منشیات اسمگلنگ میں ملوث ایمبولینس ڈرائیور اور ساتھی کو25سال قید
ایدھی سینٹر کے انچارج نے شک ہونے پرایمبولینس کے بارے میں پولیس کو بتایا،تلاشی پر217کلو ہیروئن برآمد ہوئی تھی
پولیس مقابلہ ،اقدام قتل اور عباس ٹائون بم دھماکے میں ملوث کالعدم مذہبی تنظیم کے 9 ملزمان کا جسمانی ریمانڈ. فوٹو فائل
منشیات اسمگلنگ میں ملوث ایدھی ایمبولنس کے ڈرائیور حبیب خان اور اس کے ساتھی کو جرم ثابت ہونے پر 25/25 برس قید کی سزا سنادی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کو انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج ثنا اﷲ خان غوری نے منشیات اسمگلنگ میں ملوث ایدھی ایمبولینس کے ڈرائیور حبیب خان اور اس کے ساتھی گل دراز خان کو وکیل سرکار سردار اعظم خان کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد دونوں ملزمان کو 25برس قید اور فی کس دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے، ملزمان کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید دو برس قید بھگتنا ہوگی۔
استغاثہ کے مطابق یکم مارچ 2012 کو ملزمان بلدیہ کے علاقے میں ایمبولنس لے جارہے تھے اس موقع پر بلدیہ ٹاؤن کے علاقے میں واقع ایدھی سینٹر کے انچارج کو شک ہوا کہ ایمبولینس نیپا چورنگی کی تھی جو کہ بلدیہ کے علاقے میںگھوم رہی تھی اس نے ہیڈآفس کھارا در کو مطلع کیا اور نیپا چورنگی سینٹر نے بھی لاعلمی ظاہر کی ،ایدھی کے رضاکار ایمبولینس کو اپنے قبضے میں لیکر ہیڈ آفس کھارا در لے آئے تھے،پولیس کو فوری طور پر طلب کیا گیا ایمبولنس میں رکھے ڈرموں کو چیک کیا گیا تو اس میں 217کلو سے زائد ہیروئن برآمد ہو ئی تھانہ کھارا در پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انھیں گرفتار کرلیا تھا ۔
ملزمان کو عدالت میں چشم دید گواہوں نے شناخت بھی کیا تھا جبکہ دوران تفتیش ملزم فقیر محمد کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم عدالت نے اسے عدم ثبوت پر بری کردیا تھا،مقدمے میں ملزمان کا ایک ساتھی اصغر خان تاحال مفرور ہے ،جوڈیشل مجسٹریٹ غربی سہیل احمد لغاری نے پولیس مقابلہ ،اقدام قتل ، آتش گیر مواد رکھنے ، اسلحہ ایکٹ اور دستی بم رکھنے کے الزام میں گرفتار کالعدم تحریک طالبان کے شوکت سردار ، انعام اﷲ عرف بارود اور توکل عرف وزیرکو پبلک پراسیکیوٹرسید شمیم احمد کی استدعا پر25مارچ تک جسمانی ریمانڈ پر سی آئی ڈی کی تحویل میں دیدیا ہے۔
ملزمان کو منگھو پیر کے علاقے سے مقابلے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے قبضے سے دستی بم آتش گیر مواد برآمد کرنے کا دعوی کیا گیا تھا ،دریں اثنا کالعدم مذہبی تنظیم کے محمد شفیق عرف صدیق ، انعام اﷲ عرف مولا ، عالم شیر محسود اور عرفان کو 30مارچ تک جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
ملزمان کے خلاف چار سے زائد تھانوں میں قتل ، عباس ٹاؤن بم دھماکے اور دہشت گردی سمیت دیگر مقدمات درج ہیں، ملزمان کو سی آئی ڈی نے مقابلے کے بعد گرفتار کرکے آتش گیر مواد اور 10سے زائد دستی بم برآمد کیے تھے ،اس ہی عدالت نے خیرالدین اور محمد اسحاق کے جسمانی ریمانڈ میں 30مارچ تک توسیع کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کو انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج ثنا اﷲ خان غوری نے منشیات اسمگلنگ میں ملوث ایدھی ایمبولینس کے ڈرائیور حبیب خان اور اس کے ساتھی گل دراز خان کو وکیل سرکار سردار اعظم خان کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد دونوں ملزمان کو 25برس قید اور فی کس دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے، ملزمان کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید دو برس قید بھگتنا ہوگی۔
استغاثہ کے مطابق یکم مارچ 2012 کو ملزمان بلدیہ کے علاقے میں ایمبولنس لے جارہے تھے اس موقع پر بلدیہ ٹاؤن کے علاقے میں واقع ایدھی سینٹر کے انچارج کو شک ہوا کہ ایمبولینس نیپا چورنگی کی تھی جو کہ بلدیہ کے علاقے میںگھوم رہی تھی اس نے ہیڈآفس کھارا در کو مطلع کیا اور نیپا چورنگی سینٹر نے بھی لاعلمی ظاہر کی ،ایدھی کے رضاکار ایمبولینس کو اپنے قبضے میں لیکر ہیڈ آفس کھارا در لے آئے تھے،پولیس کو فوری طور پر طلب کیا گیا ایمبولنس میں رکھے ڈرموں کو چیک کیا گیا تو اس میں 217کلو سے زائد ہیروئن برآمد ہو ئی تھانہ کھارا در پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انھیں گرفتار کرلیا تھا ۔
ملزمان کو عدالت میں چشم دید گواہوں نے شناخت بھی کیا تھا جبکہ دوران تفتیش ملزم فقیر محمد کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم عدالت نے اسے عدم ثبوت پر بری کردیا تھا،مقدمے میں ملزمان کا ایک ساتھی اصغر خان تاحال مفرور ہے ،جوڈیشل مجسٹریٹ غربی سہیل احمد لغاری نے پولیس مقابلہ ،اقدام قتل ، آتش گیر مواد رکھنے ، اسلحہ ایکٹ اور دستی بم رکھنے کے الزام میں گرفتار کالعدم تحریک طالبان کے شوکت سردار ، انعام اﷲ عرف بارود اور توکل عرف وزیرکو پبلک پراسیکیوٹرسید شمیم احمد کی استدعا پر25مارچ تک جسمانی ریمانڈ پر سی آئی ڈی کی تحویل میں دیدیا ہے۔
ملزمان کو منگھو پیر کے علاقے سے مقابلے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے قبضے سے دستی بم آتش گیر مواد برآمد کرنے کا دعوی کیا گیا تھا ،دریں اثنا کالعدم مذہبی تنظیم کے محمد شفیق عرف صدیق ، انعام اﷲ عرف مولا ، عالم شیر محسود اور عرفان کو 30مارچ تک جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
ملزمان کے خلاف چار سے زائد تھانوں میں قتل ، عباس ٹاؤن بم دھماکے اور دہشت گردی سمیت دیگر مقدمات درج ہیں، ملزمان کو سی آئی ڈی نے مقابلے کے بعد گرفتار کرکے آتش گیر مواد اور 10سے زائد دستی بم برآمد کیے تھے ،اس ہی عدالت نے خیرالدین اور محمد اسحاق کے جسمانی ریمانڈ میں 30مارچ تک توسیع کردی ہے۔