عدالتی نظام میں اصلاح کے حوالے سے چند گزارشات
یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ عدلیہ میں مقدمات کی تاخیر کے حوالیسے بات ہو رہی ہے
msuherwardy@gmail.com
یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ کو مقدمات میں بے جا تاخیر کا احساس ہو گیا ہے۔ محترم چیف جسٹس کافی متحرک نظرا ٓرہے ہیں۔ انھوں نے اتوار والے دن بھی مقدمات کی سماعت کر کے یہ ظاہر کیا ہے کہ صورتحال ایسی ہے کہ چھٹی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن ایک طرف مجھے چیف جسٹس کے اتوار والے دن کام کرنی کی خوشی تھی لیکن دوسری طرف پیر والے دن خیبر پختونخواہ کی عدالتوں میں وکلا نے قصور کی زینب کے لیے بائیکاٹ کر دیا ۔ ان کے اس بائیکاٹ کی و جہ سے ہزاروں مقدمات سماعت سے محروم ہو گئے۔ اس سے پہلے بھی ایک چیف جسٹس تھے جنہوںنے کراچی میں ہی عید والے دن مقدمات کی سماعت کی تھی۔ لیکن ماضی گواہ ہے کہ صرف چیف جسٹس کے ایسا کرنے سے ایک اچھی روائت تو قائم ہو جاتی ہے لیکن بڑی تبدیلی نہیں آتی۔ پتہ نہیں کیوںلیکن باقی ججز اس کی پیروی نہیں کرتے۔ اور اس کا نیچے تک اثر نہیں آتا۔
وکلا کی ہڑتالیں بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ایک طرف چیف جسٹس کی پارلیمنٹ سے ناراضی میں وزن ہے کہ ہماری پارلیمنٹ نے عدالتی نظام میں اصلاحات اور جلد از جلد انصاف کے حصول کے لیے قانون سازی نہیں کی ہے۔ لیکن عدلیہ کو اپنا گھر بھی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ بار اور بنچ نظام عدل کے دو ستون ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔
پارلیمنٹ سے گلہ اپنی جگہ لیکن بار کو کون ٹھیک کرے گا۔ روز روز کی ہڑتالوں کو کیسے ختم کیا جائے۔ کیا اس کے لیے بھی پارلیمنٹ قانون سازی کرے یا پھر بنچ یہ معاملہ خود بار کے ساتھ حل کر لے گی۔وکلا کی ہڑتالیں اور عدالتوں میں تنازعات کا ابھی تک کوئی حل نہیں ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے چیف جسٹس کو بار کے ساتھ ایک نئے کوڈ آف کنڈکٹ طے کرنا چاہیے۔ بار اور بنچ کو مل کر ایک نئے چارٹر کو سائن کرنا چاہیے۔ جس میں ایک جیوڈیشل ایمرجنسی طے کی جائے۔ مقدمات میں تاخیر کے راستے بند کیے جائیں۔ ہڑتالیں ختم کی جائیں۔ ججز کا حترام یقینی بنایا جائے۔ ابھی تک تو ایسا لگ رہا ہے کہ بار ایک طرف ہے اور بنچ دوسری طرف۔ دونوں کا سمت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اس طرح چیف جسٹس نہ تو اپنے اہداف ھاصل کر سکتے ہیں۔ اور نہ ہی جلد انصاف کا حصول ممکن ہے۔
میں عدلیہ کے احترام پر مکمل یقین اور ایمان رکھتا ہوں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ہم عدلیہ کا احترام یقینی نہیں بنائیں گے عدالتی نظام پر عوام کا یقین پختہ نہیں ہوگا۔ لیکن ساتھ ساتھ عدلیہ کو اپنے اندر احتساب کا عمل بھی بنانا ہو گا۔ عدلیہ کے اپنے اندر ایک متحرک احتساب کا نظام ناگزیر ہے۔ مجھے تمام جج صاحبان کی ایمانداری پر مکمل یقین ہے لیکن پھر بھی انسان خطا ء کا پتلا ہے ۔ اس لیے نظام ہونا چاہیے۔ جناب چیف جسٹس آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن کہیں نہ کہیں عدلیہ کو اپنے اندر ایک ایسا کوڈ آف کنڈکٹ بنانا ہو گا جہاں مقدمات میں تاخیر پر بھی احتساب ہو سکے۔ جناب چیف جسٹس کی جانب سے مقدمات کے فیصلوں کے لیے نوے دن اور ایک ماہ کی مدت کا تعین ایک قابل تحسین اقدام ہے لیکن پھر بھی اس مدت کا احترام نہ کرنے والوں کو بھی تو کہیں نہ کہیں جوابدہ ہونا چاہیے۔
یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ عدلیہ میں مقدمات کی تاخیر کے حوالیسے بات ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی بار ایسا ہوا ہے ۔ لیکن اس کا منفی ردعمل بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ جبمقدمات کو جلد نبٹانے کادباؤ بڑھایا جاتا ہے تو انصاف کیبجائے انھیں ٹیکنیکل بنیادوں پربنٹانے کی کوشش کی جاتی ۔ اس کا بھی راستہ روکنے کی ضرورت ہے، جب ایک مقدمہ کئی سال ایک عدالت میں زیر سماعت رہتا ہے اور اس کا فیصلہ انصاف اور میرٹ کے بجائے ٹیکنیکل بنیادوں پر کر دیا جائے تو اس سیتنازعہ ختم ہو تا ہے اور نہ ہی انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ کسی بھی مقدمہ میں اگر ٹیکنیکل بنیادوں پر کوئی نقص ہے تو یہ مقدمہ قابل سماعت قرار ہونے کے وقت ہی طے ہونا چاہیے لیکن اگر ایک مقدمیکو قابل سماعت قرار دے دیا جائے تو پھرمیرٹ پر ہی فیصلہ ہونا چاہیے۔ اس کے لیے کسی ترمیم کی ضرورت نہیںہے۔
حکم امتناعی بھی ہماریعدالتی نظامپر داغ کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ یک طرفہ سماعت کے بعد دئے گئے حکم امتناعی بھی کئی کئی سال چلتے ہیں۔ دوسرا فریق چیختا رہتا ہے کہ یہ حکم امتناعی جھوٹ بول کر حاصل کیاگیا ہے۔ کئی کئی سال تک چلنے والے حکم امتناعی ہمارے عدالتی نظام کو مسخ کر رہے ہیں۔ عدلیہ کو اپنے اندر ایک ایسا کوڈ آف کنڈکٹ بنانا چاہیے کہ کم از کم یک طرفہ حکم امتناعی کو دوسرے فریق کو سن کر مستقل کرنے کی کوئی بھی مد ت ہونی چاہیے۔
اس کے لیے بھی کسی ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔جتنی بڑی تعداد میں مقدمات زیر التوا ہیں ۔ صورتحال اس بات کا تقاضا کر رہی ہے کہ عدلیہ اپنے اوپر ایک جیوڈیشل ایمرجنسی نافذ کرے۔ کام کرنے کے اوقات میں اضافہ کیا جائے۔ کم از جو مقدمات پانچ سال سے زائد عرصہ سے ایک ہی جیوڈیشل فورم پر زیر سماعت ہیں کم ازکم ان کی روزانہ سماعت کے احکامات جاری کیے جائیں۔ اس کے لیے بھی کسی ترمیم کی ضرورت نہیں۔ تاریخ سماعت کی اہمیت کو قائم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔کسی بھی فریق کو گھر بیٹھے یہ زعم نہیں ہونا چاہیے کہ اس کے کہنے پر التوا ہوجائے گا۔
اسے تاریخ مل جائے گی۔ ابھی تو صورتحال یہ ہے کہ بس منشی ہی پیش ہو کر تاریخ حاصل کر لیتا ہے کہ محترم وکیل صاحب مصروف ہیں۔وکیل صاحب کی مصروفیت التوا کی کوئی گراؤنڈ نہیں ہو سکتی۔ اگر وہ مصروف ہیں تو مقدمہ نہ لیتے۔ فیس نہ لیتے۔ اگر اس دن ان کے دیگر مقدماتہیں تو متبادل کا بندو بست کرنا وکیل صاحب کی ذمے داری ہونی چاہیے۔ انھوں نے مقدمہ لڑنے کی فیس لی ہوئی ہے۔ میرے خیال میں اس کے لیے بھی کسی خاص ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ عدلیہ نے کئی معاملات کے حوالے سے بے جا بوجھ بھی ڈالا ہوا ہے۔ ان میں ضمانت کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ ضمانت کے مقدمات کی سماعت میں عدلیہ کا بہت وقت ضایع ہوتا ہے۔ یہی وقت ٹرائل اور مقدمات کے فیصلوں میں کام آسکتا ہے۔ ضمانت کسی بھی مقدمہ کا کوئی حل نہیں۔ یہ ایک وقتی ریلیف ہے۔ سوائے دہشت گردی اور بہت ہی سنگین مقدمات کے ضمانت ملزم کا حق ہونا چاہیے۔ جب تک کوئی ملزم ہے اور مجرم نہیں ہے تب تک اس کو ایک دن کے لیے بھی بے گناہ پابند سلاسل نہیں ہونا چاہیے۔ ضمانت کے مقدمات کا بوجھ اگر عدلیہ سے کم ہو جائے تو نہ صرف بہت وقت بچ جائے گا بلکہ بے گناہ لوگ جیلوں میں قید ہونے سے بھی بچ جائیں گے۔
