لیاقت آباد بجلی کی بندش کے خلاف مکینوں کا احتجاج جاری
تین ہٹی جانیوالی سڑک پر مظاہرہ،گاڑیوں پر پتھراؤ، شارع پاکستان پرٹریفک جام ہوگیا، یقین دہانی پر مظاہرین منتشر
واجبات 2 کروڑ 30 لاکھ کے ہیں،کچھ رقم کی ادائیگی اور بقیہ کی یقین دہانی کے بعد بجلی بحال کی جائیگی، کے ای ایس سی. فوٹو: فائل
لیاقت آباد میں بجلی کی کئی روز سے بندش کے خلاف علاقہ مکینوں نے مسلسل تیسرے روز بھی احتجاج کرتے ہوئے کے ای ایس سی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور پتھرائو کر کے متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے اور سڑک پر ٹائر بھی نذر آتش کیے ۔
احتجاج کے باعث شارع پاکستان پرٹریفک جام ہو گیا، تفصیلات کے مطابق لیاقت آباد نمبر 2 اور3 میں گزشتہ کئی روز سے بجلی کی بندش کے خلاف علاقہ مکینوں نے منگل کو مسلسل تیسرے روز بھی احتجاجی مظاہرہ کیا ، مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے علاقوں میں گزشتہ کئی روز سے بجلی کی فراہمی بند ہے ، متعدد بار کے ای ایس سی حکام کو آگاہ کیا گیا لیکن انھوں نے بجلی کی بحالی کے لیے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے ۔
بدھ کو بھی علاقہ مکینوں نے لیاقت آباد سے تین ہٹی کی جانب جانے والی سڑک پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور کے ای ایس سی کے خلاف شدید نعرے بازی کی ، اس دوران نامعلوم افراد نے پتھراؤ کر کے متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے سڑک پر ٹائر نذر آتش کیے ، احتجاج کے باعث لیاقت آباد سے تین ہٹی جانے اور آنے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند ہوگئی جس کے باعث شاہراہ پاکستان پر ٹریفک جام ہو گیا ، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین سے گفتگو کے بعد انھیںیقین دہانی کرائی کہ جلد بجلی بحال کردی جائے گی جس پر مظاہرین منتشر ہو گئے ۔
کے ای ایس سی کے ترجمان فراز نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جس علاقے کی بجلی منقطع کی گئی ہے اس علاقے کی پی ایم ٹی کا نام منہاج پلازہ ہے اور اس پی ایم ٹی پر2کروڑ 30 لاکھ روپے کے واجبات ہیں، انھوں نے بتایا کہ مذکورہ پی ایم ٹی سے395 صارفین کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے جس میں کچھ کچی آبادیاں بھی شامل ہیں جبکہ10فیصد صنعتی علاقہ بھی شامل ہے، انھوں نے بتایا کہ مذکورہ صارفین کو متعدد بار بل کی ادائیگی کے لیے نوٹس جاری کیے گئے تاہم انھوں نے اسے نظرانداز کر دیا اور کے ای ایس کے شکایتی دفتر پر حملے بھی کیے ، مذکورہ رقم کی ایک ساتھ ادائیگی ممکن نہیں۔
اس بارے میں کے ای ایس سی کو بھی اندازہ ہے جس کے باعث صارفین کی سہولت کے لیے انھیں کہا تھا کہ ہر ماہ کے بل کے ساتھ اس کے مساوی رقم جمع کرا دیں تو ان کے بجلی منقطع نہیں کی جائے گی تاہم اس پر بھی انھوں نے رضا مندی ظاہر نہیں کی ، انہوں نے بتایا کہ علاقہ معززین سے بات چیت کے بعد ان کے طرف سے واجبات میں سے کچھ رقم جمع کرانے کے بعد بلوں کے مساوی رقم ہر ماہ جمع کرانے کی یقین دہانی کے بعد بجلی بحال کر دی جائے گی۔
احتجاج کے باعث شارع پاکستان پرٹریفک جام ہو گیا، تفصیلات کے مطابق لیاقت آباد نمبر 2 اور3 میں گزشتہ کئی روز سے بجلی کی بندش کے خلاف علاقہ مکینوں نے منگل کو مسلسل تیسرے روز بھی احتجاجی مظاہرہ کیا ، مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے علاقوں میں گزشتہ کئی روز سے بجلی کی فراہمی بند ہے ، متعدد بار کے ای ایس سی حکام کو آگاہ کیا گیا لیکن انھوں نے بجلی کی بحالی کے لیے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے ۔
بدھ کو بھی علاقہ مکینوں نے لیاقت آباد سے تین ہٹی کی جانب جانے والی سڑک پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور کے ای ایس سی کے خلاف شدید نعرے بازی کی ، اس دوران نامعلوم افراد نے پتھراؤ کر کے متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے سڑک پر ٹائر نذر آتش کیے ، احتجاج کے باعث لیاقت آباد سے تین ہٹی جانے اور آنے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند ہوگئی جس کے باعث شاہراہ پاکستان پر ٹریفک جام ہو گیا ، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین سے گفتگو کے بعد انھیںیقین دہانی کرائی کہ جلد بجلی بحال کردی جائے گی جس پر مظاہرین منتشر ہو گئے ۔
کے ای ایس سی کے ترجمان فراز نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جس علاقے کی بجلی منقطع کی گئی ہے اس علاقے کی پی ایم ٹی کا نام منہاج پلازہ ہے اور اس پی ایم ٹی پر2کروڑ 30 لاکھ روپے کے واجبات ہیں، انھوں نے بتایا کہ مذکورہ پی ایم ٹی سے395 صارفین کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے جس میں کچھ کچی آبادیاں بھی شامل ہیں جبکہ10فیصد صنعتی علاقہ بھی شامل ہے، انھوں نے بتایا کہ مذکورہ صارفین کو متعدد بار بل کی ادائیگی کے لیے نوٹس جاری کیے گئے تاہم انھوں نے اسے نظرانداز کر دیا اور کے ای ایس کے شکایتی دفتر پر حملے بھی کیے ، مذکورہ رقم کی ایک ساتھ ادائیگی ممکن نہیں۔
اس بارے میں کے ای ایس سی کو بھی اندازہ ہے جس کے باعث صارفین کی سہولت کے لیے انھیں کہا تھا کہ ہر ماہ کے بل کے ساتھ اس کے مساوی رقم جمع کرا دیں تو ان کے بجلی منقطع نہیں کی جائے گی تاہم اس پر بھی انھوں نے رضا مندی ظاہر نہیں کی ، انہوں نے بتایا کہ علاقہ معززین سے بات چیت کے بعد ان کے طرف سے واجبات میں سے کچھ رقم جمع کرانے کے بعد بلوں کے مساوی رقم ہر ماہ جمع کرانے کی یقین دہانی کے بعد بجلی بحال کر دی جائے گی۔