سانحہ ماڈل ٹاؤن سچ کون بتائے گا
سانحہ ماڈل ٹاؤن میں 10 قیمتی جانیں ضایع جب کہ 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے
سانحہ ماڈل ٹاؤن میں 10 قیمتی جانیں ضایع جب کہ 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
عدالت عالیہ کے حکم پر پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے جسٹس باقر نجفی انکوائری کمیشن رپورٹ جاری کر دی۔ جسٹس باقرنجفی کی رپورٹ132 صفحات پر مشتمل ہے اور کمیشن نے ازخود تفتیش کی کسی پر ذمے داری نہیں ڈالی۔ میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق نجفی انکوائری رپورٹ میں ذمے داری کسی پر نہیں، الزام ہر ایک پر عائد کیا گیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں حکومت پنجاب کے معصوم ہونے پر شبہ ہے جس کے ارباب اختیار نے سچ چھپایا، حقائق چھپانے پر پولیس کا رویہ سچائی کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔ جب کہ صاف نظر آتا ہے کہ تمام پولیس اہلکار ٹربیونل سے تعاون نہ کرنے پر متفق ہیں۔
نجفی کمیشن رپورٹ کا منظرعام پر آنا بلاشبہ ایک بریک تھرو ہے، یاد رہے جون 2014 میں رونما ہونے والے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں 10 قیمتی جانیں ضایع جب کہ 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ یہ کریڈٹ اس ملک کی عدالت عالیہ کو جاتا ہے اور ساتھ ہی میڈیا کو بھی کہ جس کے اصرار اور شدید دباؤکے باعث پنجاب حکومت کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی عدالتی تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لانا پڑی۔ قانونی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ بھی اس فیصلہ پر ریلیف نہیں دے گی، لواحقین اس فیصلہ پر قصورواروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرواسکتے ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں نے عدالتی فیصلہ کو انصاف کی جیت قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ از سر نو تفتیش کے لیے جے آئی ٹی بنائی جائے۔
صائب رائے بھی یہی ہے کہ رپورٹ کا اجرا حکومت کا دانشمندانہ اقدام ہے، اسے خود کو حقائق چھپانے کے الزام سے بری الذمہ کرانے کے لیے قانون کا راستہ اپنانا ہوگا اور جن سیاسی و سرکاری افسروں، پولیس حکام اور دیگر شخصیات کا رپورٹ میں حوالہ دیا گیا ہے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا اولین تقاضہ ہے کہ وہ اپنی صفائی میں عدلیہ کے سامنے پیش ہوں اور رپورٹ کی فنی فروگزاشتوں میں اپنا وقت ضایع نہ کریں۔ یہ خوش آیند پیش رفت ہے کہ کسی سانحہ کی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے ورنہ اس مملکت خداداد میں کتنے ایسے دردانگیز اور سنگین واقعات ہوئے جن کی تحقیقاتی رپورٹیں طاق نسیاں ہوگئیں۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن اور فیض آباد دھرنے میں قانون نافذ کرنے کے طرز عمل اور اسٹرٹیجی کے تقابل کا کافی چشم کشا سامان موجود ہے، باریک بینی سے دیکھا جائے تو نجفی رپورٹ بادی النظر میں پنجاب پولیس کی حقائق بتانے سے گریز پائی کے طرز عمل پر وائٹ پیپر ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ سانحہ کے مضمرات اور اس کے فال آؤٹ پر ارباب اختیار سنجیدگی سے سوچیں اور قانون و آئین کے مطابق رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات کے تناظر میں اپنا کیس لڑیں، عدالت اور قوم کو بتائیںکہ سانحہ کیوں اور کیسے ہوا؟
انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہبازشریف کا حلفیہ بیان ہے کہ 17 جون کی صبح واقعہ کا ٹی وی سے پتہ چلا، فائرنگ کس کے حکم سے ہوئی پولیس افسر بتانے کے لیے تیار نہیں، فائرنگ احکامات پر خاموشی سے پولیس تعاون کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آپریشن کا فیصلہ صوبائی وزیر قانون کی صدارت میں ہوا، وزیراعلیٰ کا بیان اس کے بعد کی چیز ہے۔ حکومت پنجاب کی سردمہری اور لاپرواہی نظر آتی ہے۔ سانحہ سے پہلے آئی جی اور ڈی سی او بدلنے سے شبہ ظاہر ہوتا ہے۔ قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے پنجاب حکومت کی سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیل مسترد کرتے ہوئے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جسٹس باقر نجفی کمیشن انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دیدیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں جسٹس شہباز رضوی اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل تین رکنی فل بنچ نے 24 نومبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ منگل کو سنایا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ انکوائری رپورٹ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ٹرائل پر اثرانداز نہیں ہوگی، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ٹرائل شفاف انداز میں چلایا جائے۔ صوبائی حکومت فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتی ہے۔ ادھر صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ نامکمل اور نقائص سے بھرپور ہے، رپورٹ میں کسی بھی حکومتی شخصیت یا کسی سرکاری افسر پر انفرادی طور پر ذمے داری عائد نہیں کی گئی۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ باقر نجفی کمیشن سے جو رپورٹ ملی، اسے اپ لوڈ کیا گیا، تاہم رپورٹ سے یہ واضح نہیں ہے کہ کس نے فیلڈ میں فائرنگ کے احکام دیے۔
اب جب کہ استغاثہ کی معاونت یا حقائق کی مزید درست سمت میں تفتیش کے لیے تحقیقاتی رپورٹ آچکی، لوگ انصاف کے منتظر ہیں، سچ اگر ٹریبونل سے چھپایا گیا جیسا کہ رپورٹ میں درج ہے تو اب بھی پانی سر سے اونچا نہیں ہوا، ارباب اختیار معروضیت، حقیقت اور عملیت کے مشترکہ تقاضوں اور عدلیہ کے احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے سانحہ سے متاثرہ افراد کی تالیف قلوب کے لیے کچھ کریں، انصاف کی فراہمی کو ممکن بنائیں، آزاد عدلیہ اور فعال میڈیا کے احتسابی کردار کا ادراک کریں، ہر چیز آج کل ٹرانسپیرنٹ ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب حکومت اس رپورٹ کو ٹیسٹ کیس سمجھتے ہوئے ایسی پیش قدمی کرے جس سے شفاف حکمرانی کا اعتبار بحال اور لوگوں کو انصاف ملے۔
عدالت عالیہ کے حکم پر پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے جسٹس باقر نجفی انکوائری کمیشن رپورٹ جاری کر دی۔ جسٹس باقرنجفی کی رپورٹ132 صفحات پر مشتمل ہے اور کمیشن نے ازخود تفتیش کی کسی پر ذمے داری نہیں ڈالی۔ میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق نجفی انکوائری رپورٹ میں ذمے داری کسی پر نہیں، الزام ہر ایک پر عائد کیا گیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں حکومت پنجاب کے معصوم ہونے پر شبہ ہے جس کے ارباب اختیار نے سچ چھپایا، حقائق چھپانے پر پولیس کا رویہ سچائی کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔ جب کہ صاف نظر آتا ہے کہ تمام پولیس اہلکار ٹربیونل سے تعاون نہ کرنے پر متفق ہیں۔
نجفی کمیشن رپورٹ کا منظرعام پر آنا بلاشبہ ایک بریک تھرو ہے، یاد رہے جون 2014 میں رونما ہونے والے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں 10 قیمتی جانیں ضایع جب کہ 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ یہ کریڈٹ اس ملک کی عدالت عالیہ کو جاتا ہے اور ساتھ ہی میڈیا کو بھی کہ جس کے اصرار اور شدید دباؤکے باعث پنجاب حکومت کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی عدالتی تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لانا پڑی۔ قانونی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ بھی اس فیصلہ پر ریلیف نہیں دے گی، لواحقین اس فیصلہ پر قصورواروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرواسکتے ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں نے عدالتی فیصلہ کو انصاف کی جیت قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ از سر نو تفتیش کے لیے جے آئی ٹی بنائی جائے۔
