امریکا اور پاکستان کو آپسی غلط فہمیاں دور کرنی چاہئیں

بھارت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بھی ماضی کی نسبت بہت گہرے ہو چکے ہیں

بھارت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بھی ماضی کی نسبت بہت گہرے ہو چکے ہیں۔ فوٹو: فائل

امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کے حوالے سے کچھ حوصلہ افزا اشارے مل رہے ہیں تاہم امریکی مطالبہ تاحال ڈومور کے گرد ہی گھومتا نظر آ رہا ہے' گزشتہ دنوں امریکا کے نائب وزیر خارجہ جان سالیون نے کابل کا دورہ کیا تھا' ان کا یہ دورہ اسٹرٹیجک حوالے سے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔

اس دورے میں انھوں نے افغان صدر اشرف غنی' چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں' ان ملاقاتوں میں پاکستان اور بھارت کے حوالے سے اہم امور پر بات چیت ہوئی ۔ اس دورے کے بعد انھوں نے واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کو بریفنگ دی۔ اس بریفنگ کے حوالہ سے پاکستان کے لیے اطمینان بخش بات یہ ہے کہ امریکا پاکستان کے ساتھ تعلقات ختم نہیں کرنا چاہتا اور نہ پاکستان کے کسی علاقے میں فوجی کارروائی ہی کرنا چاہتا ہے' بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان نے القاعدہ کو شکست دینے اور داعش کے خلاف لڑائی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔


ساتھ ہی افغان مہاجرین کی طویل عرصے تک میزبانی اور امریکی اور افغان فورسز کے لیے سامان رسد کے لیے سپلائی لائن مہیا کی جو قابل ستائش امر ہے تاہم امریکی نائب وزیر خارجہ نے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ بھی دہرایا ' بہرحال امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات آج کل نچلی سطح پر ہیں' امریکا پاکستان کی فوجی امداد روک رہا ہے جب کہ بعض سینیٹرز سویلین امداد بھی بند کرانا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں امریکا کے ایوان نمایندگان میں ایک بل بھی پیش کر دیا گیا۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں خرابی کی بنیادی وجہ افغانستان اور بھارت ہیں۔بھارت اور افغانستان کے درمیان تعلقات گہرے ہوتے چلے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے دونوں ملکوں کو امریکا کی مکمل تائید حاصل ہے۔ بھارت اور امریکا کے درمیان بھی سٹرٹیجک تعلقات بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں' ادھر بھارت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بھی ماضی کی نسبت بہت گہرے ہو چکے ہیں۔

یوں دیکھا جائے تو اسرائیل افغانستان تک رسائی حاصل کر چکا ہے' پاکستان کو مشرقی سرحد سے خطرہ تھا ہی لیکن اب شمال مغربی سرحد بھی خاصی حساس اور غیرمحفوظ ہو گئی ہے۔ جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے تو پاکستان کا کردار اس قدر واضح ہے کہ امریکی حکام بھی اسے تسلیم کرتے ہیں لیکن پھر بھی ڈومور کا مطالبہ دہرایا جاتا ہے۔ امریکا اور پاکستان دیرینہ اتحادی ہیں اور دونوں ملکوں نے سرد جنگ اور بعد میں دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی اکٹھے لڑی ہے لیکن اب بعض امور پر ان دونوں اتحادیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ پاکستان کو ان معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے' افغانستان پاکستان کے لیے مستقبل میں مزید مسائل کا سبب بن سکتا ہے' وقت ثابت کر رہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر پہلے سے بھی زیادہ حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ دشمن دہشت گردی کے ذریعے یہیں سے پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے اور دونوں ملکوں میں جن امور پر غلط فہمیاں یا اختلافات موجود ہیں انھیں دور کیا جانا چاہیے' امریکا کی قیادت کو بھی یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو کردار ادا کر سکتا ہے وہ کوئی اور ملک نہیں کر سکتا' دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد ہونا انتہائی ضروری ہے۔
Load Next Story