پنجاب اور کے پی کے پولیس میں کریڈٹ کا مسئلہ
پنجاب حکومت نے تو قسم کھائی ہوئی ہے کہ اس نے پنجاب پولیس کے کسی اچھے کام کی بھی تعریف نہیں کرنی ہے۔
msuherwardy@gmail.com
جب میں اسکول میں پڑھتا تھا تو میرے والدین اکثر میرے نمبروں سے ناخوش رہتے تھے۔ بہتر سے بہترکی تلاش میں میرے والدین کو میرے حاصل کردہ نمبر ہمیشہ کم ہی لگتے تھے ۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میرے نمبر بہت اچھے آتے تھے۔
اگر میں لائق نہیں تھا تو نالائق بھی نہیں تھا۔تاہم مقابلے میں میری ایک آنٹی اور انکل تھے جو ہر وقت اپنے بچوں کے نمبروں کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے ۔ وہ اپنے بچوں کو بہت لائق بتاتے تھے۔ اکثر ان کی اپنے بچوں کی بے وجہ تعریف سے میری ڈانٹ میں اضافہ ہو جاتا۔ اور میرے اچھے نمبر بھی برے بن جاتے۔ آج وہ جن کی بے جا تعریف کی جاتی تھی وہ یقینا اس جعلی تعریف کا ہی شکار ہوگئے۔
یہ واقعہ لکھنے کا مقصد ایک ہی ہے کہ بے جا تعریف بھی تباہی کا ہی باعث بنتی ہے۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال کے پی کے پولیس کے ساتھ بھی پیش آرہی ہے۔ عمران خان کی بے جا تعریف نے اس بیچاری پاکستانی پولیس کے لیے مسائل پیدا کر دئے ہیں۔ عمران خان جلسوں میں کے پی کے کی پولیس کو بدل دینے کے ایسے دعوے کرتے ہیں کہ ایسا گمان ہونے لگتا ہے کہ کے پی کے کی پولیس اسکاٹ لینڈ یارڈ بن گئی ہے۔ اور مقابلے میں پنجاب پولیس کا کوئی حال ہی نہیں۔
پنجاب پو لیس کی حالت میری جیسی ہے جیسے میرے والدین کبھی میری تعریف نہیں کرتے تھے۔ ایسے ہی پنجاب پولیس کی بھی کوئی تعریف نہیں کرتا۔ بیچاروں کے اچھے کام کی بھی کوئی تعریف نہیں کرتا۔ بس ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ اور تنقید ہی جاری رہتی ہے۔
پنجاب حکومت نے تو قسم کھائی ہوئی ہے کہ اس نے پنجاب پولیس کے کسی اچھے کام کی بھی تعریف نہیں کرنی ہے۔ اس کے اس رویہ نے عملًا پنجاب پولیس کو سیاسی طور پر لاوارث کر دیا ہے۔ جس کو پولیس میں ہر سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پنجاب پولیس بہت اچھی ہو گئی ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ سب خراب ہے۔ پنجاب پولیس میں اصلاحات کا ایک عمل جاری ہے جس پر شائد کسی کی کوئی توجہ نہیں ۔
گذشتہ روز کے پی کے پولیس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق کے پی کے پولیس کی جانب سے پہلی بار شہدا کے لیے ''مارٹیرز کیئرـ'' ایس ایم ایس سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بحیثیت قوم ہم شہدا کے مقروض ہیں اوریہ بھی سچ ہے کہ ہم اپنے شہدا اور ان کی قربانیوں میں کسی قسم کی تفریق نہیں کر سکتے۔ دوسری جانب اس پوسٹ کو دیکھنے کے بعد شدت سے اس بات کا احساس بھی ہوا کہ ہم ہی اپنے ہیروز کو سراہنے کے معاملے میں بخیل واقع ہوئے ہیں ۔
ہمارا مجموعی مزاج بن چکا ہے کہ ہم اپنے اصل ہیروز اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل محنتی افراد کی تعریف کرنے کے بجائے ان کے کارناموں کو نظر انداز کرنے لگے ہیں ۔میں یہ وضاحت اس لیے لکھ رہا ہوں کہ کہیں کل عمران خان کسی بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ دعویٰ نہ کردیں کہ کے پی کے پولیس پہلی پولیس ہے جس نے شہدا کے ورثا کے لیے ایس ایم ایس سروس شروع کی ہے۔ یہ سروس شروع کر کے کے پی کے پولیس نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں جلسہ میں پنجاب پولیس کو للکار نہ دیں کہ دیکھو پنجاب پولیس نے اپنے شہدا کے لیے کچھ نہیں کیا۔ بیچاری پنجاب پولیس ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے کوئی جواب نہیں دے سکتے۔