یہ نہائت افسوسناک بات ہے کہ فوجداری مقدمات میں سارا زور ضمانت پر ہی لگ جاتا ہے۔ اس لیے نوے فیصد فوجداری مقدمات ضمانت تک ہی لڑے جاتے ہیں۔ اسی کی وجہ سے جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں کہ ایک دفعہ مخالف کو جیل بھجوا دیا جائے۔ بعد میں بری بھی ہو جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ نظام انصاف کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ ہر ضلع میں ایک جیوڈیشل افسر ہونا چاہیے جو ملزم کو پیش ہونے پر ضمانت دے۔ اور اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ شامل تفتیش رہے گا۔ اس وقت عدالتوں میں ایک مضحکہ خیز صورتحال ہے کہ ضمانت کا مقدمہ لڑنے کے لیے وکلا کو لاکھوں روپے فیس دی جاتی ہے۔ جب کہ ضمانتی مچلکیچند ہزار روپے کے ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ضمانتی مچلکوں کی رقم میں اضافہ کیا جائے۔ ضمانت کو اتنا مضبوط بنایا جائے کہ کوئی ضمانت حاصل کر کے بھاگ نہ سکے۔ لیکن سپریم کورٹ تک معمولی مقدمات میں ضمانت کیکیسجانا عدالتی نظام پر ظلم ہے۔ ضمانت کے مقدمات میں کمی بھی چیف جسٹس کی ہدایات پر ہی ہو سکتی ہیں۔ اس کے لیے پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں۔
یہ نہائت خوش آیند ہے کہ چیف جسٹس نے پارلیمانی لیڈرز کے ساتھ ملک میں عدالتی اصلاحات کے لیے بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے ۔ سو سو سال پرانے قانون اب نہیں چل سکتے۔ مقننہ کو اپنا کام کرنا ہو گا۔ مجھے امید ہے کہ چیف جسٹس کے بات کرنے سے ملک میں عدالتی اصلاحات کا ایک پیکیج چند دن میں ہی پاس ہو سکتا ہے۔ سب مان جائیں گے۔ جلد انصاف کی فراہمی پر کوئی اختلاف نہیں ۔ صرف عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان ایک جھجھک اور فاصلہ ہے۔ جسیختم کرنے کی ضرورت ہے۔
وکلا کی ہڑتالیں بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ایک طرف چیف جسٹس کی پارلیمنٹ سے ناراضی میں وزن ہے کہ ہماری پارلیمنٹ نے عدالتی نظام میں اصلاحات اور جلد از جلد انصاف کے حصول کے لیے قانون سازی نہیں کی ہے۔ لیکن عدلیہ کو اپنا گھر بھی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ بار اور بنچ نظام عدل کے دو ستون ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔
پارلیمنٹ سے گلہ اپنی جگہ لیکن بار کو کون ٹھیک کرے گا۔ روز روز کی ہڑتالوں کو کیسے ختم کیا جائے۔ کیا اس کے لیے بھی پارلیمنٹ قانون سازی کرے یا پھر بنچ یہ معاملہ خود بار کے ساتھ حل کر لے گی۔وکلا کی ہڑتالیں اور عدالتوں میں تنازعات کا ابھی تک کوئی حل نہیں ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے چیف جسٹس کو بار کے ساتھ ایک نئے کوڈ آف کنڈکٹ طے کرنا چاہیے۔ بار اور بنچ کو مل کر ایک نئے چارٹر کو سائن کرنا چاہیے۔ جس میں ایک جیوڈیشل ایمرجنسی طے کی جائے۔ مقدمات میں تاخیر کے راستے بند کیے جائیں۔ ہڑتالیں ختم کی جائیں۔ ججز کا حترام یقینی بنایا جائے۔ ابھی تک تو ایسا لگ رہا ہے کہ بار ایک طرف ہے اور بنچ دوسری طرف۔ دونوں کا سمت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اس طرح چیف جسٹس نہ تو اپنے اہداف ھاصل کر سکتے ہیں۔ اور نہ ہی جلد انصاف کا حصول ممکن ہے۔
