عمران خان اہل ہو کر بھی بھنور میں شہباز شریف بچ گئے
جہاں تک جہانگیر ترین کی نااہلی کا تعلق ہے تو اس سے پاکستان کے سیاسی منظر نامہ پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔
msuherwardy@gmail.com
PESHAWAR:
سپریم کورٹ نے ایک ہی دن میں دو بڑے فیصلے سنا دیے ہیں۔ ان دو فیصلوں سے ملک کے سیاسی منظر نامہ سے نہ صرف ابہام کافی حد تک کم ہو گیا ہے بلکہ منظر نامہ صاف بھی ہو گیا ہے۔ لیکن یہ وقتی ہے۔ بیشک عمران خان کو پہلے مرحلے میں اہل قرار دے دیا گیا ہے لیکن ساتھ ساتھ بیرونی فنڈنگ کا کیس الیکشن کمیشن میں بھیج کر ان پر نا اہلی کی تلوار لٹکا دی گئی۔ بیرونی فنڈنگ کا کیس الیکشن کمیشن کو بھجوا کر میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کے خلاف گھیر ا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔ ایک طرف سپریم کورٹ نے عمران خان کو اہل قرار دیا ہے ۔
دوسری طرف سپریم کورٹ نے حدیبیہ کیس کھولنے سے بھی انکا ر کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے شہباز شریف کو بھی ایک طرح سے اہل قرار دے دیا گیا ہے۔ جیسے عمران خان کے لیے اگلے انتخابات میں حصہ لینے کی راہ ہموار کر دی گئی ہے، شہباز شریف کے لیے بھی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔ جہاں تک جہانگیر ترین کی نااہلی کا تعلق ہے تو اس سے پاکستان کے سیاسی منظر نامہ پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ وہ تحریک انصاف میں بے شک بہت اہم تھے۔ وہ نمبر ٹو تھے، لیکن ان کی نمبر ٹو حیثیت بھی متنازعہ تھی۔ ہم کسی بھی طرح جہانگیر ترین کا ن لیگ میں شہباز شریف سے موازنہ نہیں کر سکتے۔ جہانگیر ترین کی نااہلی سے کسی بھی طرح تحریک انصاف کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔
مجھے تو سپریم کورٹ کا فیصلہ پاناما کے فیصلے کی دوسری قسط ہی لگ رہا ہے۔ پاناما میں پہلے مرحلہ میں نواز شریف کو نا اہل نہیں قرار دیا گیا تھا بلکہ جے آئی ٹی بنا دی گئی تھی۔ بعد میں اسی کی رپورٹ پر انھیں نا اہل اقرار دیا گیا۔ عمران خان کے خلاف بیرونی فنڈنگ کا کیس الیکشن کمیشن کو بھیج دیا گیا ہے۔
اگر الیکشن کمیشن اب یہ فیصلہ دیتا ہے کہ عمران خان نے بیرونی فنڈنگ قبول کی ہے تب بھی عمران خان پر نااہلی کی تلوار دوبارہ لٹک سکتی ہے۔ اس طرح عمران خان کو ملنے والی کلین چٹ ابھی مشروط ہے۔ سیاسی طورپر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وقتی طور پر عمران خان کو کلین چٹ مل گئی ہے۔ تا ہم الیکشن کمیشن کا فیصلہ کسی بھی وقت منظر نامہ کو دوبارہ بدل سکتا ہے۔ اور آج کی خوشیاں کل کے غم میں بدل سکتی ہیں۔ سپریم کورٹ کے ان دونوں فیصلوں سے عمران خان کی سیاسی برتری میں اضافہ ہوا ہے اور وہ بے شک اگلے انتخابات میں وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار بن کر ابھر آئے ہیں۔
حدیبیہ کیس نہ کھلنے سے میرے ان دوستوں کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں جو شہباز شریف کو گیم سے آؤٹ کرنا چاہتے تھے۔ حدیبیہ کیس ان کی واحد امید تھی۔ میرے ان دوستوں کو اب شہباز شریف کا مقابلہ اگلے انتخابات میں کرنا ہو گا۔ میرے خیال میں یہ منطق بھی دم توڑ گئی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف کو آگے نہیں لانا چاہتی اور یہ دلیل بھی ختم ہو گئی ہے، نواز شریف کبھی شہباز شریف کو آگے نہیں آنے دیں گے۔ اب نہ تو اسٹیبلشمنٹ کے پاس شہباز شریف کو روکنے کا کوئی جواز ہے اور نہ ہی نواز شریف کے پاس شہباز شریف کو روکنے کا کوئی راستہ ہے۔ نواز شریف کو اب ن لیگ کا تاج شہباز شریف کو دینا ہی ہو گا۔
