کراچی سانحہ عباس ٹاؤن کا مرکزی ملزم عالم شیرمحسود 2 ساتھیوں سمیت گرفتار پولیس
گرفتارملزمان منصور اور انعام اللہ محسودنے دوران تفتیش مرکزی ملزم کی نشاندہی کی جس پرخداکی بستی میں چھاپہ ماراگیا،پولیس
سرجانی ٹاؤن میں واقع خداکی بستی میں مرکزی ملزم کی گرفتاری کیلئے جب چھاپہ مارا گیا توملزمان نے پولیس پر فائرنگ کردی، پولیس فوٹو: اے ایف پی
KARACHI:
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سانحہ عباس ٹاؤن کے مرکزی ملزم عالم شیر محسود کو 2 ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس نے اورنگی ٹاؤن میں ایک کارروائی کے دوران منصور اور انعام اللہ محسود کو گرفتار کیا، دوران تفتیش ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ سانحہ عباس ٹاؤن سمیت دیگر تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور عباس ٹاؤن واقعے کا مرکزی ملزم عالم شیر محسود اس وقت سرجانی ٹاؤن میں واقع خدا کی بستی میں موجود ہے،ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے عباس ٹاؤن میں بارودی مواد سے بھری پک اپ کھڑی کی تھی اور بعد میں وہ موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے تھے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان کی نشاندہی پر خدا کی بستی میں چھاپہ مارا گیا جہاں پولیس کے پہنچنے پر ملزم نے فائرنگ شروع کردی تاہم پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم عالم شیر محسود کو گرفتار کرلیا۔
واضح رہے کہ سانحہ عباس ٹاؤن میں 50 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ کروڑوں روپے کی املاک تباہ ہوگئی تھی۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سانحہ عباس ٹاؤن کے مرکزی ملزم عالم شیر محسود کو 2 ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس نے اورنگی ٹاؤن میں ایک کارروائی کے دوران منصور اور انعام اللہ محسود کو گرفتار کیا، دوران تفتیش ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ سانحہ عباس ٹاؤن سمیت دیگر تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور عباس ٹاؤن واقعے کا مرکزی ملزم عالم شیر محسود اس وقت سرجانی ٹاؤن میں واقع خدا کی بستی میں موجود ہے،ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے عباس ٹاؤن میں بارودی مواد سے بھری پک اپ کھڑی کی تھی اور بعد میں وہ موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے تھے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان کی نشاندہی پر خدا کی بستی میں چھاپہ مارا گیا جہاں پولیس کے پہنچنے پر ملزم نے فائرنگ شروع کردی تاہم پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم عالم شیر محسود کو گرفتار کرلیا۔
واضح رہے کہ سانحہ عباس ٹاؤن میں 50 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ کروڑوں روپے کی املاک تباہ ہوگئی تھی۔