حلقہ بندیوں میں تاخیر سے انتخابی مہم متاثر نہیں ہوئیہائیکورٹ
مزید دلائل دیے جائیں کہ انتخابی عمل کب شروع ہوا،سماعت کے دوران آبزرویشن
انتخابی حلقوں میں ردوبدل کے خلاف متحدہ کی درخواست کی سماعت آج تک ملتوی۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے آبزروکیا ہے کہ حلقہ بندیوں کے نوٹیفکیشن کے اجرا میں 2گھنٹے تاخیر سے کسی پارٹی کی انتخابی مہم متاثر نہیں ہوئی۔
فاضل بینچ نے یہ آبزرویشن منگل کو انتخابی حلقوں میں تبدیلی کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کی آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کی، منگل کو ایم کیو ایم کی جانب سے بیرسٹرسینیٹر فروغ نسیم نے دلائل دیے اور توقع ہے کہ بدھ کو بھی ان کے دلائل جاری رہیں گے، سماعت کے موقع پر عدالت نے آبزرو کیاکہ انتخابی شیڈول اور حلقہ بندی کے نوٹیفکیشن کے اجرا میں محض دو گھنٹے کا فرق ہے ،جس سے امیدوار کی انتخابی مہم متاثر نہیں ہوسکتی۔
امیدوار جانتا ہے کہ اسے کس علاقے میں انتخابی مہم چلانی ہے، ڈاکٹر فروغ نسیم نے اپنے دلائل میں موقف اختیارکیا کہ مردم شماری کے بغیر حلقہ بندی نہیں ہوسکتی اور دوئم یہ کہ سپریم کورٹ کی جانب سے حلقہ بندی سے متعلق حکم27فروری2013کو جاری کیا گیا جبکہ الیکشن کمیشن نے 22مارچ کو انتخابی شیڈول اورحلقہ بندی سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیاجب کہ انتخابی عمل کے آغازکے بعد حلقہ بندی نہیں کی جاسکتی۔
جسٹس مقبول باقر نے آبزرویشن دی کہ حلقہ بندیوں اور مردم شماری کے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے اور جہاں تک شیڈول کے بعد حلقہ بندیوں میں تبدیلی کی پابندی کا معاملہ ہے تو یہ پابندی اس لیے ہے کہ امید وار کی انتخابی مہم متاثر نہ ہو جبکہ یہاں دونوں نوٹیفکیشنوں کے اجرا میں زیادہ سے زیادہ دوگھنٹے کا فرق ہے اس لیے انتخابی مہم متاثر ہونے کا کوئی خدشہ نہیں۔
بیرسٹر فروغ نسیم نے موقف اختیار کیا کہ 16مارچ2013کو قومی اسمبلی تحلیل ہوگئی تھی اور اسی دن سے انتخابی عمل کاآغاز سمجھا جائے گا کیوں کہ یہ طے ہے کہ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد60 روزکے اندر انتخابات کرادیے جائیں اس لیے الٹی گنتی اسی روز شروع ہوگئی تھی،عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ اتنی تاخیر نہیںتاہم اس نکتہ پر مزید دلائل دیے جائیں کہ انتخابی عمل کب شروع ہوا۔عدالت نے سماعت3 اپریل کے لیے ملتوی کردی۔
فاضل بینچ نے یہ آبزرویشن منگل کو انتخابی حلقوں میں تبدیلی کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کی آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کی، منگل کو ایم کیو ایم کی جانب سے بیرسٹرسینیٹر فروغ نسیم نے دلائل دیے اور توقع ہے کہ بدھ کو بھی ان کے دلائل جاری رہیں گے، سماعت کے موقع پر عدالت نے آبزرو کیاکہ انتخابی شیڈول اور حلقہ بندی کے نوٹیفکیشن کے اجرا میں محض دو گھنٹے کا فرق ہے ،جس سے امیدوار کی انتخابی مہم متاثر نہیں ہوسکتی۔
امیدوار جانتا ہے کہ اسے کس علاقے میں انتخابی مہم چلانی ہے، ڈاکٹر فروغ نسیم نے اپنے دلائل میں موقف اختیارکیا کہ مردم شماری کے بغیر حلقہ بندی نہیں ہوسکتی اور دوئم یہ کہ سپریم کورٹ کی جانب سے حلقہ بندی سے متعلق حکم27فروری2013کو جاری کیا گیا جبکہ الیکشن کمیشن نے 22مارچ کو انتخابی شیڈول اورحلقہ بندی سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیاجب کہ انتخابی عمل کے آغازکے بعد حلقہ بندی نہیں کی جاسکتی۔
جسٹس مقبول باقر نے آبزرویشن دی کہ حلقہ بندیوں اور مردم شماری کے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے اور جہاں تک شیڈول کے بعد حلقہ بندیوں میں تبدیلی کی پابندی کا معاملہ ہے تو یہ پابندی اس لیے ہے کہ امید وار کی انتخابی مہم متاثر نہ ہو جبکہ یہاں دونوں نوٹیفکیشنوں کے اجرا میں زیادہ سے زیادہ دوگھنٹے کا فرق ہے اس لیے انتخابی مہم متاثر ہونے کا کوئی خدشہ نہیں۔
بیرسٹر فروغ نسیم نے موقف اختیار کیا کہ 16مارچ2013کو قومی اسمبلی تحلیل ہوگئی تھی اور اسی دن سے انتخابی عمل کاآغاز سمجھا جائے گا کیوں کہ یہ طے ہے کہ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد60 روزکے اندر انتخابات کرادیے جائیں اس لیے الٹی گنتی اسی روز شروع ہوگئی تھی،عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ اتنی تاخیر نہیںتاہم اس نکتہ پر مزید دلائل دیے جائیں کہ انتخابی عمل کب شروع ہوا۔عدالت نے سماعت3 اپریل کے لیے ملتوی کردی۔