ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں

بچہ بچہ تو بہر حال بچہ ہوتا ہے اور سنکٹ میں ماں کے پاس نہ جائے تو کہاں جائے

barq@email.com

ISLAMABAD:
یہ تو سارا پاکستان بلکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ پشتون کون ہیں؟ بلکہ اب تو خود پشتون اپنے بارے میں اتنا نہیں جانتے جتنا باقی صوبوں والے خصوصاً وہاں کے پولیس والے اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے ان کے بارے میں ''جانتے'' ہیں۔ نہ صرف جانتے ہیں بلکہ مانتے اور منواتے بھی ہیں لیکن پھر بھی یہ کوڑھ مغز پشتون ہیں کہ جیسے جانتے بھی نہیں اور پہچانتے بھی نہیں ہیں۔ پشتونوں کے بارے میں ''دوسروں'' کی جانکاری اور اپنے بارے میں ان کی بے خبری کا یہ عالم ہے کہ ہمیں اکثر ایک فلمی لطیفہ یاد دلا دیتا ہے۔

ایک انڈین فلم میں ''گووندا'' ایک لڑکی کو ٹیلیفون پر تنگ کرتا ہے۔ وہ لڑکی اپنی سہیلیوں سے مشورہ کرکے ایک منصوبہ بناتی ہے۔ فون آنے پر وہ اس کے ساتھ میٹھی ہو جاتی ہے اور ملاقات کی خواہش کرتی ہے۔ ملاقات ایک ہوٹل میں طے ہو جاتی ہے اور لڑکی گووندا سے کہتی ہے کہ اپنے کوٹ میں گلاب کا پھول لگا کر آئے تاکہ پہچاننے میں دقت نہ ہو ۔گووندا سمجھ جاتا ہے کہ منصوبہ اس کے پٹنے اور درگت بنانے کا ہے چنانچہ وہ اپنے ادھیڑ عمرکے ایک نوکر کو ساتھ لے جاتا ہے اور اس کے کوٹ میں گلاب کا پھول بھی لگاتا ہے۔لڑکیوں کا خطرناک غول نمودار ہوتے ہی گووندا کہیں کھسک جاتا ہے اور لڑکیاں اس نوکر پر پل پڑتی ہیں۔

اس پر وہ بچارا نوکر ''پشتون'' رندھی ہوئی آواز میں بڑی معصومیت سے پوچھتا ہے، کمال ہے، میں تمہیں چھیڑ رہا ہوں اور مجھے خود پتہ نہیں ہے ۔اسے ہم بھی ابتدا میں ایک لطیفہ ہی سمجھتے تھے لیکن اب اس کی سچائی پر دھیرے دھیرے یقین آتا جا رہا ہے کہ ایسا بالکل ممکن ہے کہ کوئی ایک ''کام'' کر رہا ہو اور اسے پتہ ہی نہ ہو۔ کیونکہ ہمیں ایسے بہت سارے پشتون ملے جو پاکستان کے طول و عرض میں پنڈی اسلام آباد، لاہور،کراچی، ملتان حیدر آباد، سکھر بلکہ چھوٹے چھوٹے شہروں میں ''دہشت گردی'' کرتے رہے اور ان کو خود بھی پتہ نہیں ہوتا تھا وہ تو اپنے خیال میں جوتے پالش کرتے تھے، ملوں میں مزدوری کرتے تھے، زیر تعمیر عمارتوں میں گارا اینٹیں ڈھوتے تھے، شوگرملوں میں گنا ادھر ادھر کرتے تھے یا کلینری یا ڈرائیوری کرتے تھے کہ اچانک ان کو پتہ چلا کہ وہ تو دہشتگردی کر رہے تھے۔

وہ تو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا خدا بھلا کرے کہ تھانوں میں لے جا کر مختلف ''کاریوں'' کے ذریعے یہ ''جانکاری'' دینے لگے ورنہ اور نہ جانے کتنا عرصہ وہ اس غلط فہمی میں رہتے کہ ہم دہشتگردی کر رہے ہیں اور ہمیں پتہ تک نہیں ہے۔اس سلسلے میں سب سے بڑا سہرا پولیس (مع ٹریفک وغیرہ) کے سر جاتا ہے کہ انھوں نے پشتونوں کی جانکاری یا اویرنس کے لیے بہت ہی اچھے انتظامات کیے ہوئے ہیں۔ جگہ جگہ ایسے معلوماتی پوائنٹ کھول رہے ہیں جہاں ان اجڈ اور بے خبر پشتونوں کی اویرنس میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ یہ تو خیر اب ایک جانا پہچانا اور رائج الوقت طریقہ تعلیم ہے جو پشتونوں کی سہولت کے لیے ملک بھر میں قائم ہے لیکن ایک اور مسٔلہ مسلسل سر اٹھا رہا ہے۔