میں عدلیہ کے احترام پر مکمل یقین اور ایمان رکھتا ہوں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ہم عدلیہ کا احترام یقینی نہیں بنائیں گے عدالتی نظام پر عوام کا یقین پختہ نہیں ہوگا۔ لیکن ساتھ ساتھ عدلیہ کو اپنے اندر احتساب کا عمل بھی بنانا ہو گا۔ عدلیہ کے اپنے اندر ایک متحرک احتساب کا نظام ناگزیر ہے۔ مجھے تمام جج صاحبان کی ایمانداری پر مکمل یقین ہے لیکن پھر بھی انسان خطا ء کا پتلا ہے ۔ اس لیے نظام ہونا چاہیے۔ جناب چیف جسٹس آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن کہیں نہ کہیں عدلیہ کو اپنے اندر ایک ایسا کوڈ آف کنڈکٹ بنانا ہو گا جہاں مقدمات میں تاخیر پر بھی احتساب ہو سکے۔ جناب چیف جسٹس کی جانب سے مقدمات کے فیصلوں کے لیے نوے دن اور ایک ماہ کی مدت کا تعین ایک قابل تحسین اقدام ہے لیکن پھر بھی اس مدت کا احترام نہ کرنے والوں کو بھی تو کہیں نہ کہیں جوابدہ ہونا چاہیے۔
یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ عدلیہ میں مقدمات کی تاخیر کے حوالیسے بات ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی بار ایسا ہوا ہے ۔ لیکن اس کا منفی ردعمل بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ جبمقدمات کو جلد نبٹانے کادباؤ بڑھایا جاتا ہے تو انصاف کیبجائے انھیں ٹیکنیکل بنیادوں پربنٹانے کی کوشش کی جاتی ۔ اس کا بھی راستہ روکنے کی ضرورت ہے، جب ایک مقدمہ کئی سال ایک عدالت میں زیر سماعت رہتا ہے اور اس کا فیصلہ انصاف اور میرٹ کے بجائے ٹیکنیکل بنیادوں پر کر دیا جائے تو اس سیتنازعہ ختم ہو تا ہے اور نہ ہی انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ کسی بھی مقدمہ میں اگر ٹیکنیکل بنیادوں پر کوئی نقص ہے تو یہ مقدمہ قابل سماعت قرار ہونے کے وقت ہی طے ہونا چاہیے لیکن اگر ایک مقدمیکو قابل سماعت قرار دے دیا جائے تو پھرمیرٹ پر ہی فیصلہ ہونا چاہیے۔ اس کے لیے کسی ترمیم کی ضرورت نہیںہے۔
حکم امتناعی بھی ہماریعدالتی نظامپر داغ کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ یک طرفہ سماعت کے بعد دئے گئے حکم امتناعی بھی کئی کئی سال چلتے ہیں۔ دوسرا فریق چیختا رہتا ہے کہ یہ حکم امتناعی جھوٹ بول کر حاصل کیاگیا ہے۔ کئی کئی سال تک چلنے والے حکم امتناعی ہمارے عدالتی نظام کو مسخ کر رہے ہیں۔ عدلیہ کو اپنے اندر ایک ایسا کوڈ آف کنڈکٹ بنانا چاہیے کہ کم از کم یک طرفہ حکم امتناعی کو دوسرے فریق کو سن کر مستقل کرنے کی کوئی بھی مد ت ہونی چاہیے۔
اس کے لیے بھی کسی ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔جتنی بڑی تعداد میں مقدمات زیر التوا ہیں ۔ صورتحال اس بات کا تقاضا کر رہی ہے کہ عدلیہ اپنے اوپر ایک جیوڈیشل ایمرجنسی نافذ کرے۔ کام کرنے کے اوقات میں اضافہ کیا جائے۔ کم از جو مقدمات پانچ سال سے زائد عرصہ سے ایک ہی جیوڈیشل فورم پر زیر سماعت ہیں کم ازکم ان کی روزانہ سماعت کے احکامات جاری کیے جائیں۔ اس کے لیے بھی کسی ترمیم کی ضرورت نہیں۔ تاریخ سماعت کی اہمیت کو قائم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔کسی بھی فریق کو گھر بیٹھے یہ زعم نہیں ہونا چاہیے کہ اس کے کہنے پر التوا ہوجائے گا۔
