طاہر القادری بند گلی میں۔ نجفی رپورٹ گلے کی ہڈی
عمران خان بھی طاہر القادری کی مکمل حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔
msuherwardy@gmail.com
ISLAMABAD:
علامہ طاہر القادری کیا اب تیسری دفعہ دھرنا دیں گے کہ نہیں۔یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے۔ طاہر القادری اس سے پہلے دو دفعہ نا کام دھرنا دے چکے ہیں۔ دو ناکام دھرنوں کے بعد کیا شہباز شریف اور رانا ثنا ء اللہ کے استعفیٰ کے لیے وہ تیسرے دھرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے موجودہ حالات کے ساتھ ساتھ پہلے دو ناکام دھرنوں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
یہ درست ہے کہ سباق صدر آصف زرداری خود ایک بڑے وفد کے ساتھ منہاج القران گئے ہیں اور انھوں نے علامہ داکٹر طاہر القادری کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ وہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کو ایک نئے دھرنے پر اکسانے گئے ہیں۔ عمران خان بھی طاہر القادری کی مکمل حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔ وہ بھی طاہر القادری کو ایک نئے دھرنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن جہاں ملک کی یہ دونوں جماعتیں طاہر القادری کو شہباز شریف اور رانا ثنا ء اللہ کے استعفیٰ کے لیے ایک دھرنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ طاہر القادری کے پہلے دو دھرنوں کی نا کامی کے بھی یہ دنوں ہی ذمے دار ہیں۔ طاہر القادری ان دونوں کے برابر ڈسے ہوئے ہیں اور اب وہ ان دونوں پر کتنا اعتبار کریں گے یہ ایک سوال ہے۔
آصف زرداری کو اس وقت طاہر القادری کی ضرورت ہے۔ ان کی شدید کوشش کے باوجود ان کی جماعت پنجاب میں اپنا ووٹ بینک بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ ان کا ناراض ووٹر نہیں ما ن رہا۔ پنجاب ان کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ اگلے انتخابات کے لیے ان کے پاس پنجاب میں کوئی گیم نہیں۔ پنجاب کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ انھیں پنجاب میں اتحادیوں کی ضرورت ہے۔ لیکن طاہر القادری کی اسٹریٹ پاور پنجاب کی نیم مردہ پیپلزپارٹی میں جان ڈال سکتی۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ اتحاد پنجاب میں سیٹیں جیت سکتا ہے۔ لیکن شور اتنا مچا سکتا ہے کہ ماحول بن جائے۔ اس لیے اگر آصف زرداری اس بات میں شدید دلچسپی رکھتے ہیں کہ طاہر القاری کی عوامی تحریک کے ساتھ ایک مضبوط اتحاد بن جائے جو پہلے مرحلہ میں شہباز شریف اور رانا ثنا ء اللہ کے استعفیٰ کے لیے دھرنا دے اور بعد میں اکٹھے انتخاب بھی لڑے۔
