عمران قادری زرداری گٹھ جوڑ جمہوریت کے لیے خطرناک

یہ طاہر القادری کا کمال ہے کہ وہ عمران خان اور آصف زرداری کو اکٹھا کر رہے ہیں، یہ آگ اور پانی کا ملاپ ہے۔

msuherwardy@gmail.com

ملک میںکچھ ہونے والا ہے کہ نہیں۔ اس ضمن میں ابہام ہے۔ منظرنامہ دھندلا ہے۔ معاملات درمیان میں ہیں۔ کچھ صاف نہیں ہے۔ سب اپنی اپنی گیم بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ سب کو ہی کچھ نہ کچھ امید ہے۔ کوئی بھی نہ مکمل آؤٹ ہے اور نہ ہی کوئی مکمل طور پر ان۔

گیم کا فائنل راؤنڈ لاہور میں ہو گا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کسی اشارے کے انتظارے میں بیٹھے ہیں۔ ان کو ابھی تک اشارہ نہیں مل رہا۔ وہ ابہام کا شکار ہیں۔ ان کا ابہام واضح ہے۔ انھوں نے سب کو اپنے ساتھ اکٹھا کر لیا ہے۔ لیکن فائنل سگنل کا انتظار ہے۔ صرف ان کو ہی نہیں بلکہ سب کو فائنل سگنل کا انتظار ہے۔ ہد ف شہباز شریف ہیں۔

بات سادہ ہے کہ ن لیگ کے مخالفین کو سمجھ ہے کہ نواز شریف کو گرانے سے ان کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ شہباز شریف نواز شریف کی جگہ لینے کے لیے موجود ہے۔ شہباز شریف کے دورہ ترکی اور سعودی عرب اس کی تازہ مثالیں ہیں۔ چین کی جانب سے پنجاب اسپیڈ بھی اس کی مثال عمدہ ہے۔ لیکن پھر بھی ابھی شہباز شریف کو مکمل گرین سگنل نہیں ہے۔ وہ بیچ راہ میں کھڑے ہیں۔

طاہر القادری کے ساتھ ن لیگ کی مخالف تمام سیاسی جماعتیں جمع ہو رہی ہیں۔ یہ طاہر القادری کا کمال ہے کہ وہ عمران خان اور آصف زرداری کو اکٹھا کر رہے ہیں۔یہ آگ اور پانی کا ملاپ ہے۔ میں اس میں طاہر القادری کا زیادہ کمال نہیں سمجھتا بلکہ اس سے صاف ظاہر ہو رہا کہ عمران خان کتنے desperateہو گئے ہیں۔ حدیبیہ کے سپریم کورٹ میں نہ کھلنے کی وجہ سے عمران خان کی گیم خراب ہو گئی ہے۔ ان کو امید تھی کہ حدیبیہ کے کھلتے ہی ان کی راہ کی آخری رکاوٹ شہباز شریف آؤٹ ہو جائیں گے۔ لیکن ایسا نہیںہوا۔ اور عمران خان پریشان ہیں۔ یہی پریشانی انھیں طاہر القادری کے قریب لے آئی ہے۔

ورنہ کہاں عمران خان کہاں طاہر القادری۔ ماضی قریب میں بلکہ پاناما میں دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ عمران خان طاہر القادری کے خلاف بیان دے رہے تھے اور طاہر القادری عمران خان پر کھلے عام طنز کے نشتر چلا رہے تھے۔ عمران خان طاہر القادری سے ملنے سے اجتناب کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب در پر حاضری دینے پہنچ گئے ہیں۔ یہ طاہر القادری کی محبت نہیں ہے۔ وہ جلد الیکشن چاہتے ہیں۔ اسمبلیوں کی چھٹی چاہتے ہیں۔ شہباز شریف کا بستر گول چاہتے ہیں۔ اور اس سب کے لیے طاہر القادری ان کو آخری امید نظر آرہے ہیں۔

دوسری طرف آصف زرداری کے مسائل مختلف ہیں۔ پنجاب ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ان کی جماعت سندھ کی اب بھی سب سے بڑی جماعت ہے۔ کے پی کے سے بھی سیٹیں نکل آئیں گی۔ بلوچستان کی گیم بھی مختلف ہے۔ سوال تو پنجاب کا ہے۔ پنجاب میں بحالی کے بغیر پیپلزپارٹی کی بحالی ممکن نہیں۔ کائرہ صاحب بھی کوئی تبدیلی نہیں لا سکے۔ نہ ناراض کارکن واپس آرہا ہے۔ نہ ووٹ بینک واپس آرہا ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 120کے ضمنی انتخاب کے نتائج نے تو سب کے سر جھکا د یے ہیں۔ اس لیے آصف زرداری کوپنجاب میں اتحادیوں کی تلاش ہے۔ عمران خان ان کو گھاس ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔ عمران خان کو پتہ ہے پیپلزپارٹی پنجاب میں ایک مردہ گھوڑا ہے وہ کیوں اس میں جان ڈالیں۔


لیکن آصف زرداری کو یہ سمجھ نہیںآرہی کہ وہ طاہر القادری کو جمہوری ٹریک پر کیسے رکھیں۔ طاہر القاری کو اس ملک کی جمہوریت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ کینیڈا کی شہریت لے چکے ہیں۔ جس طرح نواز شریف اقامہ پر نا اہل ہیں۔ اسی طرح طاہر القادری بھی بیرونی شہریت پر نااہل ہیں۔ وہ پاکستان کی سیاست میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔ لیکن پھر بھی وہ پاکستان کی سیاست میں مداخلت کرتے ہیں۔

