فائدہ اٹھا رہی ہیں اور چاروں نے ہی آئین کے مطابق مقامی حکومتیں قائم کیں، نہ بلدیاتی ادارے خودمختار بنائے کیونکہ صوبوں میں این ایف سی جیسا کوئی نظام ہے نہ محتاج وفاقی حکومت صوبوں کو اپنی مرضی کے مطابق کوئی حکم دے سکتی ہے کیونکہ وہ مالی طور بے حد کمزور بلکہ خود صوبوں کی محتاج ہے۔
ملک کا دفاعی بجٹ بھارت کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے جو اسے وفاقی حکومت نے دینا ہے صوبوں نے نہیں جو بہت زیادہ مال دار ہے مگر کے پی حکومت پھر بھی مطمئن نہیں اور اسے دوسروں کے مقابلے میں وفاق سے بہت زیادہ شکایات ہیں ۔
ملک کی حفاظت کی ذمے داری وفاق کی ہے صوبوں کی نہیں اور وزرائے اعلیٰ بادشاہ بنے صوبائی فنڈ خرچ کر رہے ہیں جس کا اختیار اٹھارویں ترمیم نے انھیں دیا ہوا ہے۔ صوبے کنگال وفاق سے زیادہ سے زیادہ فنڈز چاہتے ہیں اور اپنی شاہ خرچیاں کم کرنے کو تیار نہیں اور فنڈز کی کمی کو دفاعی بجٹ نہ بڑھانے کو جواز بنائے ہوئے الٹا صوبوں کا محتاج بنا ہوا ہے جس کا سب سے بڑا نقصان پاکستان کو ہو رہا ہے صوبوں کو نہیں اس لیے اگر 28 ویں ترمیم ضروری نہیں تو ملک کیسے چلے گا اس کے لیے صوبوں کو بھی مالی قربانی دینی اور وفاقی عیاشیاں کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