لیکن طاہر القادری کے لیے پیپلزپارٹی اور آصف زرداری کے ساتھ انتخابی اتحاد اور جوائنٹ دھرنا ایک کڑوی گولی ہے۔ طاہر القادری کا دوسرا دھرنا نواز شریف کی حکومت ختم کرنے کے لیے تھا۔ لیکن پیپلزپارٹی نے اس دھرنے کو بھی ناکام بنانے کے لیے نواز شریف کا بھر پور ساتھ دیا۔ یہ دھرنا طاہر القادری نے عمران خان کے ساتھ مل کر دیا۔ لیکن یہ جوڑی بھی کوئی کامیاب نہیں رہی تھی۔ عمران خان نے باقاعدہ حکمت عملی کے تحت جوائنٹ دھرنے کی باوجود طاہر القادری سے فاصلہ رکھا۔ قربت کے باوجود دوریاں تھیں۔ یہ دوریاں بعد میں اختلافات کی شکل بھی اختیار کر گئیں۔ اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی بھی کی۔ عمران خان نے بھی طاہر القادری کے خلاف بیان دیا اور طاہر القادری نے بھی عمران خان کی پاناما تحریک کی مخالفت کی۔
جہاں تک شہباز شریف کے استعفیٰ کا تعلق ہے تو یہ بھی قدرت کی ستم ظریفی ہے کہ جب آپ کو جو مل رہا ہو وہ آپ کو نہیں چاہیے ہوتا اور جب جو چاہیے ہوتا ہے وہ ملتا نہیں۔ شہباز شریف کا استعفیٰ بھی ایسا ہی ہے۔ جب طاہر القادری نے نواز شریف کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے عمران خان کے ساتھ دھرنا دیاتھا تو شہباز شریف اس دھرنے کو ختم کروانے کے لیے استعفیٰ دینے کے لیے تیار تھے۔ اس وقت نواز شریف اس استعفیٰ کے لیے اس تیار نہیں تھے کہ ان کا موقف تھا صرف شہباز شریف کے استعفیٰ سے دھرنا ختم نہیں ہو گا۔ بلکہ اگر شہباز شریف نے استعفیٰ دے دیا تو دھرنا والوں کا حوصلہ بڑھ جائے گا۔ اور بات میرے استعفیٰ تک پہنچ جائے گی۔ دوسری طرف طاہر القادری اور عمران خان کے ذہن پر تو نواز شریف کے استعفی کاٰ بھوت سوار تھا۔ اس لیے انھیں شہباز شریف کے استعفیٰ میں دلچسپی نہیں تھی اور شہباز شریف استعفیٰ لیے پھرتے رہے اور کوئی لینا والا نہیں تھا۔
اور آج شہباز شریف کا استعفیٰ اتنا ہی اہم ہے۔ نواز شریف گر چکے ہیں۔ ان کے بعد شہباز شریف ہی ن لیگ کی واحد ڈیفنس لائن ہیں۔ اگر کسی طرح شہباز شریف کو گرا لیا جائے تو پنجاب میں ن لیگ کو گرانا آسان ہو جائے گا۔ اگر شہباز شریف گر جائے تو پنجاب ن لیگ سے چھیننا ممکن ہو جائے گا۔ کیونکہ صرف شہباز شریف نے ہی پنجاب کو سنبھالا ہوا ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ شہباز شریف کو گرانے میں کون کون دلچسپی رکھ رہا ہے۔ عمران خان نے تو پہلے بھی شہباز شریف پر کئی حملے کیے ہیں لیکن وہ ناکام ہوئے ہیں۔ طاہر القادری کا لاہور میں دھرنا ناکام ہو گیا تھا۔ اس لیے بات سوچنے اور سمجھنے کی یہ ہے کہ کیا شہباز شریف کے استعفیٰ کا کوئی اسکرپٹ موجود ہے۔جہاں تک نجفی رپورٹ کا تعلق ہے اس میں سے بھی قانونی طور پر تو شاید شہباز شریف پھر بچتے نظر آرہے ہیں۔ جو پریشانی کی بڑی بات ہے۔
طاہر القادری نے اس سے پہلے بھی جو دھرنے دئے ہیں اس کا بھی اسکرپٹ تھا۔ لیکن اس اسکرپٹ میں دھرنا دلوانے والوں نے اپنے مقاصد حاصل کیے جب کہ طاہر القادری کو کچھ نہیں ملا۔طاہر القادری تو صرف عمران خان کی مدد کے لیے تھے۔ اور اس مدد کے عوض عمران خان شکریہ تو دور کی بات سیدھے منہ بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عمران خان خود طاہر القادری سے ملنے سے بھی اجتناب کرتے رہے۔ بس ایک وفد بھیج دیتے۔ عمران خان کو بھی شائد پتہ تھا کہ طاہر القادری کے ساتھ انھوں نے نہیں چلنا۔