اسی لیے ریکارڈ کی درستگی کے لیے عرض ہے کہ شہدا کے خاندانوں کی ویلفیئر کے حوالے سے سب سے پہلے ایس ایم ایس سروس کا یہ نظام پنجاب اور لاہور پولیس کے سینئر افسران امین وینس اور رانا ایاز سلیم نے متعارف کرایا تھا۔ لاہور پولیس کی ایس ایم ایس سروس کو ویلفیئر آئی کا نام دیا گیا تھا۔ اس ایس ایم سروس کی لانچنگ کی گئی تھی لیکن چونکہ سیاسی طور پر پنجاب میں اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی گئی اس لیے اس کی پذیرائی اس سطح پر نہ ہو سکی جیسے ہونی چاہیے تھی۔ ہم بطور میڈیا بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ جب تک خبر میں سیاسی تڑکا نہ ہو ہم بھی اسے اہم نہیں سمجھتے۔
اصل میں تو کے پی کے پولیس کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ لاہور اور پنجاب پولیس کی تقلید میں شہدا کے ورثاء کے لیے کے پی کے میں بھی ایس ایم ایس سروس شروع کر دی گئی ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ کے پی کے پولیس بھی تحریک انصاف کے رنگ میں رنگی گئی ہے۔ کریڈٹ لینے کی اس دوڑ میں بازی لینے کے چکر نے ہمیں نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔
''ویلفیئر آئی '' ایک ایسا پراجیکٹ ہے جس کے تحت لاہور پولیس کے تمام شہدا کا ڈیٹاایک جگہ اکٹھا کیا گیا اور ان کے خاندانوں کو ایس ایم ایس نمبر فراہم کر دیا گیا ۔ اب ان شہدا کے خاندانوں کو کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ صرف ایک ایس ایم ایس کر کے اپنے مسئلہ سے آگاہ کرتے ہیں جس کے بعد لاہور پولیس کی ایک ٹیم ان سے رابطہ کر کے تفصیلات پوچھتی ہے اور اس مسئلہ کو اپناذاتی مسئلہ سمجھ کر حل کرواتی ہے ۔ویلفیئر آئی کی ٹیم کو کسی شہید کے خاندان کے فرد کی جانب سے کوئی مسئلہ بتا دیا جائے تو پھر اس شخص کی جگہ لاہور پولیس شہید کی جانب سے مدعی بن جاتی ہے ۔
لاہور میں ویلفیئر آئی پراجیکٹ کو ابتدائی طور پر لانچ کیا گیا تھا اور اس کی کامیابی کے بعد آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے نہ صرف اسے پنجاب بھر میں لانچ کرنے کا حکم دیا بلکہ یہ سارا سسٹم ایک مثال کے طور پر ملک کے دیگر صوبوں کو بھی بھجوایا گیا تھا ۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ دیگر صوبوں کی پولیس بھی اس اچھے کام میں حصہ بن جائے اور ملک بھر میں شہدا کے خاندانوں کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ ''شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے '' اور ہم اپنے شہدا کے خاندانوں کو کسی بھی صورت تنہا نہیں چھوڑ سکتے ۔
کے پی کے پولیس نے بھی پنجاب پولیس کی تقلید کرتے ہوئے اس سسٹم کا آغاز تو کر دیا لیکن اس کا کریڈٹ پنجاب پولیس کو دینے کے بجائے خود لیتے ہوئے اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ لگا کر اعلان کر دیا کہ پاکستان میں پہلی بار کے پی کے پولیس نے شہداء کے لیے ایس ایم ایس سروس کا آغاز کر دیا جو یقیناََ ایک نازیبا حرکت کے سوا کچھ نہیں، جس پر آئی جی کے پی کو نوٹس لیتے ہوئے ذمے داروں کو فکس کرنا چاہیے کیونکہ پنجاب پولیس کے کارنامے کو اپنے نام کرنا درست نہیں ۔بے زبان پنجاب پولیس کے لیے تو کوئی بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہے اس لیے یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔
