راؤ انوار کو بہادر بچہ کہنے پر سندھ اور خیبرپختونخوا اسمبلی میں مذمتی قراردادیں جمع

آصف زرداری بے گناہ شہریوں کے قاتل کو بہادر بچہ قرار دے کر لواحقین کی دل آزاری کے مرتکب ہوئے ہیں، قرارداد کا متن

راؤ انوار نقیب اللہ محسود قتل کیس میں مطلوب ہیں فوٹو : فائل

پاکستان تحریک انصاف نے جعلی پولیس مقابلوں میں مطلوب راؤ انوار کو بہادر بچہ قرار دینے سے متعلق آصف زرداری کے بیان پر سندھ اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع کرادی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خرم شیر زمان کی جانب سے اسمبلی سیکریٹریٹ میں مذمتی قرارداد جمع کرائی گئی ہے، جس میں سابق صدر آصف زرداری کے راؤ انوار سے متعلق بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

خرم شیر زمان کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر جعلی پولیس مقابلوں میں معصوم شہریوں کو قتل کرنے والے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو بہادر بچہ قرار دے کر لواحقین کی دل آزاری کے مرتکب ہوئے ہیں، راؤ انوار جو نقیب اللہ محسود جعلی پولیس مقابلے کے مقدمے میں مفرور ہیں، ایسے شخص کو بہادر بچہ کہنا بذات خود قانون کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے جس کی اس اسمبلی کو مذمت کرنی چاہیے۔


واضح رہے کہ آصف زرداری نے ایک نجی ٹی وی چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو بہادر بچہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ نوے کی دہائی میں ایم کیو ایم کےخلاف پولیس آپریشن کرنے والے بہادر پولیس افسران میں سے وہ واحد افسر ہے جو اب تک زندہ ہے تاہم آصف زرداری نے اپنے ایک اور انٹرویو میں سابقہ بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی ماورائے عدالت قتل کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی اگر راؤ انوار ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہے تو اسے سخت سزا ملنی چاہیے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی تحریک انصاف کے رکن فضل الہی نے مذمتی قرارداد جمع کرائی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری کے بیاں سے پختونوں کی دل آزاری ہوئی، اس لئے یہ ایوان ان کے بیان کی مذمت کرتا ہے۔

Load Next Story