اسے تاریخ مل جائے گی۔ ابھی تو صورتحال یہ ہے کہ بس منشی ہی پیش ہو کر تاریخ حاصل کر لیتا ہے کہ محترم وکیل صاحب مصروف ہیں۔وکیل صاحب کی مصروفیت التوا کی کوئی گراؤنڈ نہیں ہو سکتی۔ اگر وہ مصروف ہیں تو مقدمہ نہ لیتے۔ فیس نہ لیتے۔ اگر اس دن ان کے دیگر مقدماتہیں تو متبادل کا بندو بست کرنا وکیل صاحب کی ذمے داری ہونی چاہیے۔ انھوں نے مقدمہ لڑنے کی فیس لی ہوئی ہے۔ میرے خیال میں اس کے لیے بھی کسی خاص ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ عدلیہ نے کئی معاملات کے حوالے سے بے جا بوجھ بھی ڈالا ہوا ہے۔ ان میں ضمانت کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ ضمانت کے مقدمات کی سماعت میں عدلیہ کا بہت وقت ضایع ہوتا ہے۔ یہی وقت ٹرائل اور مقدمات کے فیصلوں میں کام آسکتا ہے۔ ضمانت کسی بھی مقدمہ کا کوئی حل نہیں۔ یہ ایک وقتی ریلیف ہے۔ سوائے دہشت گردی اور بہت ہی سنگین مقدمات کے ضمانت ملزم کا حق ہونا چاہیے۔ جب تک کوئی ملزم ہے اور مجرم نہیں ہے تب تک اس کو ایک دن کے لیے بھی بے گناہ پابند سلاسل نہیں ہونا چاہیے۔ ضمانت کے مقدمات کا بوجھ اگر عدلیہ سے کم ہو جائے تو نہ صرف بہت وقت بچ جائے گا بلکہ بے گناہ لوگ جیلوں میں قید ہونے سے بھی بچ جائیں گے۔
یہ نہائت افسوسناک بات ہے کہ فوجداری مقدمات میں سارا زور ضمانت پر ہی لگ جاتا ہے۔ اس لیے نوے فیصد فوجداری مقدمات ضمانت تک ہی لڑے جاتے ہیں۔ اسی کی وجہ سے جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں کہ ایک دفعہ مخالف کو جیل بھجوا دیا جائے۔ بعد میں بری بھی ہو جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ نظام انصاف کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ ہر ضلع میں ایک جیوڈیشل افسر ہونا چاہیے جو ملزم کو پیش ہونے پر ضمانت دے۔ اور اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ شامل تفتیش رہے گا۔ اس وقت عدالتوں میں ایک مضحکہ خیز صورتحال ہے کہ ضمانت کا مقدمہ لڑنے کے لیے وکلا کو لاکھوں روپے فیس دی جاتی ہے۔ جب کہ ضمانتی مچلکیچند ہزار روپے کے ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ضمانتی مچلکوں کی رقم میں اضافہ کیا جائے۔ ضمانت کو اتنا مضبوط بنایا جائے کہ کوئی ضمانت حاصل کر کے بھاگ نہ سکے۔ لیکن سپریم کورٹ تک معمولی مقدمات میں ضمانت کیکیسجانا عدالتی نظام پر ظلم ہے۔ ضمانت کے مقدمات میں کمی بھی چیف جسٹس کی ہدایات پر ہی ہو سکتی ہیں۔ اس کے لیے پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں۔
یہ نہائت خوش آیند ہے کہ چیف جسٹس نے پارلیمانی لیڈرز کے ساتھ ملک میں عدالتی اصلاحات کے لیے بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے ۔ سو سو سال پرانے قانون اب نہیں چل سکتے۔ مقننہ کو اپنا کام کرنا ہو گا۔ مجھے امید ہے کہ چیف جسٹس کے بات کرنے سے ملک میں عدالتی اصلاحات کا ایک پیکیج چند دن میں ہی پاس ہو سکتا ہے۔ سب مان جائیں گے۔ جلد انصاف کی فراہمی پر کوئی اختلاف نہیں ۔ صرف عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان ایک جھجھک اور فاصلہ ہے۔ جسیختم کرنے کی ضرورت ہے۔