حدیبیہ کیس کے فیصلے نے نواز شریف کے اس بیانیہ کو بھی مسترد کر دیا ہے کہ ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف کوئی سازش کی جا رہی ہے۔ یہ بیانیہ بھی ختم ہو گیا کہ ان کی سیاست ختم کرنے کا کوئی اسکرپٹ موجود ہے اور ایک باقاعدہ اسکرپٹ کے تحت ان کے اور ان خاندان کے خلاف مقدمات کے فیصلے آرہے ہیں۔ اب جب کہ ایک اہم کیس میں شریف فیملی کے حق میں فیصلہ آگیا ہے تو کیا کہا جائے گا۔ نواز شریف نے جس عدلیہ کے خلاف ''مجھے کیوں نکالا'' کی مہم چلائی تھی، اب وہ عدلیہ کی جانب سے اپنے حق میں فیصلے پر کیا کہیں گے۔ اب کیا یہ فیصلہ بھی کسی اشارے پر آیا ہے۔ حدیبیہ کیس کے فیصلے سے نہ صرف عدلیہ کے وقار میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس سے عدلیہ کے خلاف چلائی جانے والی مہم بھی دم توڑ گئی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے کہ نواز شریف کی عدلیہ کے خلاف مہم اب کیسے چلے گی۔
ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ عدالتیں قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ عدالتوں کو سیاسی تقاضوں کا خیال نہیں ہو تا۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ ہم عدلیہ کے فیصلوں کے سیاسی محرکات تلاش کرتے ہیں۔ تا ہم یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاستدانوں کے مقدمات میں فیصلوں کے سیاسی محرکات ہوتے ہیں۔ ان کی ایک سیاسی حیثیت ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے ملک کی سیاست پر اثرات بھی ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے عدلیہ کے فیصلے سیاسی بن جاتے ہیں۔ تا ہم پھر بھی ہمیں ان کو آئین و قانون کے دائرے میں ہی دیکھنا چاہیے۔
جہاں تک حدیبیہ کیس کے فیصلے کا تعلق ہے تو اس سے فی الحال فوری طور پر نواز شریف کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ گو یہ فیصلہ نواز شریف کے حق میں آیا ہے لیکن اس سے ان کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ وہ نا اہل کے ناہل ہی رہیں گے حتیٰ کے نواز شریف کی بیٹی مریم صفدر کی مشکلات میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ ان کے ریفرنس ویسے ہی چلتے رہیں گے اور ان ریفرنسز میں ان کی سزا کے حوالے سے جو بھی امکانات ہیں وہ ویسے ہی رہیں گے۔ اس طرح ان کی مشکلات میں بھی کوئی کمی نہیں ہو گی۔
نواز شریف کے بیٹوں کی مشکلات میں بھی کوئی کمی نہیں ہو گی۔ حدیبیہ کے فیصلے کے بعد اسحاق ڈارکی مشکلات میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی، وہ جس بھنور میں پھنسے ہیں اس سے نہیں نکل سکیں گے۔ ان کے خلاف ریفرنس ویسے ہی موجود رہیں گے۔ ان کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ بھی نہیں رکیں گے۔ اس طرح حدیبیہ کے فیصلے سے ملک کے سیاسی منظر نامہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اگر کسی کو ریلیف ملا ہے تو وہ شہباز شریف ہے۔ اگر کسی کو کلین چٹ ملی ہے تو بھی شہباز شریف ہیں۔ کیا اگلے انتخابات میں اب شہباز شریف اور عمران خان کے درمیان مقابلہ ہو گا۔ منظر نامہ اسی طرف جا رہا ہے۔ اب تو ن لیگ کے پاس بھی اس کے سواکوئی آپشن نہیں ہے کہ وہ شہباز شریف کو عمران خان سے مقابلہ کرنے کے لیے گرین سگنل دیدے۔
سپریم کورٹ کے ان فیصلوں سے الیکشن کمیشن کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں جس طرح الیکشن کمیشن کو ربڑ سٹمپ سمجھتی تھیں، وہ ختم ہو گا اور الیکشن کمیشن کو ایک فعال ادارہ بننے میں مدد ملے گی۔ حال ہی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اکاؤنٹس کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں وقت پر جمع نہیں کرائیں۔ تا ہم جب تک ملک میں الیکشن کمیشن مضبوط نہیں ہوگا۔ جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ الیکشن کمیشن کی حیثیت جمہوریت میں ایک ایمپائر کی سی ہے اور ایمپائر جتنا مضبوط ہو گا میچ اتنا ہی اچھا ہو گا۔
پاکستان کے اگلے منظر نامہ کا جو بھی اسکرپٹ ہے، اس میں عمران خان کی پوزیشن ابھی واضع نہیں ہے۔کہا جا سکتا ہے کہ انھیں ابھی مائنس بھی نہیں کیا جا رہا ہے لیکن مائنس کی تلوار ختم بھی نہیں کی جا رہی۔ ان کے بارے میں ابھی ابہام باقی ہے۔