ایک اندازے کے مطابق لاکھوں پشتونوں کے شناختی کارڈ بلاک ہیں ۔سنا ہے اب جب تک یہ لوگ نئے فارم میں اپنی نئی شناخت کے مطابق نہیں بھریں گے، ان کے شناختی کارڈ بلاک رہیں گے، ظاہر ہے کہ ان حالات میں انسان کے منہ سے صرف دوہی آوازیں نکل سکتی ہیں ،ہائے اﷲ یا اوہ میری ماں ۔ اﷲ تک پہنچنا تو آسان نہیں ہے لیکن '' ماں '' تو سامنے موجود ہوتی ہے، زندہ نہ ہوتو اس کی یاد اور اس کی قبر بھی تسکین کا ذریعہ بن سکتی ہے لیکن یہاں بھی معاملہ بڑا پیچیدہ نکلا جو جو '' مائیں '' یعنی سیاسی پارٹیاں پشتونوں کی مائیں ہونے کی دعویدار تھیں، وہ بار بار اتنے شوہر بدل چکی تھیں اور ان نئے نئے شوہروں سے اتنے '' بچے'' جن چکی تھیں کہ ان کو یہ یاد بھی نہیں تھا کہ کبھی ان کے پہلوٹھی کا ایک بچہ پشتون نام کا بھی ہوا کرتا تھا ۔

لیکن بچہ بچہ تو بہر حال بچہ ہوتا ہے اور سنکٹ میں ماں کے پاس نہ جائے تو کہاں جائے ۔چنانچہ یہ سب سے پہلے اے این پی کے پاس گیا جو خود کو اس کی سگی اور بڑی ماں کہلاتی تھی۔ لیکن اس ماں نے اس کی تکلیف سنے بغیر کہا کہ میں کیا کروں ۔ میں نے تو اسلام آباد میں چلے کاٹ کاٹ کر تمہیں اپنا صوبہ دے دیا۔ پہلے تم بے نام تھے، بے مقام تھے، ہڈ حرام تھے اور نامراد و ناکام تھے، میں نے تم کو نہ صرف ایک پورا صوبہ دیا بلکہ ساتھ ہی خیبر نام کا '' چھونگا'' بھی دیا ۔کوئی بات نہیں اگر اس نام کا ایک حصہ غیر قانونی ہو گیا ہے تو تم دوسرا حصہ استعمال کرکے قومیت کے خانے میں '' خیبری '' لکھ دو ۔وہاں سے یہ لوگ دم دبا کر اﷲ والوں کے پاس پہنچے کہ یہ لوگ نیکو کار پرہیز گار خدمت گار ہیں، شاید کوئی اپائے بتا سکیں اور کوئی اچھا سا نام اپنے اس دیوانے کا رکھ دیں ۔

انھوں نے پہنچتے ہی پہلے حضرت قدس سرۂ مدظلہ العالی دام اقبالۂ سے رجوع کیا، پہلے تو ان کا ٹکا سا جواب ملا کہ حضرت بڑے بڑے '' تحفظات '' میں اتنے بڑے بڑے مصروف ہیں کہ ایسے چھوٹے چھوٹے '' غیر تحفظات '' پر توجہ نہیں دے سکتے لیکن یہ لوگ '' پرلت '' مارکر بیٹھ گئے۔ آخر حضور عالی نے اندر سے جواب بجھوا یا کہ انھوں نے آپ کا مسٔلہ سن لیا اور اپنے '' تحفظات '' کے بقچے میں رکھ لیا ہے اور ایک دن اس پر تغور و تفکر فرما کر اپنے تحفظات کا اظہار کردیں گے لیکن اسلام اور اسلام آباد کے '' تحفظات '' کے بعد باری آنے پر۔ یہاں یہ لوگ اس نئی دکان کی طرف جانکلے جس پر بے پناہ رش تھا کیونکہ یہاں انصاف کے ساتھ ساتھ کچھ کلاؤن تماشا بھی دکھا رہے تھے ۔ وفد نے بار بار اپنا مسٔلہ ان کے گوش گزار کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ کام بغیر دھرنے کے ممکن نہیں اس لیے دھرنا دے دو بعد میں دیکھیں گے ۔

جناب زرداری سب سے اچھے رہے، انھوں نے ان لوگوں کو نہ صرف اپنا نام '' سندھی '' رکھنے کی اجازت دی بلکہ ایک اجرک اور ٹوپی بھی مزید ثبوت کے لیے دی، مسلم لیگ کے پاس جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ مسلم لیگ تو 1946ء ہی میں ایک مشہور و معروف روڈ رولر ڈرائیور ڈبل بیرل خان کو ریفرنڈم نامی روڈ رولر میں بٹھا کر انھیں تہہ بہ تہہ بلکہ ''تہہ تیغ''کر چکی تھی ۔
Load Next Story