بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم
پاکستان نے خطے میں امن و استحکام اور پرامن ہمسائیگی کے لیے بھارت کو متعدد بار مذاکرات کی دعوت دی
پاکستان نے خطے میں امن و استحکام اور پرامن ہمسائیگی کے لیے بھارت کو متعدد بار مذاکرات کی دعوت دی ۔ فوٹو: فائل
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران خطے کی صورتحال اور بھارتی عزائم بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی ہتھیاروں کی دوڑ اور دفاعی تیاریوں سے غافل نہیں' اس کی اسلحے کی بے تحاشا خریداری اس کی دفاعی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے' اس کی خطے میں امن و استحکام کی خواہش مبالغہ آرائی کے سوا کچھ نہیں' اس کی اعلان کردہ پالیسی اور خطے میں اس کی سرگرمیوں میں واضح فرق ہے' پاکستان اپنی دفاعی اور سلامتی کی ضروریات یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ بھارت نے خطے میں غیر علانیہ ہتھیاروں کی دوڑ شروع کر رکھی ہے۔
یہ بھارت ہی ہے جس نے 1974ء میں ایٹمی دھماکے کر کے جنوبی ایشیا میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے پورے خطے کی سلامتی داؤ پر لگا دی تھی۔ بھارت کا جنگی جنون اور خطے کی سپر طاقت بننے کا خواب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں مگر نریندر مودی کے آنے کے بعد اس کی اس خواہش کو مہمیز ملی اور اس نے روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ایٹمی اور دیگر مہلک ہتھیاروں کے انبار لگانے شروع کر دیے اور اس خوفناک کھیل میں امریکا نے خطے میں چین کا راستہ روکنے کے لیے بھارت کو سپر طاقت بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے ہاتھ بڑھا دیا اور اس کے ساتھ دفاعی معاہدے کر لیے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امریکا جنوبی ایشیا کو پرامن خطہ بنانے کے لیے بھارت کے جنگی جنون کی راہ میں رکاوٹ بنتا مگر اس نے منافقانہ کردار ادا کرتے ہوئے آگ کے اس کھیل کو مزید بڑھاوا دیا۔
پاکستان نے خطے میں امن و استحکام اور پرامن ہمسائیگی کے لیے بھارت کو متعدد بار مذاکرات کی دعوت دی مگر اس نے انتہائی چالبازی سے کوئی نہ کوئی الزام پاکستان پر عائد کر کے مذاکرات سے فرار کی راہ اختیار کی۔ نریندر مودی نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہوئے گزشتہ دنوں پاکستان کو غربت، جہالت اور خطے کے دیگر سنگین مسائل حل کرنے کی بات کی مگر اس کے برعکس اس کی افواج آئے دن سرحدی خلاف ورزی کر کے مشکلات پیدا کر رہی ہیں اور اس کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ پاکستان کو دھمکیاں دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
دوسری جانب افغانستان کے دیرینہ تنازعہ کے بارے میں پاکستان یہ واضح کر چکا ہے کہ اس مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں بلکہ پرامن مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔ خطے میں دہشت گردی کو ہوا دینے میں بھارت اور افغانستان کے کردار سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا، دہشت گردانہ کارروائیوں کے ڈانڈے امریکی منصوبہ سازوں سے جا ملتے ہیں جب تک امریکا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مخلص کردار ادا نہیں کرے گا خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
یہ بھارت ہی ہے جس نے 1974ء میں ایٹمی دھماکے کر کے جنوبی ایشیا میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے پورے خطے کی سلامتی داؤ پر لگا دی تھی۔ بھارت کا جنگی جنون اور خطے کی سپر طاقت بننے کا خواب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں مگر نریندر مودی کے آنے کے بعد اس کی اس خواہش کو مہمیز ملی اور اس نے روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ایٹمی اور دیگر مہلک ہتھیاروں کے انبار لگانے شروع کر دیے اور اس خوفناک کھیل میں امریکا نے خطے میں چین کا راستہ روکنے کے لیے بھارت کو سپر طاقت بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے ہاتھ بڑھا دیا اور اس کے ساتھ دفاعی معاہدے کر لیے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امریکا جنوبی ایشیا کو پرامن خطہ بنانے کے لیے بھارت کے جنگی جنون کی راہ میں رکاوٹ بنتا مگر اس نے منافقانہ کردار ادا کرتے ہوئے آگ کے اس کھیل کو مزید بڑھاوا دیا۔
پاکستان نے خطے میں امن و استحکام اور پرامن ہمسائیگی کے لیے بھارت کو متعدد بار مذاکرات کی دعوت دی مگر اس نے انتہائی چالبازی سے کوئی نہ کوئی الزام پاکستان پر عائد کر کے مذاکرات سے فرار کی راہ اختیار کی۔ نریندر مودی نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہوئے گزشتہ دنوں پاکستان کو غربت، جہالت اور خطے کے دیگر سنگین مسائل حل کرنے کی بات کی مگر اس کے برعکس اس کی افواج آئے دن سرحدی خلاف ورزی کر کے مشکلات پیدا کر رہی ہیں اور اس کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ پاکستان کو دھمکیاں دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
دوسری جانب افغانستان کے دیرینہ تنازعہ کے بارے میں پاکستان یہ واضح کر چکا ہے کہ اس مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں بلکہ پرامن مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔ خطے میں دہشت گردی کو ہوا دینے میں بھارت اور افغانستان کے کردار سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا، دہشت گردانہ کارروائیوں کے ڈانڈے امریکی منصوبہ سازوں سے جا ملتے ہیں جب تک امریکا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مخلص کردار ادا نہیں کرے گا خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