فیس بک پر صارفین کی فون کالز اور ٹیکسٹ میسجز تک محفوظ نہیں
مارک زکر برگ نے امریکی صدارتی انتخاب میں صارفین کا ڈیٹا استعمال ہونے پر اخبارات میں معافی نامہ بھی چھپوایا ہے
فیس بک کے محفوظ استعمال کے لیے پرائیویسی اور سیکیورٹی کے تمام آپشن کا استعمال کریں۔ فوٹو : فائل
فیس بک صارفین کےلیے ایک اور بری خبر ہے کہ فیس بک اینڈروئیڈ فونز استعمال کرنے والے صارفین کی فون کالز اور ٹیکسٹ پیغامات کا ڈیٹا بھی جمع کرلیتی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کیمبرج اینالیٹکا اسکینڈل میں پھنسی فیس بک کےلیے ایک نئی پریشانی کھڑی ہوگئی۔ فیس بک کو اب اینڈروئیڈ فونز پر فیس بک استعمال کرنے والے صارفین کی فون کالز اور میسیجز کا ڈیٹا جمع کرنے کے الزام کا بھی سامنا ہے۔
اس خبر کو بھی پڑھیں: امریکی الیکشن میں صارفین کا ڈیٹا استعمال ہونے پر فیس بک نے معافی مانگ لی
ان الزامات کا انکشاف اس وقت ہوا ہے جب فیس بک نے صارفین کا ڈیٹا بلا اجازت استعمال کرنے کا اعتراف کیا۔ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کی جانب سے گزشتہ روز امریکا اور برطانیہ کے اخبارات میں ایک صفحے کا معافی نامہ چھپوایا گیا۔ اس کے بعد کچھ صارفین نے سوشل میڈیا پر اپنا ڈیٹا اپ لوڈ کیا جس میں دیکھا گیا کہ اینڈروئیڈز فون استعمال کرنے والے صارفین کے فون کالز کا ریکارڈز بشمول تاریخیں، وقت، کال کا دورانیہ، کال کرنے والے فرد کا نام اور فون نمبرز وغیرہ تک کا ڈیٹا فیس بک جمع کرلیتی ہے۔
اس خبر کو بھی پڑھیں: واٹس ایپ نے فیس بک اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کا کہہ دیا
فیس بک انتظامیہ نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ ایسا صرف اُن صارفین کے ساتھ ہوسکتا ہے جنہوں نے اینڈروئیڈ جیلی بین (ورژن 4.1) استعمال کیا ہو جس کےلیے فیس بک پہلے آپریٹنگ سسٹم میں فون کونٹیکٹس تک رسائی کے ساتھ کال اور ٹیکسٹ لاگز تک بھی رسائی کی اجازت مانگتی تھی۔ اجازت ملنے کے بعد رسائی حاصل کرلی جاتی تھی تاہم چند سال بعد اس آپشن کو ختم کردیا گیا تھا لیکن تب تک جن افراد کا ڈیٹا جمع کیا چکا تھا اسے ختم نہیں کیا جاسکا۔
واضح رہے کہ کوئی بھی صارف اپنے فیس بک اکاؤنٹ کی سیٹنگز میں جاکر 'جنرل' میں موجود آخری آپشن 'ڈاﺅن لوڈ اے کاپی آف یور فیس بک ڈیٹا' پر کلک کرکے فیس بک کی جانب سے صارف کی جمع کی گئی معلومات کو دیکھ سکتا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کیمبرج اینالیٹکا اسکینڈل میں پھنسی فیس بک کےلیے ایک نئی پریشانی کھڑی ہوگئی۔ فیس بک کو اب اینڈروئیڈ فونز پر فیس بک استعمال کرنے والے صارفین کی فون کالز اور میسیجز کا ڈیٹا جمع کرنے کے الزام کا بھی سامنا ہے۔
اس خبر کو بھی پڑھیں: امریکی الیکشن میں صارفین کا ڈیٹا استعمال ہونے پر فیس بک نے معافی مانگ لی
ان الزامات کا انکشاف اس وقت ہوا ہے جب فیس بک نے صارفین کا ڈیٹا بلا اجازت استعمال کرنے کا اعتراف کیا۔ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کی جانب سے گزشتہ روز امریکا اور برطانیہ کے اخبارات میں ایک صفحے کا معافی نامہ چھپوایا گیا۔ اس کے بعد کچھ صارفین نے سوشل میڈیا پر اپنا ڈیٹا اپ لوڈ کیا جس میں دیکھا گیا کہ اینڈروئیڈز فون استعمال کرنے والے صارفین کے فون کالز کا ریکارڈز بشمول تاریخیں، وقت، کال کا دورانیہ، کال کرنے والے فرد کا نام اور فون نمبرز وغیرہ تک کا ڈیٹا فیس بک جمع کرلیتی ہے۔
اس خبر کو بھی پڑھیں: واٹس ایپ نے فیس بک اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کا کہہ دیا
فیس بک انتظامیہ نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ ایسا صرف اُن صارفین کے ساتھ ہوسکتا ہے جنہوں نے اینڈروئیڈ جیلی بین (ورژن 4.1) استعمال کیا ہو جس کےلیے فیس بک پہلے آپریٹنگ سسٹم میں فون کونٹیکٹس تک رسائی کے ساتھ کال اور ٹیکسٹ لاگز تک بھی رسائی کی اجازت مانگتی تھی۔ اجازت ملنے کے بعد رسائی حاصل کرلی جاتی تھی تاہم چند سال بعد اس آپشن کو ختم کردیا گیا تھا لیکن تب تک جن افراد کا ڈیٹا جمع کیا چکا تھا اسے ختم نہیں کیا جاسکا۔
واضح رہے کہ کوئی بھی صارف اپنے فیس بک اکاؤنٹ کی سیٹنگز میں جاکر 'جنرل' میں موجود آخری آپشن 'ڈاﺅن لوڈ اے کاپی آف یور فیس بک ڈیٹا' پر کلک کرکے فیس بک کی جانب سے صارف کی جمع کی گئی معلومات کو دیکھ سکتا ہے۔