اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی سے وکلا کی بدتمیزی
عدالت نے وکیل کا لائسنس معطل کرکے گرفتاری کا حکم دے دیا۔
عدالت نے وکیل کا لائسنس معطل کرکے گرفتاری کا حکم دے دیا۔ : فوٹو : فائل
NAWABSHAH:
ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے وکیل نے بدتمیزی کی جس پر عدالت نے وکیل کا لائسنس معطل کرکے گرفتاری کا حکم دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں مکان پر قبضے کے کیس میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے وکیل گلبہار شیر ایڈووکیٹ نے بدتمیزی کردی ۔ سہیل محمود نامی ایک وکیل پر فائزہ نامی خاتون کے مکان پر قبضہ کرنے کا الزام تھا اور مختلف عدالتوں میں گزشتہ 36 برس سے جائیداد کا مقدمہ چل رہا تھا۔
ملزم سہیل احمد ایڈووکیٹ کے وکیل گلبہار شیر نے عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے بدتمیزی کردی، جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ملزم اور اس کے وکیل کا لائسنس معطل کرتے ہوئے گرفتاری کا حکم دے دیا۔ عدالت نے فائزہ نامی خاتون کو مکان پر قبضہ فوری دلوانے کا حکم بھی جاری کیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کیس کی سماعت کے بعد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر جسٹس عزیز صدیقی نے مقدمے کے دونوں وکلا کو معافی دے کر رہا کروا دیا تاہم عدالت نے وکلا کو وکالت کے لائسنس جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے توہین عدالت کے نوٹسز جاری کردیئے۔
ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے وکیل نے بدتمیزی کی جس پر عدالت نے وکیل کا لائسنس معطل کرکے گرفتاری کا حکم دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں مکان پر قبضے کے کیس میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے وکیل گلبہار شیر ایڈووکیٹ نے بدتمیزی کردی ۔ سہیل محمود نامی ایک وکیل پر فائزہ نامی خاتون کے مکان پر قبضہ کرنے کا الزام تھا اور مختلف عدالتوں میں گزشتہ 36 برس سے جائیداد کا مقدمہ چل رہا تھا۔
ملزم سہیل احمد ایڈووکیٹ کے وکیل گلبہار شیر نے عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے بدتمیزی کردی، جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ملزم اور اس کے وکیل کا لائسنس معطل کرتے ہوئے گرفتاری کا حکم دے دیا۔ عدالت نے فائزہ نامی خاتون کو مکان پر قبضہ فوری دلوانے کا حکم بھی جاری کیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کیس کی سماعت کے بعد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر جسٹس عزیز صدیقی نے مقدمے کے دونوں وکلا کو معافی دے کر رہا کروا دیا تاہم عدالت نے وکلا کو وکالت کے لائسنس جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے توہین عدالت کے نوٹسز جاری کردیئے۔