آج طاہر القادری بند گلی میں ہیں۔ وہ سڑکوں پر آتے ہیں تو مرتے ہیں ۔ نہیں آتے ہیں تو مرتے ہیں۔آتے ہیں تو جو ساتھ دینے کا کہہ رہے ہیں انھیں ان کا تجربہ ہے۔ وہ ان کی قیادت کو نہیں مانیں گے۔ اور وہ ان کی قیادت کو نہیں مانیں گے۔ قیاد ت کا جھگڑا فورا کھڑا ہو جائے گا۔ پیپلزپارٹی کے پاس پنجاب میں ورکر ہے ہی نہیں لیڈر ہی لیڈر ہیں۔ تحریک انصاف کا ورکر بھی ان کے دھرنے میں نہیں بیٹھے گا۔ اس لیے طاہر القادری کو پتہ ہے کہ اکیلے ہی لڑنا ہے۔ لیکن اگر طاہر القادری سڑکوں پر نہیں نکلتے' شہباز شریف سے استعفیٰ لینے کے لیے دھرنا نہیں دیتے تو پراپیگنڈا ہو گا کہ بک گئے ہیں۔
اس ضمن میں رانا ثنا ء اللہ کی ایک بات بھی سامنے ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد ان کی خرم نواز گنڈا پور سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔بات چیت میں مرنے والوں کے لیے حکومت کی طرف سے امداد بھی شامل تھی۔ حکومت نے امداد کی ایک رقم کا اعلان کیا۔ لیکن بعد میں بات چیت ٹوٹ گئی۔ بس اس شور میں طاہر القادری بند گلی میں ہیں۔ کوئی راستہ بھی کہیں نہیں کھلتا۔ یہ نجفی رپورٹ تو ان کے لیے گلے کی ہڈی بن رہی ہے جو نہ نگلی جا سکتی ہے نہ اگلی جا سکتی ہے۔ اس نے مشکلات میں کمی کے بجائے اضافہ کر دیا ہے۔
علامہ طاہر القادری کیا اب تیسری دفعہ دھرنا دیں گے کہ نہیں۔یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے۔ طاہر القادری اس سے پہلے دو دفعہ نا کام دھرنا دے چکے ہیں۔ دو ناکام دھرنوں کے بعد کیا شہباز شریف اور رانا ثنا ء اللہ کے استعفیٰ کے لیے وہ تیسرے دھرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے موجودہ حالات کے ساتھ ساتھ پہلے دو ناکام دھرنوں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
یہ درست ہے کہ سباق صدر آصف زرداری خود ایک بڑے وفد کے ساتھ منہاج القران گئے ہیں اور انھوں نے علامہ داکٹر طاہر القادری کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ وہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کو ایک نئے دھرنے پر اکسانے گئے ہیں۔ عمران خان بھی طاہر القادری کی مکمل حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔ وہ بھی طاہر القادری کو ایک نئے دھرنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن جہاں ملک کی یہ دونوں جماعتیں طاہر القادری کو شہباز شریف اور رانا ثنا ء اللہ کے استعفیٰ کے لیے ایک دھرنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ طاہر القادری کے پہلے دو دھرنوں کی نا کامی کے بھی یہ دنوں ہی ذمے دار ہیں۔ طاہر القادری ان دونوں کے برابر ڈسے ہوئے ہیں اور اب وہ ان دونوں پر کتنا اعتبار کریں گے یہ ایک سوال ہے۔