ان کی یہ مداخلت کبھی مثبت نہیں رہی۔ وہ کبھی بھی جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے باہر نہیں آئے۔ انھیں جب بھی لایا گیا اس کے مقاصد نظام کی تباہی تھا۔ انھیں جمہوری نظام کے کھلاڑیوں کو بلیک میل کرنے کے لیے ہی استعمال کیا جاتا رہاہے۔ ان کے دونوں دھرنے مکمل طور پر ناکام ہوئے لیکن یہ ناکامی طاہر القادری کی حد تک ہی تھی جنہوں نے ان سے دھرنا کرایا تھا ان کے مقاصد دونوں دفعہ ہی پورے ہوئے ہیں۔ دونوں دفعہ ہی ملک میں جمہوریت کمزور ہوئی اور غیر جمہوری قوتیں مضبوط ہوئیں۔

اس بار بھی طاہر القادری عمران خان اور آصف زرداری کا گٹھ جوڑ ملک میں جمہوریت کے لیے کوئی خیر کی خبر نہیں لا سکتا۔ یہ ایک غیر جمہوری اتحاد ہے جس کے جمہوری مقاصد نہیں ہو سکتے۔ گو کہ عمران خان اور آصف زرداری کے اہداف مختلف ہیں۔ لیکن طاہر القادری تو ان دونوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مقاصد جمہوری نہیں ہیں۔ ایک عام تاثر یہی ہے کہ نجفی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد طاہر القادری کو فوری طور پر باہر آجانا چاہیے تھا۔

وہ بلا وجہ دیر کر رہے ہیں۔ ان کی دیر معنی خیز ہے۔ اطلاع یہی ہے کہ اشارے کی دیر ہے۔ گر ین سگنل نہیں مل رہا۔ اس بار طاہر القادری بھی کامیابی کی گارنٹی چاہتے ہیں۔ اگر گارنٹی نہیں ملے گی تو وہ باہر نہیں آئیں گے۔ دھرنا نہیں دیں گے۔ پھر صرف جلسہ جلوس ہوں گے۔ ریلیاں ہوں گی۔ لیکن دھرنا نہیں ہو گا۔ دھرنا گرین سگنل اور یقینی گارنٹی سے مشروط ہے۔

کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب میں جو بھی ہو رہا ہے۔شہباز شریف کی سعودی عرب کا دورہ نواز شریف کی روانگی کی خبریں۔ اور ناصر جنجوعہ کی نواز شریف سے پانچ گھٹنے کی ملاقات کو اگر ملا کر دیکھا جائے تو طاہر القادری آصف زرداری اورعمران خان کا گٹھ جوڑ بھی سمجھ آجاتا ہے۔ اگر نواز شریف نے اپنی پارٹی اپنے بھائی اور اپنے دوستوں کی بات نہ مانی تو دما د م مست قلندر کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ پھر طاہر القادری کو بھر پور گرین سگنل مل جائے گا۔ وہ میدان میں آجائیں گے۔ لاہور مال روڈ پر دھرنا ہو جائے گا۔ شہباز شریف سے استعفیٰ کی باز گشت سنائی دے گی۔ ایسے میں تصادم ہو گا۔ یہ تصادم جمہوریت کا بستر گول بھی کر سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ عمران خان تو بہت مقبول ہیں وہ یہ کیوں کر رہے ہیں۔ دراصل عمران خان کے ذہن میں ایک بات پھنس گئی ہے کہ اگر شہباز شریف آؤٹ نہیں ہو تے تو وہ وزیر اعظم نہیں بن سکتے۔ اس لیے وہ آخری حد تک جاناچاہتے ہیں۔ آصف زرداری کی گیم سادہ ہے کہ اگر نظام کو لپیٹنے کا فیصلہ ہو ہی جائے گا تووہ اس طرف کھڑا ہونا چاہیں گے۔ ان کے پاس وقت ہے بلاول کو ابھی وقت چاہیے۔ دو تین سال کی ٹیکنوکریٹ حکومت بلاول کے لیے اچھی ہے۔ بلاول کو اپوزیشن کرنے کا بھر پور وقت مل جائے گا۔ اس لیے یہ دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ تینوں کا یہ گٹھ جوڑ بس ملاقاتوں تک ہی محدود رہ جائے۔

اسکرپٹ بدل جائے۔ اور ان تینوں کی دھمکیاں بس گیدڑ بھبکیاں ہی رہ جائیں۔ کیونکہ طاہر القادری عمران خان اور آصف زرداری تینوں کو علم ہے کہ اب اگر وہ ناکام ہو گئے تو شہباز شریف کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ وہ نا قابل شکست ہو جائیں گے۔ اس لیے تینوں پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے پہلے اے پی سی آگے کی گئی۔ پھر استعفیٰ کی مدت دی گئی۔ تا کہ وقت حاصل کیا جا سکے۔ گرین سگنل میں تاخیر ہے۔ تا دم تحریر بھی دیر ہے۔ اس لیے ابہام ہے۔گیم دونوں طرف ہی جا سکتی ہے۔ گیم دونوں طرف کھیلی جا رہی ہے۔ جہاں تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کا تلعق ہے تو یہ اب ایک سیاسی نہیں عدالتی مسئلہ ہے۔مقدمات عدالت میں ہیں۔ لیکن مسائلہ کو عدالت سے باہر لانے کی کوشش کوئی ملک کی خدمت نہیں۔ یہ ملک کے عدالتی نظام پر بھی عدم اعتماد ہے۔
Load Next Story