پلاسٹک فلم کی آڑ میں چھالیہ اور پٹاخے درآمد

خفیہ اطلاع پرکسٹمزکی جانچ میں غلط بیانی پکڑی گئی، 3 کنٹینر ضبط، مقدمات درج

ڈیوٹی بچانے کے لیے 12کروڑکامال پونے29لاکھ کا ظاہر کرکے منگوایا گیا تھا، ذرائع۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
پاکستان کسٹمز اپریزمنٹ ایسٹ کلکٹریٹ کے شعبہ آر اینڈ ڈی نے ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل سے مس ڈیکلریشن کے ذریعے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے لیے کلیئرکرائے جانے والے چھالیہ اور پٹاخوں کے 3 کنٹینرزضبط کرکے ملزمان کے خلاف 3ایف آئی آر درج کرلی ہیں۔

ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ میسرز انسی لے پیکیجزکی جانب سے چھالیہ کے 2 اور پٹاخوں کا ایک کنٹینر درآمدکیا گیا تھا جس کی کلیئرنس کلیئرنگ ایجنٹ محمد حنیف میسرزگیٹ کو ایجنسی کے توسط سے کرائی گئی۔

درآمدکنندہ نے کلیئرنگ ایجنٹ کے ساتھ مل کر چھالیہ کے 2کنٹینرزمیں موجود 37ہزارکلوگرام جاب لاٹ پلاسٹک فلم اورپٹاخوں کے ایک کنٹینرمیں 17ہزارکلوگرام جاب لاٹ پلاسٹک فلم کی کلیئرنس حاصل کی اور محکمہ کسٹمز میں داخل کردہ گڈز ڈیکلریشن میں ان تینوں کنسائمنٹس کی مجموعی مالیت 28 لاکھ 73 ہزار روپے ظاہرکی گئی تھی جبکہ چھالیہ کے دونوں کنٹینرز میں 12 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی 50 ٹن چھالیہ اور 40 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے پٹاخے موجود تھے۔


کسٹمز اپریزمنٹ ایسٹ کلکٹریٹ کے شعبہ آر اینڈ ڈی کوخفیہ اطلاع موصول ہوئی کہ ساؤتھ ایشیاپاکستان ٹرمینل سے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے لیے مس ڈیکلریشن کے ذریعے کنسائمنٹس کلیئر کیے جارہے ہیں جس پر آراینڈڈی کی ٹیم نے مذکورہ ٹرمینل پر چھاپہ مارا اور کلیئرہونے والے کنسائمنٹ کی جانچ پڑتال کی توانکشاف ہواکہ جاب لاٹ پلاسٹک ظاہر کیے جانے والے کنٹینر سے پٹاخے برآمد ہوئے جبکہ مزید تفتیش پر یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ کمپنی کی جانب سے مزید 2 کنسائمنٹس ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے لیے کلیئرکرائے جا چکے ہیں جس میں بھی پلاسٹک فلم ظاہرکیا گیا ہے تاہم آر اینڈ ڈی کی ٹیم کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی کہ کلیئر ہونے والے دونوں کنسائمنٹس کورنگی صنعتی علاقے میں موجود ہیں جس پر آر اینڈ ڈی کی ٹیم نے بلال چورنگی کورنگی انڈسٹریل ایریامیں چھایہ مار کر دونوں کنسائمنٹس برآمدکرکے ان کی چانچ پڑتال کی تواس میں جاب لاٹ پلاسٹک فلم کے بجائے 50 ٹن چھالیہ موجود تھی۔

تفتیش کے دوران انکشاف ہواکہ مذکورہ کمپنی کلیئرنگ ایجنٹ کے ساتھ مل کرطویل عرصے سے پٹاخوں سمیت مختلف اشیاکی اسمگلنگ کرنے میں ملوث ہے۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرپر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کے باعث چھالیہ کے کنسائمنٹس پر 50 فیصدسے زائد کی ریگولیٹری ڈیوٹی کا نفاذ ہو گیا ہے اور چھالیہ مہنگی ہونے کی وجہ سے مذکورہ درآمدکنندہ نے چھالیہ کی اسمگلنگ کا ایک نیا منظم طریقہ کار اپنایا لیکن محکمہ کسٹمز نے اسمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے کنسائمنٹس قبضے میں لے لیے ہیں۔
Load Next Story