آصف زرداری کو اس وقت طاہر القادری کی ضرورت ہے۔ ان کی شدید کوشش کے باوجود ان کی جماعت پنجاب میں اپنا ووٹ بینک بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ ان کا ناراض ووٹر نہیں ما ن رہا۔ پنجاب ان کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ اگلے انتخابات کے لیے ان کے پاس پنجاب میں کوئی گیم نہیں۔ پنجاب کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ انھیں پنجاب میں اتحادیوں کی ضرورت ہے۔ لیکن طاہر القادری کی اسٹریٹ پاور پنجاب کی نیم مردہ پیپلزپارٹی میں جان ڈال سکتی۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ اتحاد پنجاب میں سیٹیں جیت سکتا ہے۔ لیکن شور اتنا مچا سکتا ہے کہ ماحول بن جائے۔ اس لیے اگر آصف زرداری اس بات میں شدید دلچسپی رکھتے ہیں کہ طاہر القاری کی عوامی تحریک کے ساتھ ایک مضبوط اتحاد بن جائے جو پہلے مرحلہ میں شہباز شریف اور رانا ثنا ء اللہ کے استعفیٰ کے لیے دھرنا دے اور بعد میں اکٹھے انتخاب بھی لڑے۔
لیکن طاہر القادری کے لیے پیپلزپارٹی اور آصف زرداری کے ساتھ انتخابی اتحاد اور جوائنٹ دھرنا ایک کڑوی گولی ہے۔ طاہر القادری کا دوسرا دھرنا نواز شریف کی حکومت ختم کرنے کے لیے تھا۔ لیکن پیپلزپارٹی نے اس دھرنے کو بھی ناکام بنانے کے لیے نواز شریف کا بھر پور ساتھ دیا۔ یہ دھرنا طاہر القادری نے عمران خان کے ساتھ مل کر دیا۔ لیکن یہ جوڑی بھی کوئی کامیاب نہیں رہی تھی۔ عمران خان نے باقاعدہ حکمت عملی کے تحت جوائنٹ دھرنے کی باوجود طاہر القادری سے فاصلہ رکھا۔ قربت کے باوجود دوریاں تھیں۔ یہ دوریاں بعد میں اختلافات کی شکل بھی اختیار کر گئیں۔ اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی بھی کی۔ عمران خان نے بھی طاہر القادری کے خلاف بیان دیا اور طاہر القادری نے بھی عمران خان کی پاناما تحریک کی مخالفت کی۔
جہاں تک شہباز شریف کے استعفیٰ کا تعلق ہے تو یہ بھی قدرت کی ستم ظریفی ہے کہ جب آپ کو جو مل رہا ہو وہ آپ کو نہیں چاہیے ہوتا اور جب جو چاہیے ہوتا ہے وہ ملتا نہیں۔ شہباز شریف کا استعفیٰ بھی ایسا ہی ہے۔ جب طاہر القادری نے نواز شریف کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے عمران خان کے ساتھ دھرنا دیاتھا تو شہباز شریف اس دھرنے کو ختم کروانے کے لیے استعفیٰ دینے کے لیے تیار تھے۔ اس وقت نواز شریف اس استعفیٰ کے لیے اس تیار نہیں تھے کہ ان کا موقف تھا صرف شہباز شریف کے استعفیٰ سے دھرنا ختم نہیں ہو گا۔ بلکہ اگر شہباز شریف نے استعفیٰ دے دیا تو دھرنا والوں کا حوصلہ بڑھ جائے گا۔ اور بات میرے استعفیٰ تک پہنچ جائے گی۔ دوسری طرف طاہر القادری اور عمران خان کے ذہن پر تو نواز شریف کے استعفی کاٰ بھوت سوار تھا۔ اس لیے انھیں شہباز شریف کے استعفیٰ میں دلچسپی نہیں تھی اور شہباز شریف استعفیٰ لیے پھرتے رہے اور کوئی لینا والا نہیں تھا۔
