نفرت نہیں محبت کا پیغام دیں

کراچی کی مہاجر قیادت کو کراچی کی اس بری حالت سے کسی بھی طرح مبرا قرار نہیں دیا جا سکتا۔

msuherwardy@gmail.com

کراچی کے بغیر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ ویسے تو پورے پاکستان کو ہی قائد اعظم کے بعد ایک ا چھی قیادت نصیب نہیں ہوئی۔ بری قیادت نے ہی پاکستان کو آج اس حال تک پہنچا دیا ہے۔ بالخصوص کراچی کی قیادت نے کراچی کی تباہی میں بڑاکردار ادا کیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کراچی کی یہ حالت کراچی کی قیادت کی وجہ سے ہی ہے۔ اس گھر کو آگ لگی ہے اس گھر کے چراغ سے۔کراچی کی مہاجر قیادت کو کراچی کی اس بری حالت سے کسی بھی طرح مبرا قرار نہیں دیا جا سکتا۔

کراچی کے عوام نے بلا شبہ دل کھول کر کراچی کی قیادت کو ووٹ دیے ہیں، مینڈیٹ دیا ہے تاہم ان کے مینڈیٹ کی توہین کی گئی ہے۔ ان کے اعتماد کو توڑا گیا ہے۔ ان کے مینڈیٹ کو ان کے ہی خلاف استعمال کیا گیا۔ ملک کی خدمت کے لیے حاصل کیے گئے مینڈیٹ کو ملک کے ہی خلاف استعمال کیا گیا۔ شہر کا امن تباہ کر دیا ہے، اسے گندا کر دیا ہے۔ بوری بند لاشوں کا کلچر دیا ۔بھتہ کلچر دیا ۔ تو پھر بھی اس مہاجر قیادت کو کراچی میں دوبارہ پذیر آئی ملنے کی کیا وجوہات ہیں۔

پاک سر زمین پارٹی کے مصطفی کمال نے لیاقت آباد کراچی میں ایک بڑے جلسہ عا م سے خطاب کیا ہے۔ میں مصطفیٰ کمال کا مداح ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ انھوں نے الطاف حسین کے خوف کو توڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کا ماضی کچھ بھی ہو لیکن ان کا حال خوبصورت ہے۔ بے شک مصطفی کمال اور ان کے قریبی ساتھیوں نے الطاف حسین کے ساتھ ایک لمبا عرصہ گزارا ہے۔ وہ ان کے گناہوں میں شریک رہے ہیں، انھیں مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

لیکن اس ماضی کے باوجود ان کا حال شاندار ہے۔ لیکن مصطفی کمال اب جو کرنے جا رہے ہیں وہ بھی بہت خطرناک ہے۔ انھیں سمجھنا ہو گا کہ الطاف حسین کو گراتے گراتے کہیں وہ خود تو الطاف حسین بننے کی کوشش تو نہیں کر رہے ہیں۔ اس قو م کے لیے ایک الطاف حسین نے ہی بہت مشکل پیدا کی ہے۔ اب دوسرے کی گنجائش نہیں ہے۔ اس لیے مصطفیٰ کمال کو سنبھل کر چلنا ہو گا اور ہمیں بھی ان کے ایک ایک قدم کو دیکھنا ہوگا۔ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے کے مصداق مصطفیٰ کمال کو الطاف حسین بننے سے پرہیز کرنا ہو گا۔

مصطفی کمال نے اپنی تقریر میں جہاں کراچی کی محرومیوں کا ذکر کیا ہے، کراچی کے مسائل کا ذکر کیا ہے۔ وہاں پتہ نہیں لاہور کو کیوں رگڑ دیا ہے۔ اگر انھیں کراچی کی مردم شماری کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں بھی تو ان کے اظہار کے لیے کیا یہ ضروری ہے لاہور اور پنجاب کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔


