پی ایس ایل فائنل سیکیورٹی پلان نظر ثانی کا متقاضی

کھلاڑیوں کو بہترین سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں

کھلاڑیوں کو بہترین سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ فوٹو: فائل

شہر قائد کے شائقین کرکٹ کی پاکستان سپر لیگ فائنل کے کراچی میں پر امن انعقاد پر خوشی بلاشبہ دیدنی ہے کیونکہ ایک طویل عرصہ کے بعد نیشنل سٹیڈیم کی رونقیں لوٹ رہی ہیں، اس کی تزئین و آرائش کا کام تیزی سے جاری ہے، پاکستان عالمی کرکٹ کی تنہائی سے نکل رہا ہے اور کرکٹ کی نشاۃ ثانیہ یقینی نظر آنے لگی ہے تاہم 25 مارچ کو پی ایس ایل فائنل کے لیے شہر قائد کے ایک بڑے حصہ کو ''بہترین سیکیورٹی'' کے نام پر بند رکھنے کی جو سخت انتظامی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں اس پر شہریوں نے شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا ہے ۔


جس پر سندھ حکومت، پی ایس ایل انتظامیہ اور سٹی پولیس حکام کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، حقیقت یہ ہے کہ ایک شاندار اسپورٹس ایونٹ کو منانے کے لیے مثالی حکمت عملی اس طرح ہونی چاہیے کہ کھیل کو کھیل رہنے دیا جائے، پورا شہر اس سے لطف اندوز ہو، ٹریفک نظام میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو، فائنل کو شہریوں کے لیے زحمت نہ بنائیں، پی ایس ایل کے کرتا دھرتا اپنی پالیسی اور سیکیورٹی پلان پر فوری نظر ثانی کریں، واضح رہے اسی نوعیت کی سخت سیکیورٹی میں پچھلا فائنل لاہور میں ہوا تھا اور اس کی کامیابی پر شہری حلقوں نے خوشیاں منائیں مگر میڈیا نے سیکیورٹی کے نام پر لاہور شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور کرفیو جیسی صورتحال پیدا کرنے پر پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا، چنانچہ اب فائنل کے لیے کراچی میں سٹی پولیس اور پی ایس ایل انتظامیہ کی طرف سے جو سیکیورٹی پلان تیار کیا گیا ہے۔

اس کے تحت کھلاڑیوں کو بہترین سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں جو مناسب اور ناگزیر بھی ہے لیکن اس کے لیے شہر کو مفلوج بنانا مناسب طرز عمل نہیں ہے بلکہ ایسا پلان مرتب کیا جائے جس میں شہریوں کو کسی قسم کی تکلیف یا پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ سیکیورٹی انتظامات موثر و شفاف ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامیت کا پیغام دیں، عالمی اور قومی کرکٹرز کی طرف سے خیرسگالی کی نوید سب کو ملے۔ ادھر چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل کراچی میں ہی ہوگا اور اگر فائنل کراچی میں نہیں ہوا تو کہیں نہیں ہوگا، چیئرمین پی سی بی کا مزید کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے کراچی اور اس سال کے کراچی میں بہت فرق ہے۔ لہذا اسی فرق کو استعارہ بناتے ہوئے پی ایس ایل انتظامیہ بہترین سیکیورٹی اور سخت انتظامات کے جوش میں نیشنل سٹیڈیم کے اطراف کرفیو کا سماں پیدا نہ کرے بلکہ سیکیورٹی پلان سے دنیا کو شہر قائد کے امن کا شہر ہونے کی امید افزا نوید ملے۔
Load Next Story