اور آج شہباز شریف کا استعفیٰ اتنا ہی اہم ہے۔ نواز شریف گر چکے ہیں۔ ان کے بعد شہباز شریف ہی ن لیگ کی واحد ڈیفنس لائن ہیں۔ اگر کسی طرح شہباز شریف کو گرا لیا جائے تو پنجاب میں ن لیگ کو گرانا آسان ہو جائے گا۔ اگر شہباز شریف گر جائے تو پنجاب ن لیگ سے چھیننا ممکن ہو جائے گا۔ کیونکہ صرف شہباز شریف نے ہی پنجاب کو سنبھالا ہوا ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ شہباز شریف کو گرانے میں کون کون دلچسپی رکھ رہا ہے۔ عمران خان نے تو پہلے بھی شہباز شریف پر کئی حملے کیے ہیں لیکن وہ ناکام ہوئے ہیں۔ طاہر القادری کا لاہور میں دھرنا ناکام ہو گیا تھا۔ اس لیے بات سوچنے اور سمجھنے کی یہ ہے کہ کیا شہباز شریف کے استعفیٰ کا کوئی اسکرپٹ موجود ہے۔جہاں تک نجفی رپورٹ کا تعلق ہے اس میں سے بھی قانونی طور پر تو شاید شہباز شریف پھر بچتے نظر آرہے ہیں۔ جو پریشانی کی بڑی بات ہے۔
طاہر القادری نے اس سے پہلے بھی جو دھرنے دئے ہیں اس کا بھی اسکرپٹ تھا۔ لیکن اس اسکرپٹ میں دھرنا دلوانے والوں نے اپنے مقاصد حاصل کیے جب کہ طاہر القادری کو کچھ نہیں ملا۔طاہر القادری تو صرف عمران خان کی مدد کے لیے تھے۔ اور اس مدد کے عوض عمران خان شکریہ تو دور کی بات سیدھے منہ بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عمران خان خود طاہر القادری سے ملنے سے بھی اجتناب کرتے رہے۔ بس ایک وفد بھیج دیتے۔ عمران خان کو بھی شائد پتہ تھا کہ طاہر القادری کے ساتھ انھوں نے نہیں چلنا۔
آج طاہر القادری بند گلی میں ہیں۔ وہ سڑکوں پر آتے ہیں تو مرتے ہیں ۔ نہیں آتے ہیں تو مرتے ہیں۔آتے ہیں تو جو ساتھ دینے کا کہہ رہے ہیں انھیں ان کا تجربہ ہے۔ وہ ان کی قیادت کو نہیں مانیں گے۔ اور وہ ان کی قیادت کو نہیں مانیں گے۔ قیاد ت کا جھگڑا فورا کھڑا ہو جائے گا۔ پیپلزپارٹی کے پاس پنجاب میں ورکر ہے ہی نہیں لیڈر ہی لیڈر ہیں۔ تحریک انصاف کا ورکر بھی ان کے دھرنے میں نہیں بیٹھے گا۔ اس لیے طاہر القادری کو پتہ ہے کہ اکیلے ہی لڑنا ہے۔ لیکن اگر طاہر القادری سڑکوں پر نہیں نکلتے' شہباز شریف سے استعفیٰ لینے کے لیے دھرنا نہیں دیتے تو پراپیگنڈا ہو گا کہ بک گئے ہیں۔
اس ضمن میں رانا ثنا ء اللہ کی ایک بات بھی سامنے ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد ان کی خرم نواز گنڈا پور سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔بات چیت میں مرنے والوں کے لیے حکومت کی طرف سے امداد بھی شامل تھی۔ حکومت نے امداد کی ایک رقم کا اعلان کیا۔ لیکن بعد میں بات چیت ٹوٹ گئی۔ بس اس شور میں طاہر القادری بند گلی میں ہیں۔ کوئی راستہ بھی کہیں نہیں کھلتا۔ یہ نجفی رپورٹ تو ان کے لیے گلے کی ہڈی بن رہی ہے جو نہ نگلی جا سکتی ہے نہ اگلی جا سکتی ہے۔ اس نے مشکلات میں کمی کے بجائے اضافہ کر دیا ہے۔