پاک امریکا تعلقات میں سرد مہری کا فائدہ دہشت گرد اٹھائیں گے احسن اقبال
پاکستان میں 3 ملین افغان مہاجرین ہیں، ہم سوویت یونین کے خلاف جنگ کی آج تک قیمت ادا کررہے ہیں، وزیر داخلہ
پاکستان نے ایک ملین انٹیلی جنس آپریشنز کرکے گزشتہ چار برس میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی، احسن اقبال فوٹو: فائل
وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکا تعلقات میں سرد مہری کا فائدہ دہشت گرد اٹھائیں گے جب کہ امریکا کو افغانستان میں اتحاد اور اشتراک کی پالیسی کے ذریعے ہی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق احسن اقبال کا امریکی کانگریس میں عالمی جیو پولیٹیکل خطرات کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سمٹتی ہوئی دنیا میں اشتراک کے علاوہ تمام راستے انتشار کے راستے ہیں کیوں کہ اب سیکیورٹی کے خطرات علاقائی نہیں رہے پوری دنیا کے لیے چیلنج ہیں جب کہ دہشت گرد گروہ بین الاقوامی نیٹ ورک بن چکے ہیں اور اب دہشت گردی کا مقابلہ عالمی اتحاد و اشتراک سے ہی کیا جا سکتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 6 لاکھ جانوں کی قربانی اور 120 ارب ڈالر کے نقصان کے باعث سب سے زیادہ نمایاں ہے، ملین سرچ آپریشن، دولاکھ 18 ہزار 727 کومبنگ آپریشن، 16 ہزار سے زائد انٹیلی جنس آپریشنز کرکے گزشتہ 4 برس میں پاکستان نے دہشت گردوں کی کمر توڑی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد کو فروغ دیا گیا جس سے تمام اداروں اور قوتوں کے اشتراک سے کامیابی ملی جب کہ دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے دنیا میں مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ پاکستان میں 3 ملین افغان مہاجرین ہیں، پاکستان افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کی آج تک قیمت ادا کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ افغانستان میں داعش کا جمع ہونا علاقے کے لیے خطرہ ہے، حالیہ رپورٹس کے مطابق افغانستان میں 45 تا 70 فیصد علاقہ انتہا پسندوں کے قبضہ میں ہے، ان حالات میں پاکستان امریکا تعلقات میں سرد مہری کا فائدہ دہشت گرد اٹھائیں گے،امریکا کو اتحاد اور اشتراک کی پالیسی کے ذریعے ہی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے جب کہ امریکا اور یوروپین ممالک کی ذمہ داری ہے کہ امن کی کوششوں میں پاکستان کا ساتھ دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق احسن اقبال کا امریکی کانگریس میں عالمی جیو پولیٹیکل خطرات کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سمٹتی ہوئی دنیا میں اشتراک کے علاوہ تمام راستے انتشار کے راستے ہیں کیوں کہ اب سیکیورٹی کے خطرات علاقائی نہیں رہے پوری دنیا کے لیے چیلنج ہیں جب کہ دہشت گرد گروہ بین الاقوامی نیٹ ورک بن چکے ہیں اور اب دہشت گردی کا مقابلہ عالمی اتحاد و اشتراک سے ہی کیا جا سکتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 6 لاکھ جانوں کی قربانی اور 120 ارب ڈالر کے نقصان کے باعث سب سے زیادہ نمایاں ہے، ملین سرچ آپریشن، دولاکھ 18 ہزار 727 کومبنگ آپریشن، 16 ہزار سے زائد انٹیلی جنس آپریشنز کرکے گزشتہ 4 برس میں پاکستان نے دہشت گردوں کی کمر توڑی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد کو فروغ دیا گیا جس سے تمام اداروں اور قوتوں کے اشتراک سے کامیابی ملی جب کہ دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے دنیا میں مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ پاکستان میں 3 ملین افغان مہاجرین ہیں، پاکستان افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کی آج تک قیمت ادا کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ افغانستان میں داعش کا جمع ہونا علاقے کے لیے خطرہ ہے، حالیہ رپورٹس کے مطابق افغانستان میں 45 تا 70 فیصد علاقہ انتہا پسندوں کے قبضہ میں ہے، ان حالات میں پاکستان امریکا تعلقات میں سرد مہری کا فائدہ دہشت گرد اٹھائیں گے،امریکا کو اتحاد اور اشتراک کی پالیسی کے ذریعے ہی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے جب کہ امریکا اور یوروپین ممالک کی ذمہ داری ہے کہ امن کی کوششوں میں پاکستان کا ساتھ دیں۔