تلوبند کمیونٹی گیم ریزرو

ظریف بلوچ  جمعـء 12 جنوری 2018
تلو بند کے علاقے میں جنگلی جانوروں کے تحفظ اور نگہبانی سے کنزرویشن پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ (تصاویر بشکریہ مصنف)

تلو بند کے علاقے میں جنگلی جانوروں کے تحفظ اور نگہبانی سے کنزرویشن پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ (تصاویر بشکریہ مصنف)

بلوچستان بیک وقت قدرتی ساحلی، صحرائی اور پہاڑی معدنیات کے تحفظ کا دعویدار ہے جہاں پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ’’ہنگول نیشنل پارک‘‘ بھی موجود ہے جہاں کمیاب جنگلی جانوروں کی متعدد اقسام پائی جاتی ہیں۔

ہنگول نیشنل پارک کے علاوہ گوادر کی تحصیل اورماڑہ کے علاقے ’’تلوبند‘‘ کے نام سے شاید بہت کم لوگ واقف ہیں۔ یہ علاقہ بھی بعض نایاب ہونے والے جنگلی جانوروں کےلیے محفوظ پناہ گاہ ہے بلکہ یہاں جنگلی جانوروں کی دیکھ بھال اور شکاریوں کو روکنے کےلیے ہمہ وقت ایک ٹیم موجود ہوتی ہے جو نہ صرف بیمار جانوروں کا علاج کرتی ہے بلکہ یہاں موجود پہاڑی بکرے، اڑیال اور چنکارا ہرن (چنکارا غزال) کے تحفظ کےلیے بھی کام کرتی ہے۔

اس علاقے میں جنگلی جانوروں کے تحفظ کےلیے ایک مقامی سماجی ادارہ ’’تلوبند گیم کنزرویشن سوسائٹی‘‘ کے نام سے 2010 کو بنایا گیا۔ ادارے کے صدر سید معیار جان نوری اس بارے میں بتاتے ہیں کہ ہمارا مقصد تحصیل اورماڑہ میں جنگلی حیات کے تحفظ کےلیے کوشش کرنا تھا۔ شروع میں اپنے ذاتی خرچ سے علاقے میں جنگلی جانوروں کے تحفظ اور دیکھ بھال کےلیے 8 لوگوں کو تعینات کیا۔ اب تک کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ چند سال کے اندر ’’تلو‘‘ کے علاقے میں جنگلی جانوروں کی تعداد بڑھ کر 3500 کے قریب پہنچ چکی ہے جن میں پہاڑی بکرا (ibex)، اڑیال (urial)اور چنکارا ہرن (gazelle) شامل ہیں۔

سید معیار جان نوری مزید بتاتے ہیں کہ 2015 میں حکومت نے ہماری سوسائٹی کے ساتھ مل کر اس علاقے کو ’’تلوبند کمیونٹی گیم ریزرو‘‘ یعنی جنگلی جانوروں کےلیے محفوظ علاقہ قرار دیا۔

’’تلو‘‘ بند جو اورماڑہ کے گاؤں ’’جعفری‘‘ سے لے کر ’’گورھڈ‘‘ تک پھیلا ہوا ہے، اس میں اورماڑہ سمیت علاقے کے درجنوں گاؤں آتے ہیں۔ تقریباً پانچ لاکھ ایکڑ پر پھیلا ہوا یہ علاقہ معدومیت کے قریب پہنچ جانے والے بعض جنگلی جانوروں کا محفوظ مسکن ہے۔ اور یہاں موجود ایک پہاڑ کی وجہ سے اس علاقے کو ’’تلو‘‘ کہا جاتا ہے۔ کنزرویشن ایریا میں پہاڑی علاقے کے علاوہ میدانی علاقے بھی شامل ہیں جہاں بلوچستان وائلڈ لائف ایکٹ 1974/2014 کے تحت ہر قسم کے شکار پر پابندی کے بورڈ آویزاں نظر آتے ہیں۔

اس وقت تلو بند گیم کنزرویشن سوسائٹی اورماڑہ اور محکمہ جنگلات و جنگلی حیات (ڈیپارٹمنٹ آف فارسٹ اینڈ وائلڈ لائف) حکومت بلوچستان کے مشترکہ پروجیکٹ کے تحت اس علاقے کی کنزرویشن پر کام ہورہا ہے جہاں جنگلی جانوروں کو تحفظ دیا جاتا ہے اور انہیں شکاریوں سے بچایا جاتا ہے۔

سید معیار جان نوری کے مطابق دبئی کے شیخ سرور بن النہیان نے تلو بند کنزرویشن کےلیے کچھ جانور عطیہ بھی کئے تھے۔ حکومت بلوچستان اور اس سوسائٹی کی کوششوں سے علاقے میں جنگلی جانوروں کی افزائش نسل جاری ہے اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی بعید میں بلوچستان کے پہاڑی اور میدانی علاقوں میں جنگلی جانوروں کی تعداد خاصی زیادہ تھی جبکہ ماضی قریب میں مؤثر قانون نہ ہونے اور شکاریوں کی جانب سے جنگلی جانوروں کے بے دریغ شکار سے بعض علاقوں میں جنگلی جانوروں کی نسل معددم ہوچکی ہے جبکہ اب بھی وہ علاقے جہاں جانوروں کے تحفظ پر کام نہیں ہورہا، وہاں جانوروں کا شکار جاری ہے۔ اس کی وجہ سے جو جانور رہ گئے ہیں، ان کی نسل بھی ختم ہونے کا عندیہ دیا جارہا ہے۔

ماہرین اس بات پر بہت تشویش زدہ ہیں کہ جنگلی جانوروں کے بے دریغ شکار سے نہ صرف برے اثرات مرتب ہوں گے بلکہ یہ علاقے کے حیاتی تنوع (biodiversity) کو تباہ و برباد کرنے کے مترادف بھی ہے کیونکہ جنگلی جانوروں اور پرندے، مجموعی حیاتی ماحول کےلیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تلو بند کے علاقے میں جنگلی جانوروں کی تحفظ اور نگہبانی سے کنزرویشن پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور اس سے علاقے میں جانوروں کی افزائش نسل کے ساتھ ساتھ علاقے کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ظریف بلوچ

ظریف بلوچ

ظریف بلوچ کا تعلق مکران کے ساحلی شہر پسنی سے ہے اور آپ نے بلوچستان یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹر کیا۔ آپ نے لکھنے کا آغاز بچوں کے رسالوں سے کیا اور اب سیاحت اور ماحولیات پر فیچر اور بلاگ لکھتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