اگر میں لائق نہیں تھا تو نالائق بھی نہیں تھا۔تاہم مقابلے میں میری ایک آنٹی اور انکل تھے جو ہر وقت اپنے بچوں کے نمبروں کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے ۔ وہ اپنے بچوں کو بہت لائق بتاتے تھے۔ اکثر ان کی اپنے بچوں کی بے وجہ تعریف سے میری ڈانٹ میں اضافہ ہو جاتا۔ اور میرے اچھے نمبر بھی برے بن جاتے۔ آج وہ جن کی بے جا تعریف کی جاتی تھی وہ یقینا اس جعلی تعریف کا ہی شکار ہوگئے۔
یہ واقعہ لکھنے کا مقصد ایک ہی ہے کہ بے جا تعریف بھی تباہی کا ہی باعث بنتی ہے۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال کے پی کے پولیس کے ساتھ بھی پیش آرہی ہے۔ عمران خان کی بے جا تعریف نے اس بیچاری پاکستانی پولیس کے لیے مسائل پیدا کر دئے ہیں۔ عمران خان جلسوں میں کے پی کے کی پولیس کو بدل دینے کے ایسے دعوے کرتے ہیں کہ ایسا گمان ہونے لگتا ہے کہ کے پی کے کی پولیس اسکاٹ لینڈ یارڈ بن گئی ہے۔ اور مقابلے میں پنجاب پولیس کا کوئی حال ہی نہیں۔
پنجاب پو لیس کی حالت میری جیسی ہے جیسے میرے والدین کبھی میری تعریف نہیں کرتے تھے۔ ایسے ہی پنجاب پولیس کی بھی کوئی تعریف نہیں کرتا۔ بیچاروں کے اچھے کام کی بھی کوئی تعریف نہیں کرتا۔ بس ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ اور تنقید ہی جاری رہتی ہے۔
پنجاب حکومت نے تو قسم کھائی ہوئی ہے کہ اس نے پنجاب پولیس کے کسی اچھے کام کی بھی تعریف نہیں کرنی ہے۔ اس کے اس رویہ نے عملًا پنجاب پولیس کو سیاسی طور پر لاوارث کر دیا ہے۔ جس کو پولیس میں ہر سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پنجاب پولیس بہت اچھی ہو گئی ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ سب خراب ہے۔ پنجاب پولیس میں اصلاحات کا ایک عمل جاری ہے جس پر شائد کسی کی کوئی توجہ نہیں ۔
گذشتہ روز کے پی کے پولیس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق کے پی کے پولیس کی جانب سے پہلی بار شہدا کے لیے ''مارٹیرز کیئرـ'' ایس ایم ایس سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بحیثیت قوم ہم شہدا کے مقروض ہیں اوریہ بھی سچ ہے کہ ہم اپنے شہدا اور ان کی قربانیوں میں کسی قسم کی تفریق نہیں کر سکتے۔ دوسری جانب اس پوسٹ کو دیکھنے کے بعد شدت سے اس بات کا احساس بھی ہوا کہ ہم ہی اپنے ہیروز کو سراہنے کے معاملے میں بخیل واقع ہوئے ہیں ۔
ہمارا مجموعی مزاج بن چکا ہے کہ ہم اپنے اصل ہیروز اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل محنتی افراد کی تعریف کرنے کے بجائے ان کے کارناموں کو نظر انداز کرنے لگے ہیں ۔میں یہ وضاحت اس لیے لکھ رہا ہوں کہ کہیں کل عمران خان کسی بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ دعویٰ نہ کردیں کہ کے پی کے پولیس پہلی پولیس ہے جس نے شہدا کے ورثا کے لیے ایس ایم ایس سروس شروع کی ہے۔ یہ سروس شروع کر کے کے پی کے پولیس نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں جلسہ میں پنجاب پولیس کو للکار نہ دیں کہ دیکھو پنجاب پولیس نے اپنے شہدا کے لیے کچھ نہیں کیا۔ بیچاری پنجاب پولیس ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے کوئی جواب نہیں دے سکتے۔
