ملزم کو کرنٹ لگانے پر امریکی عدالت نے سزا ختم کردی

امریکی عدالتوں میں بے قابو ملزمان کی کمر یا ٹانگوں کے گرد اسٹن بیلٹ باندھ کر بجلی کے جھٹکے دیے جاتے ہیں

ٹیکساس کی ٹیرنٹ کاؤنٹی کی عدالتوں میں بیان لینے کے لیے ملزم کو کرنٹ لگوایا جاتا ہے۔ فوٹو : انٹرنیٹ

امریکی عدالت نے بچی سے جنسی زیادتی کی کوشش کرنے والے ملزم کو کرنٹ لگا کر بیان دلوانے پر سزا ختم کردی۔


بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ٹیکساس کی اپیلٹ کورٹ نے مقامی عدالت کی جانب سے زیادتی کے ملزم سے بیان لینے کے لیے عدالت میں بجلی کے جھٹکے لگانے کے عمل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ملزم کی سزا ختم کردی۔ عدالت کا کہنا تھا سزا دینے کے لیے 'اسٹن بیلٹ' استعمال نہیں کی جاسکتی۔



ملزم مورس کو جج جارج گیلاگر نے 2014ء میں مقدمے کی سماعت کے دوران اسٹن بیلٹ کے ذریعے کرنٹ کے جھٹکے لگوائے تھے۔ جس پر ملزم ٹیرس لی مورلی نے اپیلٹ کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ دوران سماعت کسی سوال کا جواب نہ دینا میرا استحقاق تھا اور میں ذہنی مریض بھی تھا جب کہ دوران تفتیش مجھ پر تشدد بھی کیا گیا لیکن ٹیکساس کی مقامی عدالت کے جج جارج گیلاگر نے اس پر توجہ دینے کے بجائے مجھے بیان دینے کے لیے مجبور کیا اور دو مرتبہ اسٹن بیلٹ کے الیکٹرک شاک لگا کر آئینی حقوق پامال کیے۔


اپیلٹ کورٹ نے ملزم مورس کے موقف کو درست تسلیم کیا اور سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کی سزا ختم کردی ساتھ ہی ماتحت عدالت کو مقدمے کی از سر نو سماعت کا حکم دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ ملزم کو کسی سوال کا جواب نہ دینے، عدالت میں موجود رہنے اور گواہوں پر جرح کا حق حاصل ہے تاہم اس کیس میں اس حق کو پامال کیا گیا۔


واضح رہے کہ ٹیری لی مورس نے 15 سالہ بچی سے جنسی زیادتی کوشش کرنے اور اسے جنسی افعال کرنے کے لیے ورغلانے کی کوشش کی تھی جس پر عدالت نے اسے 60 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ دوران سماعت ملزم سے بیان لینے کے لیے کرنٹ کے جھٹکے لگائے گئے تھے۔ ٹیکساس کی ٹیرنٹ کاؤنٹی کی عدالتوں میں اسٹن بیلٹس استعمال ہوتی ہیں، اسٹن بیلٹس ملزموں کی کمر یا ٹانگوں کے گرد باندھا جاتا ہے اور اگر ملزم بےقابو ہو جائے تو اسے کرنٹ لگایا جاتا ہے۔

Load Next Story