قزاقوں نے شپنگ انڈسٹری پر2012میں6ارب ڈالرکابوجھ ڈالا

2011سے12.6فیصدکم،بہترسیکیورٹی کے باعث جہازوںپرحملوںمیں70 فیصد کمی۔

صومالی قزاقوں سے عالمی معیشت کواب بھی خطرہ ہے،ارتھ فیوچر فائونڈیشن، رپورٹ جاری فوٹو : فائل

عالمی معیشت کو 2012کے دوران صومالی قزاقوں کی کارروائیوں کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔

قزاقی کے خطرے کے پیش نظر خطرناک بحری راستوں پر اضافی سیکیورٹی اخراجات، انشورنس اور تاوان کی ادائیگی سمیت جہازوں کو تیز رفتاری کے ساتھ قزاقوں کے نرغے سے نکالنے اور دیگر اخراجات پر مجموعی طور پر6ارب ڈالر خرچ کرنا پڑے، سال 2012کے دوران بحری جہازوں اور عملے کو رہائی دلوانے کے لیے 3کروڑ 17لاکھ 50ہزار ڈالر کا تاوان بھی ادا کیا گیا۔ صومالی قزاقی سے عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں ارتھ فیوچر فائونڈیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق صومالی قزاقوں کی کارروائیوں میں اگرچہ کمی واقع ہوئی ہے۔

تاہم عالمی معیشت پر منڈلانے والا یہ خطرہ ابھی پوری طرح ٹلا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق شپنگ انڈسٹری میں قزاقی کے خلاف مربوط حکمت عملی، قزاقوں کے خلاف عالمی برادری کے مشترکہ نیول آپریشن، عالمی سطح پر قزاقی کے مسئلے کے حل کے لیے بہتر کوآرڈینیشن بالخصوص جہازوں کی سیکیورٹی کے اقدامات مسلح گارڈز اور جدید ایکویپمنٹ کے استعمال کے سبب 2011کے مقابلے میں 2012کے دوران جہازوں کے عملے سمیت اغوا کی وارداتوں میں 50فیصد جبکہ جہازوں پر حملوں کے واقعات میں 70فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2011 کے مقابلے میں 2012کے دوران قزاقی کے سبب عالمی معیشت پر پڑنے والے بوجھ میں 12.6فیصد تک کمی ہوئی، 2011میں قزاقی کے سبب7 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات کا سامنا تھا، ایک سال کے دوران تاوان کی مد میں کی گئی ادائیگیوں میں80 فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی،2011کے دوران تاوان کی مد میں 16کروڑ ڈالر ادا کیے گئے جبکہ 2012کے دوران یہ ادائیگیاں 3کروڑ 17لاکھ 50ہزار ڈالر تک محدود رہیں۔




سال 2012کے دوران کیے گئے 6ارب ڈالر کے اضافی اخراجات میں سب سے زیادہ (29فیصد) 2ارب ڈالر جہازوں کی سیکیورٹی پر خرچ کیے گئے، جہازوں کو تیز رفتاری سے چلاکر قزاقوں کے علاقے سے نکالنے کی وجہ سے فیول پر اٹھنے والے اخراجات میں اضافے کا سامنا کرنا پڑا، اس مد میں1.53ارب ڈالر خرچ کیے گئے جو سال 2011میں کیے گئے 2.7ارب ڈالر کے اخراجات سے 43فیصد تک کم رہے، سال 2012 کے دوران قزاقوں کی سرکوبی اور بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے ملٹری آپریشنز پر مجموعی طور پر 1.09ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔

جس میں زیادہ تر اخراجات بحری جہازوں کی فضائی نگرانی، بغیر پائلٹ کے طیاروں کے استعمال، تیز رفتار جنگی کشتیوں کی پٹرولنگ پر خرچ ہوئے، سال 2011کے دوران ملٹری آپریشنز پر 1.27ارب ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔ صومالی قزاقوں کے حملوں میں کمی کے سبب ہائی رسک ایریا کے بجائے جہازوں کے متبادل روٹس استعمال کرنے کے رجحان میں کمی دیکھی گئی جس سے متبادل روٹس کی وجہ سے اٹھنے والے اضافی اخراجات بھی 50 فیصد کمی سے 29کروڑ 5 لاکھ ڈالر رہے، بحری قزاقی کے خطرے کے پیش نظر جہازوں اور کارگو کی انشورنس پر بھی اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔

2012 کے دوران شپنگ انڈسٹری کو قزاقی کے خطرے کی وجہ سے 55کروڑ ڈالر کے اضافی خرچ کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 2011 کے دوران اس مد میں 63 کروڑ 50 لاکھ ڈالر خرچ کیے گئے تھے، قزاقی کے خطرے کے پیش نظر بحری عملے کو بھی اضافی تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں اور سال 2012کے دوران اس مد میں 47کروڑ 16 لاکھ ڈالر کے اضافی اخراجات کیے گئے، قانونی چارہ جوئی پر مجموعی طور پر 1کروڑ 48لاکھ 90ہزار ڈالر جبکہ قزاقی کے خلاف نبرد آزما اقوام متحدہ کی ایجنسیز اور آزاد این جی اوز پر 2کروڑ 40 لاکھ 80 ہزار ڈالر خرچ کیے گئے۔
Load Next Story