اسی لیے ریکارڈ کی درستگی کے لیے عرض ہے کہ شہدا کے خاندانوں کی ویلفیئر کے حوالے سے سب سے پہلے ایس ایم ایس سروس کا یہ نظام پنجاب اور لاہور پولیس کے سینئر افسران امین وینس اور رانا ایاز سلیم نے متعارف کرایا تھا۔ لاہور پولیس کی ایس ایم ایس سروس کو ویلفیئر آئی کا نام دیا گیا تھا۔ اس ایس ایم سروس کی لانچنگ کی گئی تھی لیکن چونکہ سیاسی طور پر پنجاب میں اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی گئی اس لیے اس کی پذیرائی اس سطح پر نہ ہو سکی جیسے ہونی چاہیے تھی۔ ہم بطور میڈیا بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ جب تک خبر میں سیاسی تڑکا نہ ہو ہم بھی اسے اہم نہیں سمجھتے۔
اصل میں تو کے پی کے پولیس کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ لاہور اور پنجاب پولیس کی تقلید میں شہدا کے ورثاء کے لیے کے پی کے میں بھی ایس ایم ایس سروس شروع کر دی گئی ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ کے پی کے پولیس بھی تحریک انصاف کے رنگ میں رنگی گئی ہے۔ کریڈٹ لینے کی اس دوڑ میں بازی لینے کے چکر نے ہمیں نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔
''ویلفیئر آئی '' ایک ایسا پراجیکٹ ہے جس کے تحت لاہور پولیس کے تمام شہدا کا ڈیٹاایک جگہ اکٹھا کیا گیا اور ان کے خاندانوں کو ایس ایم ایس نمبر فراہم کر دیا گیا ۔ اب ان شہدا کے خاندانوں کو کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ صرف ایک ایس ایم ایس کر کے اپنے مسئلہ سے آگاہ کرتے ہیں جس کے بعد لاہور پولیس کی ایک ٹیم ان سے رابطہ کر کے تفصیلات پوچھتی ہے اور اس مسئلہ کو اپناذاتی مسئلہ سمجھ کر حل کرواتی ہے ۔ویلفیئر آئی کی ٹیم کو کسی شہید کے خاندان کے فرد کی جانب سے کوئی مسئلہ بتا دیا جائے تو پھر اس شخص کی جگہ لاہور پولیس شہید کی جانب سے مدعی بن جاتی ہے ۔
لاہور میں ویلفیئر آئی پراجیکٹ کو ابتدائی طور پر لانچ کیا گیا تھا اور اس کی کامیابی کے بعد آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے نہ صرف اسے پنجاب بھر میں لانچ کرنے کا حکم دیا بلکہ یہ سارا سسٹم ایک مثال کے طور پر ملک کے دیگر صوبوں کو بھی بھجوایا گیا تھا ۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ دیگر صوبوں کی پولیس بھی اس اچھے کام میں حصہ بن جائے اور ملک بھر میں شہدا کے خاندانوں کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ ''شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے '' اور ہم اپنے شہدا کے خاندانوں کو کسی بھی صورت تنہا نہیں چھوڑ سکتے ۔
کے پی کے پولیس نے بھی پنجاب پولیس کی تقلید کرتے ہوئے اس سسٹم کا آغاز تو کر دیا لیکن اس کا کریڈٹ پنجاب پولیس کو دینے کے بجائے خود لیتے ہوئے اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ لگا کر اعلان کر دیا کہ پاکستان میں پہلی بار کے پی کے پولیس نے شہداء کے لیے ایس ایم ایس سروس کا آغاز کر دیا جو یقیناََ ایک نازیبا حرکت کے سوا کچھ نہیں، جس پر آئی جی کے پی کو نوٹس لیتے ہوئے ذمے داروں کو فکس کرنا چاہیے کیونکہ پنجاب پولیس کے کارنامے کو اپنے نام کرنا درست نہیں ۔بے زبان پنجاب پولیس کے لیے تو کوئی بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہے اس لیے یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