توہین عدالت کی روشنی میں سیاسی منظر نامہ

طلال چوہدری اور دانیال عزیز کو توہین عدالت کے نوٹس کیا نواز شریف کے حملوں کو روک سکیں گے؟

msuherwardy@gmail.com

دوستوں کا خیال ہے کہ اسکرپٹ بہت برا تھا۔ پلان اے تو تھا لیکن پلان بی تھا ہی نہیں۔ اسی لیے نواز شریف کے ساتھ دوست بھی مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ ادارے مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ اداروں کو شائد ایسی صورتحال کا پہلی دفعہ سامنا ہے۔ کیا یہ نواز شریف کی کامیابی ہے یا دوستوں نے بھی کوئی غلطی کی ہے۔ کیوں نواز شریف کی نا اہلی ایک گناہ بے لذت بن گیا ہے۔

بہر حال گیم فائنل راؤنڈ میں داخل ہو چکی ہے۔ اب کسی کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ نواز شریف نے کشتیاں جلائی ہیں کہ نہیں یہ ایک بحث طلب بات ہے لیکن انھوں نے اداروں کو کشتیاں جلانے پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستان کے ادارے اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئے ہے کہ اب ان کی اپنی ساکھ اور عزت بھی داؤ پر لگ گئی ہے۔ اب نہیں تو کبھی نہیں کے مصداق اب فائنل راؤنڈ کھیلنا ہو گا ۔ یہ فائنل راؤنڈ کیا ہو گا۔ اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔

ویسے تو چیف جسٹس پاکستان اور پاک فوج کے سربراہ بار بار اعلان کر چکے ہیں کہ ملک میں جمہوری نظام کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ جمہوریت کی بساط نہیں لپیٹی جائے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ بار بار کے اس اعلان نے نواز شریف کے مردہ گھوڑے میں جان بھر دی ہے۔ نواز شریف کو اندازہ ہو گیا ہے کہ جب جمہوریت کی بساط نہیں لپیٹی جا سکتی تو وہ چیلنج کر سکتے ہیں۔ وہ ا داروں کو دیوار کے ساتھ لگا سکتے ہیں۔

ورنہ اس سے پہلے جب کبھی ایسی صورتحال سامنے آئی ہے اداروں نے بالخصوص فائنل ایکشن لے لیا ہے۔اور فائنل ایکشن کے خوف نے سیاستدانوں کواداروں کے ساتھ مہم جوئی سے روکے رکھا۔ لیکن اس بار جب آپ کو اندازہ ہو جائے کہ مخالف فریق آپ پر حملہ نہیں کر سکتا۔ وہ شہ مات نہیں دے سکتا توآپ کمزور ہوتے ہوئے بھی طاقتور ہو جاتے ہیں۔ مخالف فریق کی کمزوری ہی آپ کی طاقت بن جاتی ہے۔ دوسرا سیاست ایسا بے رحم کھیل ہے کہ اس میں کمزور کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کمزور کا کوئی کردار نہیں ہے۔ شائد اداروں کو اب یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی کمزوری انھیں لے ڈوبے گی۔

نہال ہاشمی کی توہین عدالت میں سزا ۔ طلال چوہدری اور دانیال عزیز کو توہین عدالت کے نوٹس کیا نواز شریف کے حملوں کو روک سکیں گے۔ میں نہیں سمجھتا ایسا ممکن ہے۔ میں نے چند دن پہلے بھی لکھا تھا کہ گیم فائنل راؤنڈ میں ہے۔ اور اب کسی کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عدلیہ اس موقع پر طلال چوہدری اور دانیال عزیز کو توہین عدالت کی سزا دے سکتی ہے۔

نواز شریف نے پشاور کے جلسہ میں دونوں کو اپنے دائیں اور بائیں کھڑا کر کے واضع پیغام دے دیا ہے کہ وہ توہین عدالت کے ان مقدمات کی لڑائی لڑنا چاہتے ہیں۔ نہال ہاشمی کی معافی کو قبول نہ کر کے گو عدلیہ نے واضع اشارہ دے دیا ہے کہ اب معافی نہیں چلے گی۔ لیکن کیا ان دو وزیروں کو بھی سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ پاکستان کی سیاست میں اہم سوال ہے۔

میرے خیال میں ان دو وزیروں کے بیانات عدلیہ اور قومی سلامتی کے اداروں کے لیے کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہیں۔ مسئلہ تو نواز شریف اور مریم نواز ہیں۔اب وہ مرحلہ گزر گیا جب ان وزیروں کے بیانات پر پابندی سے کوئی فائدہ ہو سکتا تھا۔ یہ اپنا کام کر چکے ہیں۔ اب نواز شریف کو ان کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے بیانات پر پابندی لگا بھی دی جائے یا ان کو سزا دے دی جائے تب بھی نواز شریف کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔شائد فائدہ ہی ہو جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کب ادارے اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو توہین عدالت میں بلایا جائے۔


یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پہلے نواز شریف کو احتساب عدالت سے سزا ہو گی توہین عدالت کا معاملہ بعد میں دیکھا جائے گا۔ یہ سمجھا جا رہا ہے کہ سزاؤں کے بعد نواز شریف کی ''مجھے کیوں نکالا ''کی گردان کا جواب بھی آجائے گا۔ اس کے بعد توہین عدالت کے معاملے کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ابھی تو صرف اتنی کوشش ہے کہ سزا کے موقع پر شور شرابہ نہ ہو۔ اسی لیے دانیال اور طلال کی زبان بندی ضروری ہے۔ اس سے باقیوں کو بھی کان ہو جائیں گے اور وہ محتاط ہو جائیں گے۔ لیکن یہ اسکرپٹ بھی غلط ہی لگ رہا ہے کیونکہ دوسری طرف بھی تیاری ہے۔ وہ بھی ایسا ماحول بنانا چاہتے ہیں کہ آپ کس کس کی زبان بند کریں گے۔

کس کس کو سزا دیں گے۔ شائد کافی تیار ہیں کیونکہ اس وقت نواز شریف کے لیے شہید ہونے میں بھی سیاسی فائدہ لگ رہا ہے۔ ایک ماحول بن گیا ہے کہ یہ شہادت ضایع نہیں جائے گی۔ سیاستدان سمجھتے ہیں کہ نواز شریف نے تو سیاست میں رہنا ہے۔ اس لیے اس کے ساتھ رہنا ہے۔ دیکھیں مشرف سب کو استعمال کر کے چلا گیا۔ ان سیاستدانوں کا کیا قصور تھا جنہوں نے مشرف اور اداروں کا ساتھ دیا تھا۔ وہ آج سیاسی طور پر تنہا ہیں ۔ اس لیے جیتنے والے گھوڑے اور انتخابی سیاست کرنے والے پرندے اس وقت نوا شریف کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہیں۔ مشرف کے ساتھیوں کو لاوارث چھوڑنے کا نقصان اب سامنے آرہا ہے۔نواز شریف کی گیم الٹنے کے لیے ایک روڈ میپ کے ساتھ سامنے آنا ہو گا جس میں ان پرندوں کے خدشات دور کرنے کا پلان بھی ہو۔

ویسے تو محسوس کیا جائے یا نہ لیکن ن لیگ نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کی ہے۔ اب کوشش یہ ہے کہ عدلیہ کو بطور ادارہ ٹارگٹ نہ کیا جائے لیکن اس بنچ کو ٹارگٹ کیا جائے جس نے نااہلی کی سزا دی ہے۔ لیکن یہ تبدیلی اتنی باریک اور مبہم ہے کہ اس کو محسوس نہیں کیا جا سکے گا۔ صرف ادارے یہ فرق پہچان سکیں گے۔ عام عوام کو اس کی سمجھ نہیں آے گی۔ اس لیے یہ پالیسی اداروں کے کسی کام کی نہیں ہے۔

اب یہ بات سمجھنی ہو گی کہ اگر نواز شریف کو یہاں نہیں روکا گیا تو پھر وہ سب کچھ بہا کر لے جائے گا۔ نواز شریف نے اپنے ارداے ظاہر کر دئے ہیں کہ وہ اداروں کے حوالے سے نئے قوانین بنانا چاہتے ہیں۔ پھر نواز شریف کو کوئی نہیں روک سکے گا۔

عدلیہ کو کیا کرنا چاہیے۔ کیا وہ سیاستدانوں کے مقدمہ سننا چھوڑ دے۔ اور صرف عام آدمی کے مقدمہ سنے۔ حالانکہ اس وقت تاثر مختلف ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ عدلیہ صرف سیاستدانوں کے مقدمات سننے میں مصروف ہے اور اتنی مصروف ہو گئی ہے کہ عا م آدمی کا مقدمہ سننے کے لیے اب اس کے پاس ٹائم ہی نہیں ہے۔ مسئلہ تو یہ ہے سیاستدانوں کے مقدمات سننے سے عدلیہ سیاسی ہو جاتی ہے۔

سیاستدان عدلیہ کو سیاست کے اکھاڑے میں گھسیٹ لیتے ہیں۔ جب کہ عام آدمی خاموشی کے ساتھ ناانصافی برداشت کر لیتا ہے۔ جیسے عدلیہ نے ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے مقدمات سننے چھوڑ دئے ہیں۔ ایسے ہی سیاستدانوں کے بھی چھوڑ دے۔شائد سیاستدان بھی یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان کی عدلیہ کو اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ ان کے مقدمات سننے کے قابل ہی نہ رہے۔اس لیے عدلیہ ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ جس کا احساس کرنا ہو گا۔

چیف جسٹس پاکستان عوامی اہمیت کے معاملات پر سو موٹو لے رہے ہیں۔ ان کی ایک پیش رو نے بھی سو موٹو سے تبدیلی لانے کی کوشش کی تھی لیکن کامیابی نہیں ملی۔ یہ عارضی ریلیف ہوتا ہے۔ عدلیہ کی کارکردگی پر سوال اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ جب تک تبدیلی نچلی سطح تک محسوس نہیں ہوگی تب تک عام آدمی عدلیہ کے ساتھ کھڑا نہیں ہو گا۔ اگر عدلیہ کو سیاستدانوں کے مقدمات سننے ہیں تو انھیں عوام کی عدالت میں عوام کی حمائت کی ضرورت ہو گی۔ جس کے لیے عام آدمی کے مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ ضروری ہے۔
Load Next Story