صائب رائے بھی یہی ہے کہ رپورٹ کا اجرا حکومت کا دانشمندانہ اقدام ہے، اسے خود کو حقائق چھپانے کے الزام سے بری الذمہ کرانے کے لیے قانون کا راستہ اپنانا ہوگا اور جن سیاسی و سرکاری افسروں، پولیس حکام اور دیگر شخصیات کا رپورٹ میں حوالہ دیا گیا ہے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا اولین تقاضہ ہے کہ وہ اپنی صفائی میں عدلیہ کے سامنے پیش ہوں اور رپورٹ کی فنی فروگزاشتوں میں اپنا وقت ضایع نہ کریں۔ یہ خوش آیند پیش رفت ہے کہ کسی سانحہ کی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے ورنہ اس مملکت خداداد میں کتنے ایسے دردانگیز اور سنگین واقعات ہوئے جن کی تحقیقاتی رپورٹیں طاق نسیاں ہوگئیں۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن اور فیض آباد دھرنے میں قانون نافذ کرنے کے طرز عمل اور اسٹرٹیجی کے تقابل کا کافی چشم کشا سامان موجود ہے، باریک بینی سے دیکھا جائے تو نجفی رپورٹ بادی النظر میں پنجاب پولیس کی حقائق بتانے سے گریز پائی کے طرز عمل پر وائٹ پیپر ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ سانحہ کے مضمرات اور اس کے فال آؤٹ پر ارباب اختیار سنجیدگی سے سوچیں اور قانون و آئین کے مطابق رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات کے تناظر میں اپنا کیس لڑیں، عدالت اور قوم کو بتائیںکہ سانحہ کیوں اور کیسے ہوا؟
انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہبازشریف کا حلفیہ بیان ہے کہ 17 جون کی صبح واقعہ کا ٹی وی سے پتہ چلا، فائرنگ کس کے حکم سے ہوئی پولیس افسر بتانے کے لیے تیار نہیں، فائرنگ احکامات پر خاموشی سے پولیس تعاون کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آپریشن کا فیصلہ صوبائی وزیر قانون کی صدارت میں ہوا، وزیراعلیٰ کا بیان اس کے بعد کی چیز ہے۔ حکومت پنجاب کی سردمہری اور لاپرواہی نظر آتی ہے۔ سانحہ سے پہلے آئی جی اور ڈی سی او بدلنے سے شبہ ظاہر ہوتا ہے۔ قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے پنجاب حکومت کی سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیل مسترد کرتے ہوئے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جسٹس باقر نجفی کمیشن انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دیدیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں جسٹس شہباز رضوی اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل تین رکنی فل بنچ نے 24 نومبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ منگل کو سنایا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ انکوائری رپورٹ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ٹرائل پر اثرانداز نہیں ہوگی، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ٹرائل شفاف انداز میں چلایا جائے۔ صوبائی حکومت فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتی ہے۔ ادھر صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ نامکمل اور نقائص سے بھرپور ہے، رپورٹ میں کسی بھی حکومتی شخصیت یا کسی سرکاری افسر پر انفرادی طور پر ذمے داری عائد نہیں کی گئی۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ باقر نجفی کمیشن سے جو رپورٹ ملی، اسے اپ لوڈ کیا گیا، تاہم رپورٹ سے یہ واضح نہیں ہے کہ کس نے فیلڈ میں فائرنگ کے احکام دیے۔
اب جب کہ استغاثہ کی معاونت یا حقائق کی مزید درست سمت میں تفتیش کے لیے تحقیقاتی رپورٹ آچکی، لوگ انصاف کے منتظر ہیں، سچ اگر ٹریبونل سے چھپایا گیا جیسا کہ رپورٹ میں درج ہے تو اب بھی پانی سر سے اونچا نہیں ہوا، ارباب اختیار معروضیت، حقیقت اور عملیت کے مشترکہ تقاضوں اور عدلیہ کے احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے سانحہ سے متاثرہ افراد کی تالیف قلوب کے لیے کچھ کریں، انصاف کی فراہمی کو ممکن بنائیں، آزاد عدلیہ اور فعال میڈیا کے احتسابی کردار کا ادراک کریں، ہر چیز آج کل ٹرانسپیرنٹ ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب حکومت اس رپورٹ کو ٹیسٹ کیس سمجھتے ہوئے ایسی پیش قدمی کرے جس سے شفاف حکمرانی کا اعتبار بحال اور لوگوں کو انصاف ملے۔