شمالی وزیرستان میں بم دھماکا 6 افراد جاں بحق

ان شرپسندوں کا نشانہ صرف سیکیورٹی ادارے ہی نہیں بلکہ نہتے عوام اور مزدور بھی ہیں


Editorial December 07, 2017
ان شرپسندوں کا نشانہ صرف سیکیورٹی ادارے ہی نہیں بلکہ نہتے عوام اور مزدور بھی ہیں۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں دھماکے سے 6 افراد جاں بحق اور 3 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 9افراد زخمی ہوگئے۔ شمالی وزیرستان میں امن و امان کی صورتحال کسی طور سنبھل نہیں رہی ہے، ہر کچھ عرصہ بعد دہشت گردوں کی باقیات سیکیورٹی اہلکاروں اور عوام پر حملے کے ذریعے اپنی موجودگی کا ثبوت دیتی رہتی ہیں، جو اس امر کی جانب اشارہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف تمام تر کامیاب آپریشنز کے باوجود ان کا مکمل قلع قمع اب بھی نہیں ہو پایا ہے۔ منگل کو بھی شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے علاقہ خدی میں سڑک کنارے کھڑی موٹر سائیکل میں نصب بارودی مواد اس وقت پھٹ گیا جب سیکیورٹی فورسز کی گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔

دھماکے کے بعد فورسز نے علاقے میں کرفیو نافذ کرکے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ اب تک کسی تنظیم کی جانب سے اس دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی گئی ہے لیکن واقعات کی یکسانیت ظاہر کرتی ہے کہ مذکورہ سانحہ میں بھی وہی عناصر ملوث ہیں جو وطن عزیز میں امن و امان کی صورتحال کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔ ان شرپسندوں کا نشانہ صرف سیکیورٹی ادارے ہی نہیں بلکہ نہتے عوام اور مزدور بھی ہیں، منگل کو ہی کوئٹہ میں ہرنائی کے علاقے ناکس میں مسلح افراد نے سبی ہرنائی ریلوے ٹریک پر کام کرنے والے مزدوروں کے کیمپ پر حملہ کردیا، جس میں 3 مزدور جاں بحق اور ایک زخمی ہوا جب کہ 6 نے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔

وطن دشمن عناصر نہتے مزدوروں کو نشانہ بنا کر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ انھیں وطن عزیز کی ترقی اور خوشحالی کسی طور قبول نہیں، ان شرپسندوں کی سرکوبی کے لیے سیکیورٹی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت عوام کو بھی یکجا ہوکر میدان عمل میں آنا ہوگا۔ ہمارے سیکیورٹی ادارے اس سلسلے میں سرگرم ہیں، سیکیورٹی فورسز نے آپریشن رد الفساد کے تحت لورالائی اور چمن میں کارروائی کرکے بڑی تعداد میں اسلحہ، دستی بم اور دھماکا خیز مواد برآمد کرکے تخریب کاری کے منصوبوں کو ناکام بنادیا۔کوئٹہ کے علاقہ گلستان سے 54 افغان باشندوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جب کہ خضدار میں دستی بم حملے میں 3 افراد زخمی ہوگئے۔

بلاشبہ سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی اطمینان بخش ہے لیکن ملک میں وقتاً فوقتاً ہوتے دہشت گردانہ حملے اس بات کا تقاضا کررہے ہیں کہ ان آپریشنز میں تیزی لائی جائے۔ دہشت گردوں کی باقیات سے نمٹنا اور ان کی مکمل سرکوبی کرنا ہی وقت کا تقاضا ہے۔ امن و امان کا مکمل قیام ہی وطن عزیز کو معاشی استحکام کی جانب گامزن کرسکتا ہے۔