سپریم کورٹ نے ایک ہی دن میں دو بڑے فیصلے سنا دیے ہیں۔ ان دو فیصلوں سے ملک کے سیاسی منظر نامہ سے نہ صرف ابہام کافی حد تک کم ہو گیا ہے بلکہ منظر نامہ صاف بھی ہو گیا ہے۔ لیکن یہ وقتی ہے۔ بیشک عمران خان کو پہلے مرحلے میں اہل قرار دے دیا گیا ہے لیکن ساتھ ساتھ بیرونی فنڈنگ کا کیس الیکشن کمیشن میں بھیج کر ان پر نا اہلی کی تلوار لٹکا دی گئی۔ بیرونی فنڈنگ کا کیس الیکشن کمیشن کو بھجوا کر میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کے خلاف گھیر ا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔ ایک طرف سپریم کورٹ نے عمران خان کو اہل قرار دیا ہے ۔
دوسری طرف سپریم کورٹ نے حدیبیہ کیس کھولنے سے بھی انکا ر کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے شہباز شریف کو بھی ایک طرح سے اہل قرار دے دیا گیا ہے۔ جیسے عمران خان کے لیے اگلے انتخابات میں حصہ لینے کی راہ ہموار کر دی گئی ہے، شہباز شریف کے لیے بھی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔ جہاں تک جہانگیر ترین کی نااہلی کا تعلق ہے تو اس سے پاکستان کے سیاسی منظر نامہ پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ وہ تحریک انصاف میں بے شک بہت اہم تھے۔ وہ نمبر ٹو تھے، لیکن ان کی نمبر ٹو حیثیت بھی متنازعہ تھی۔ ہم کسی بھی طرح جہانگیر ترین کا ن لیگ میں شہباز شریف سے موازنہ نہیں کر سکتے۔ جہانگیر ترین کی نااہلی سے کسی بھی طرح تحریک انصاف کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔
مجھے تو سپریم کورٹ کا فیصلہ پاناما کے فیصلے کی دوسری قسط ہی لگ رہا ہے۔ پاناما میں پہلے مرحلہ میں نواز شریف کو نا اہل نہیں قرار دیا گیا تھا بلکہ جے آئی ٹی بنا دی گئی تھی۔ بعد میں اسی کی رپورٹ پر انھیں نا اہل اقرار دیا گیا۔ عمران خان کے خلاف بیرونی فنڈنگ کا کیس الیکشن کمیشن کو بھیج دیا گیا ہے۔
اگر الیکشن کمیشن اب یہ فیصلہ دیتا ہے کہ عمران خان نے بیرونی فنڈنگ قبول کی ہے تب بھی عمران خان پر نااہلی کی تلوار دوبارہ لٹک سکتی ہے۔ اس طرح عمران خان کو ملنے والی کلین چٹ ابھی مشروط ہے۔ سیاسی طورپر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وقتی طور پر عمران خان کو کلین چٹ مل گئی ہے۔ تا ہم الیکشن کمیشن کا فیصلہ کسی بھی وقت منظر نامہ کو دوبارہ بدل سکتا ہے۔ اور آج کی خوشیاں کل کے غم میں بدل سکتی ہیں۔ سپریم کورٹ کے ان دونوں فیصلوں سے عمران خان کی سیاسی برتری میں اضافہ ہوا ہے اور وہ بے شک اگلے انتخابات میں وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار بن کر ابھر آئے ہیں۔
حدیبیہ کیس نہ کھلنے سے میرے ان دوستوں کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں جو شہباز شریف کو گیم سے آؤٹ کرنا چاہتے تھے۔ حدیبیہ کیس ان کی واحد امید تھی۔ میرے ان دوستوں کو اب شہباز شریف کا مقابلہ اگلے انتخابات میں کرنا ہو گا۔ میرے خیال میں یہ منطق بھی دم توڑ گئی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف کو آگے نہیں لانا چاہتی اور یہ دلیل بھی ختم ہو گئی ہے، نواز شریف کبھی شہباز شریف کو آگے نہیں آنے دیں گے۔ اب نہ تو اسٹیبلشمنٹ کے پاس شہباز شریف کو روکنے کا کوئی جواز ہے اور نہ ہی نواز شریف کے پاس شہباز شریف کو روکنے کا کوئی راستہ ہے۔ نواز شریف کو اب ن لیگ کا تاج شہباز شریف کو دینا ہی ہو گا۔
