بطور چیف جسٹس مطلق العنان نہیں جسٹس ثاقب نثار
مجھے بھی قانون کے مطابق چلنا ہے براہ راست ہر کیس میں مداخلت نہیں کر سکتا، چیف جسٹس ثاقب نثار
مجھے بھی قانون کے مطابق چلنا ہے براہ راست ہر کیس میں مداخلت نہیں کر سکتا، چیف جسٹس ثاقب نثار فوٹو:فائل
PESHAWAR:
چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ میں بطور چیف جسٹس مطلق العنان نہیں۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پولیس مقابلے میں ہلاک نوجوان کی والدہ خاتون صغری بی بی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ متاثرہ خاتون نے عدالت میں بتایا کہ پولیس نے مجھے اور میرے بیٹے کو اغوا برائے تاوان کے مقدمہ میں ملوث کیا، میں 10 ماہ بعد بری ہوگئی لیکن میرے بیٹے کو پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا، جج صاحب پولیس کب تک ماؤں کی گودیں اجاڑتی رہے گی۔ چیف جسٹس نے نوجوان کو ہلاک کرنے والے تمام پولیس اہلکاروں کو طلب کرتے ہوئے خاتون صغراں بی بی کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔
اس موقع پر سپریم کورٹ میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت متعدد فریادیوں نے اندر جانے کی کوشش کی تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے سائلین کو کمرہ عدالت میں بلا لیا اور شکایات سن کر موقع پر ہدایات جاری کیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ میں بطور چیف جسٹس مطلق العنان نہیں ہوں، مجھے بھی قانون کے مطابق چلنا ہے، براہ راست ہر کیس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔
چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے انسانی حقوق اور اقلیتوں کی شکایات کے لیے سیل بنانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کل جب صغریٰ بی بی کی شکایت سننے کے لیے گاڑی سے اترا تو مجھے سیکیورٹی نے منع کیا، مجھے بھی اس طرح رکنا ٹھیک نہیں لگا، اب سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سیل بنا رہے، تاکہ لوگ سڑک پر بیٹھنے کی بجائے وہاں شکایات بھیجیں۔
چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ میں بطور چیف جسٹس مطلق العنان نہیں۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پولیس مقابلے میں ہلاک نوجوان کی والدہ خاتون صغری بی بی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ متاثرہ خاتون نے عدالت میں بتایا کہ پولیس نے مجھے اور میرے بیٹے کو اغوا برائے تاوان کے مقدمہ میں ملوث کیا، میں 10 ماہ بعد بری ہوگئی لیکن میرے بیٹے کو پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا، جج صاحب پولیس کب تک ماؤں کی گودیں اجاڑتی رہے گی۔ چیف جسٹس نے نوجوان کو ہلاک کرنے والے تمام پولیس اہلکاروں کو طلب کرتے ہوئے خاتون صغراں بی بی کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔
براہ راست ہر کیس میں مداخلت نہیں کر سکتا، چیف جسٹس
اس موقع پر سپریم کورٹ میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت متعدد فریادیوں نے اندر جانے کی کوشش کی تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے سائلین کو کمرہ عدالت میں بلا لیا اور شکایات سن کر موقع پر ہدایات جاری کیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ میں بطور چیف جسٹس مطلق العنان نہیں ہوں، مجھے بھی قانون کے مطابق چلنا ہے، براہ راست ہر کیس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔
عوام کی شکایت کیلیے لاہور رجسٹری میں سیل بنارہے ہیں، جسٹس ثاقب نثار
چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے انسانی حقوق اور اقلیتوں کی شکایات کے لیے سیل بنانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کل جب صغریٰ بی بی کی شکایت سننے کے لیے گاڑی سے اترا تو مجھے سیکیورٹی نے منع کیا، مجھے بھی اس طرح رکنا ٹھیک نہیں لگا، اب سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سیل بنا رہے، تاکہ لوگ سڑک پر بیٹھنے کی بجائے وہاں شکایات بھیجیں۔