لاہور کی آبادی بڑھ گئی ہے، اس پر کراچی میں نفرت پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ محترم مصطفی کمال کہہ رہے ہیں کہ لاہور میں پٹھان نہیں ہے، لاہور میں بلوچ نہیں ہیں۔لاہور میں سرائیکی بولنے والے نہیں ہیں۔ پھر بھی لاہور کی آبادی بڑھ گئی ہے۔ ایک محب وطن پاکستانی پاکستان کے دل لاہور کے بارے میں ایک بڑے جلسہ عام میں ایسی بات کر رہے تھے جو حقائق کے بھی بر عکس ہے ۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ لاہور اور پنجاب کی خوش قسمتی کہ یہاں لسانی یا قوم پرستی کی سیاست کا کوئی وجود نہیں ہے۔ لاہور میں پٹھان موجود ہیں، بلوچ بھی ہیں،سرائیکی بھی لاہور آکر آباد ہوتے ہیں، اردو سپیکنگ بھی موجود ہیں لیکن ان سب کو سیاسی طور پر الگ نہیں کیا گیاہے۔ یہ لاہور کا حسن ہے کہ لاہور سب کو اپنے اندر ایسے سمو لیتا ہے کہ سب خود کو لاہوری کہتے ہیں۔گزشتہ دو دہائیوں میں کراچی کے جو حالات رہے ہیں۔کراچی سے لوگوں نے ہجرت کی ہے ۔

اب تو پنجاب سے کراچی جانا محفوظ نہیں سمجھا جاتا ہے۔آپ خود ہی کراچی کے تعلیمی اداروں میں پنجابی طلبہ کی کم ہوتی ہوئی تعداد دیکھ لیں۔ جب کہ لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بلوچ اور فاٹا کے طلبا و طالبات کی تعداد ہی دیکھ لیں تو صورتحال واضع ہو جائے گی۔ کراچی میں بھتہ خوری اور کاروباری لوگوں کو ہراساں کرنے کا جو کلچر رہا ہے،اس سے کاروباری طبقے کا ایک حصہ بھی لاہور منتقل ہوا ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کراچی کا مقدمہ لڑنے کے لیے لاہور کو برا بھلا کہنا کیوں ضروری ہے۔

مصطفی کمال نے بہت اچھے کام کیے ہیں۔کراچی کو پاکستان کے قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے وہ دن رات جدو جہد کر رہے ہیں۔ وہاں وہ اس کلچر کو بھی ختم کریں کہ کراچی کا مقدمہ لڑنے کے لیے لاہور یا پنجاب کو گالی دینا ضروری نہیں۔ تاکہ ملک میں محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو۔ ہم پاکستان کو لسانی اور دیگر بنیادوں پر تقسیم کر کے ایک علاقے کی محرومی کی ذمے داری دوسرے پر ڈال کر ملک کی کوئی خدمت نہیں کر رہے ہیں۔

جہاں ایک طرف یہ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ لاہور کی آبادی بڑھ گئی ہے۔ لیکن دوسری طرف حقائق یہ ہیں کہ پنجاب کی سیٹیں کم ہو گئی ہیں۔ سندھ کی تو کوئی سیٹ کم نہیں ہوئی ۔ پنجاب میں تو کوئی یہ ایشو نہیں بنا رہا ہے کہ ہمارے ساتھ مردم شماری میں بہت زیادتی ہو گئی ہے، آبادی بھی ہماری بڑھی ہے اور سیٹیں بھی ہماری کم ہوئی ہیں۔ سب سے پہلے پاکستان اور پاکستان کا مفاد کے اصول کے تحت ہمیں پاکستان کی ہی بات کرنی چاہیے۔

ہاں اگر یہ کہا جا ئے کہ کراچی کی مردم شماری ٹھیک نہیں ہوئی ہے، کراچی آبادی کم ظاہر کی گئی ہے تو بات درست ہے اور اچھی بھی لگتی ہے۔ مصطفیٰ کمال کو اس کے لیے لاہور سے حمائت بھی مل سکتی ہے، کراچی والوں کا یہ مطالبہ جائز بھی ہے اور اسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔جہاں تک کراچی کے مسائل کا تعلق ہے توصورتحال بہت افسوسناک ہے۔کراچی میں گند، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات کی کمی پر بات ہونی چاہیے۔ اگر لاہور میں اورنج لائن بن رہی ہے تو کراچی میں سرکلر ریلوے کی راہ میں رکاوٹیں بھی ختم ہونی چاہئیں۔کراچی کا ہر مسئلہ حل ہونچا ہئے۔ ترجیحی بنیادوں پر حل ہونا چاہیے۔ صدر مملکت کا تعلق بھی کراچی سے ہے۔ کراچی کے لیے پورے ملک میں رائے عامہ ہموار ہونی چاہیے۔ اس کے لیے مصطفی کمال کو چاہیے کہ وہ ہر طرف محبت کا پیغام بھیجیں۔
Load Next Story