حدیبیہ کیس کے فیصلے نے نواز شریف کے اس بیانیہ کو بھی مسترد کر دیا ہے کہ ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف کوئی سازش کی جا رہی ہے۔ یہ بیانیہ بھی ختم ہو گیا کہ ان کی سیاست ختم کرنے کا کوئی اسکرپٹ موجود ہے اور ایک باقاعدہ اسکرپٹ کے تحت ان کے اور ان خاندان کے خلاف مقدمات کے فیصلے آرہے ہیں۔ اب جب کہ ایک اہم کیس میں شریف فیملی کے حق میں فیصلہ آگیا ہے تو کیا کہا جائے گا۔ نواز شریف نے جس عدلیہ کے خلاف ''مجھے کیوں نکالا'' کی مہم چلائی تھی، اب وہ عدلیہ کی جانب سے اپنے حق میں فیصلے پر کیا کہیں گے۔ اب کیا یہ فیصلہ بھی کسی اشارے پر آیا ہے۔ حدیبیہ کیس کے فیصلے سے نہ صرف عدلیہ کے وقار میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس سے عدلیہ کے خلاف چلائی جانے والی مہم بھی دم توڑ گئی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے کہ نواز شریف کی عدلیہ کے خلاف مہم اب کیسے چلے گی۔
ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ عدالتیں قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ عدالتوں کو سیاسی تقاضوں کا خیال نہیں ہو تا۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ ہم عدلیہ کے فیصلوں کے سیاسی محرکات تلاش کرتے ہیں۔ تا ہم یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاستدانوں کے مقدمات میں فیصلوں کے سیاسی محرکات ہوتے ہیں۔ ان کی ایک سیاسی حیثیت ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے ملک کی سیاست پر اثرات بھی ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے عدلیہ کے فیصلے سیاسی بن جاتے ہیں۔ تا ہم پھر بھی ہمیں ان کو آئین و قانون کے دائرے میں ہی دیکھنا چاہیے۔
جہاں تک حدیبیہ کیس کے فیصلے کا تعلق ہے تو اس سے فی الحال فوری طور پر نواز شریف کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ گو یہ فیصلہ نواز شریف کے حق میں آیا ہے لیکن اس سے ان کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ وہ نا اہل کے ناہل ہی رہیں گے حتیٰ کے نواز شریف کی بیٹی مریم صفدر کی مشکلات میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ ان کے ریفرنس ویسے ہی چلتے رہیں گے اور ان ریفرنسز میں ان کی سزا کے حوالے سے جو بھی امکانات ہیں وہ ویسے ہی رہیں گے۔ اس طرح ان کی مشکلات میں بھی کوئی کمی نہیں ہو گی۔
نواز شریف کے بیٹوں کی مشکلات میں بھی کوئی کمی نہیں ہو گی۔ حدیبیہ کے فیصلے کے بعد اسحاق ڈارکی مشکلات میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی، وہ جس بھنور میں پھنسے ہیں اس سے نہیں نکل سکیں گے۔ ان کے خلاف ریفرنس ویسے ہی موجود رہیں گے۔ ان کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ بھی نہیں رکیں گے۔ اس طرح حدیبیہ کے فیصلے سے ملک کے سیاسی منظر نامہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اگر کسی کو ریلیف ملا ہے تو وہ شہباز شریف ہے۔ اگر کسی کو کلین چٹ ملی ہے تو بھی شہباز شریف ہیں۔ کیا اگلے انتخابات میں اب شہباز شریف اور عمران خان کے درمیان مقابلہ ہو گا۔ منظر نامہ اسی طرف جا رہا ہے۔ اب تو ن لیگ کے پاس بھی اس کے سواکوئی آپشن نہیں ہے کہ وہ شہباز شریف کو عمران خان سے مقابلہ کرنے کے لیے گرین سگنل دیدے۔
سپریم کورٹ کے ان فیصلوں سے الیکشن کمیشن کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں جس طرح الیکشن کمیشن کو ربڑ سٹمپ سمجھتی تھیں، وہ ختم ہو گا اور الیکشن کمیشن کو ایک فعال ادارہ بننے میں مدد ملے گی۔ حال ہی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اکاؤنٹس کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں وقت پر جمع نہیں کرائیں۔ تا ہم جب تک ملک میں الیکشن کمیشن مضبوط نہیں ہوگا۔ جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ الیکشن کمیشن کی حیثیت جمہوریت میں ایک ایمپائر کی سی ہے اور ایمپائر جتنا مضبوط ہو گا میچ اتنا ہی اچھا ہو گا۔
پاکستان کے اگلے منظر نامہ کا جو بھی اسکرپٹ ہے، اس میں عمران خان کی پوزیشن ابھی واضع نہیں ہے۔کہا جا سکتا ہے کہ انھیں ابھی مائنس بھی نہیں کیا جا رہا ہے لیکن مائنس کی تلوار ختم بھی نہیں کی جا رہی۔ ان کے بارے میں ابھی ابہام باقی ہے۔