بچوں میں ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کی دوا کا اثر ختم ہو گیا

شہرکے کئی اسپتالوں میں ٹائیفائیڈ کیسز رپورٹ ہورہے ہیں لیکن دوائیں موثر ثابت نہیں ہورہی ہیں۔

حیدرآباد میں ہنگامی بنیادوں پر نئی ویکسی نیشن مہم شروع کردی گئی، ڈی جی ہیلتھ سندھ۔ فوٹو : فائل

حیدرآباد کے بعد کراچی میں بھی بچوں میں ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کی دوا کا اثر ختم ہوگیا.

ذرائع محکمہ صحت سندھ کے مطابق شہرکے کئی اسپتالوں میں ٹائیفائیڈ کیسز رپورٹ ہورہے ہیں،لیکن ٹائیفائیڈ کی ادویات موثر ثابت نہیں ہورہی ہیں۔ تحقیق کے دوران حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں سروے کے دوران بچوں میں نیا ایم آر ڈی جرثومہ سامنے آیا ،جرثومے سے بچوں میں دواؤں کیخلاف مزاحمت بڑھ گئی.

ماہرین کے مطابق آلودہ پانی کا استعمال ملٹی ڈرگ ریسسٹنس کی ایک وجہ ہے،ٹائیفائیڈ کے بعد اینٹی بایوٹک کورس پورا نہ کرانے سے ایم ڈی آر پیدا ہوتا ہے، ادھر ڈائریکٹر ہیلتھ سندھ ڈاکٹر محمد اخلاق کے مطابق کراچی میں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاہم ضرورت پڑنے پر شہر کے مختلف علاقوں سے بھی پانی کے سیمپلز لیے جائیں گے جن کی رپورٹس آنے کے بعد ہی اصل حقائق کے بارے میں معلوم ہو سکے گا۔


ڈی جی ہیلتھ سندھ کے مطابق پاکستان بھر میں ایسی کوئی تشخیصی لیبارٹری موجود نہیں ہے جو یہ معلوم کر سکے کہ پانی میں ٹائیفائیڈ کاجرثومہ موجود ہے یا نہیں اس لیے اس عمل میں وقت درکار رہتا ہے۔

ڈاکٹر اخلاق کے مطابق حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں بھی سروے کے جو نتائج سامنے آئے تھے اس کے بعد آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے تعاون سے حیدر آباد میں ایک پروجیکٹ شروع کیا گیا جس میں ٹائیفائیڈ سے متاثرہ بچوں کی ویکسی نیشن کی جارہی ہے۔

ڈائریکٹر ہیلتھ کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں ہنگامی بنیادوں پر نئی ویکسینیشن مہم شروع کردی گئی تھی، محکمہ صحت سندھ کراچی کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ڈاکٹر اخلاق کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ کیسز کی تعداد کا تعین نہیں کرسکتے لیکن جلد ہی مکمل تعداد کے بارے میں معلوم کر لیا جائے گا،اس وقت ان کی ترجیح صرف یہ ہے کہ ٹائیفائیڈ سے بچوں کی بیماری کو محفوظ رکھا جائے اس کی بنیادی وجہ گندا اور آلودہ پانی ہے۔

ڈاکٹر اخلاق نے مزید کہا کہ کراچی میں ایسی خطرناک صورتحال نہیں اور جتنے بھی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، وہ روزمرہ کے ہیں جب کہ محکمہ صحت سندھ نے حیدر آباد میں ٹائیفائیڈ سے محفوظ رہنے کے لیے ویکسینیشن کا عمل شروع کر رکھا ہے اگر ضرورت پڑی تو کراچی میں بھی ایسی مہم شروع کی جائے گی۔
Load Next Story