بائیس سال سے ریت کے قلعے میں رہنے والا شخص
مارسیو ریوڈی جنیرو کے ساحل کنارے پر رہتے ہیں اور کتابیں فروخت کرکے گزارا کررہے ہیں
چوالیس سالہ مارسیو گزشتہ 22 برس سے ساحل کے کنارے قلعہ نما ریت کے گھر میں رہ رہے ہیں اور ان کے مطابق وہ اپنی زندگی سے بہت خوش ہیں۔ فوٹو: بشکریہ ڈیلی مرر
برازیل میں ایک شخص گزشتہ 22 برس سے ریت سے بنے قلعہ نما گھر میں رہ رہا ہے۔ اسے مقامی افراد بادشاہ کے نام سے پکارتے ہیں لیکن وہ لوگوں کو کتابیں فروخت کرکے ان کے بدلے کھانے پینے کی اشیا حاصل کرکے اپنا گزارا کرتا ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=ZX6vi6OOLxg
چوالیس سالہ مارسیو مزائل میٹولیاس کے تین شوق ہیں جن میں کتابیں پڑھنا، گالف کھیلنا اور مچھلی پکڑنا شامل ہیں۔
برازیل میں ریو ڈی جنیرو کے ساحل کے قریب ان کا شاندار ریتیلا گھر موجود ہے جہاں وہ آرام سے رہتے ہیں اور گھر کے آگے انہوں نے ایک شاہی کرسی بھی رکھی ہے جہاں وہ اکثر تاج پہنے اور ہاتھ میں شاہی عصا تھامے براجمان نظر آتے ہیں۔
اگرچہ اسے بادشاہ مارسیو بھی کہا جاتا ہے لیکن وہ اپنے محل کی مرمت خود کرتے ہیں جن میں دروازوں کو درست کرنے سے لے کر ہوا سے اڑنے والی ریت کو دوبارہ جمع کرنا بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں وہ اپنے گھر کو مضبوط بنانے کے لیے بھی جتن کرتے رہتے ہیں۔
مارسیو کہتے ہیں کہ میری عمر ساحل پر گزری ہے لوگ بڑی قیمت ادا کرکے ساحل پر گھر بناتے ہیں لیکن مجھے یہاں رہنے کے لیے کوئی رقم ادا نہیں کرنی پڑتی اور میں یہاں پر بہت خوش ہوں کیونکہ میں بہترین زندگی گزار رہا ہوں'۔
مارسیو کا قلعہ صرف تین مربع میٹر پر پھیلا ہوا جس میں ہر طرف کتابیں بھری ہوئی ہیں۔ مارسیو اب بھی غیر شادی شدہ ہیں ۔ ان کے مطابق گرمیوں میں ریتیلا گھر بہت گرم ہوجاتا ہے اور انہیں سونے کے لیے دوست کے گھر جانا پڑتا ہے لیکن کبھی کبھی وہ گھر سے باہر ساحل کے کنارے ہی سوجاتے ہیں۔
لوگ ان کے گھر کے باہر موجود کتابیں خریدتے ہیں یا کتاب کے بدلے انہیں کھانے کی کوئی شے دیتے ہیں جس سے مارسیو کا گزارا ہوجاتا ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=ZX6vi6OOLxg
چوالیس سالہ مارسیو مزائل میٹولیاس کے تین شوق ہیں جن میں کتابیں پڑھنا، گالف کھیلنا اور مچھلی پکڑنا شامل ہیں۔
برازیل میں ریو ڈی جنیرو کے ساحل کے قریب ان کا شاندار ریتیلا گھر موجود ہے جہاں وہ آرام سے رہتے ہیں اور گھر کے آگے انہوں نے ایک شاہی کرسی بھی رکھی ہے جہاں وہ اکثر تاج پہنے اور ہاتھ میں شاہی عصا تھامے براجمان نظر آتے ہیں۔
اگرچہ اسے بادشاہ مارسیو بھی کہا جاتا ہے لیکن وہ اپنے محل کی مرمت خود کرتے ہیں جن میں دروازوں کو درست کرنے سے لے کر ہوا سے اڑنے والی ریت کو دوبارہ جمع کرنا بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں وہ اپنے گھر کو مضبوط بنانے کے لیے بھی جتن کرتے رہتے ہیں۔
مارسیو کہتے ہیں کہ میری عمر ساحل پر گزری ہے لوگ بڑی قیمت ادا کرکے ساحل پر گھر بناتے ہیں لیکن مجھے یہاں رہنے کے لیے کوئی رقم ادا نہیں کرنی پڑتی اور میں یہاں پر بہت خوش ہوں کیونکہ میں بہترین زندگی گزار رہا ہوں'۔
مارسیو کا قلعہ صرف تین مربع میٹر پر پھیلا ہوا جس میں ہر طرف کتابیں بھری ہوئی ہیں۔ مارسیو اب بھی غیر شادی شدہ ہیں ۔ ان کے مطابق گرمیوں میں ریتیلا گھر بہت گرم ہوجاتا ہے اور انہیں سونے کے لیے دوست کے گھر جانا پڑتا ہے لیکن کبھی کبھی وہ گھر سے باہر ساحل کے کنارے ہی سوجاتے ہیں۔
لوگ ان کے گھر کے باہر موجود کتابیں خریدتے ہیں یا کتاب کے بدلے انہیں کھانے کی کوئی شے دیتے ہیں جس سے مارسیو کا گزارا ہوجاتا ہے۔