بھارت کی سارک تنظیم سے دشمنی کیسی
سارک کے چارٹر کے تحت اگر کوئی رکن ملک اجلاس میں شرکت سے معذرت کرتا ہے تو اس صورت میں اجلاس کا انعقاد نہیں ہو سکتا۔
سارک کے چارٹر کے تحت اگر کوئی رکن ملک اجلاس میں شرکت سے معذرت کرتا ہے تو اس صورت میں اجلاس کا انعقاد نہیں ہو سکتا۔ فوٹوفائل
بھارت پر ایک بار پھر سارک مخالف جنون کا دورہ پڑ گیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان میں ہونے والی جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھارتی حکومتی اور سفارتی حلقے متحرک ہوگئے جب کہ وزیراعظم نریندرمودی نے اجلاس میں شرکت کو خارج از امکان قرار دے دیا ہے۔
مودی نے شرکت سے انکار کے فیصلہ کی بنیاد اس منطق اوربے بنیاد جواز پر رکھی ہے کہ سارک کانفرنس اسلام آباد میں اس لیے نہیں ہوسکتی کہ اس میں شرکت کے لیے بعض رکن ممالک نے شرکت سے معذرت کا عندیہ دیتے ہوئے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔
حقیقت میں یہ سب بھارتی طے شدہ حکمت عملی ہے جس کے تحت بھارت خطے میں نہ صرف اقتصادی ترقی، جنوبی ایشائی ممالک کے مابین قریبی تعلقات و روابط کو یرغمال بنانا چاہتا ہے، اور اس چال کو کامیاب بنانے کے لیے وہ علاقائی صورتحال ،دہشت گردی اور مخدوش تعلقات کا بیہودہ بہانہ بنا کر بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان کو خائف اور بدگمان کرنے کی مذموم روش پر گامزن ہے جب کہ افغانستان کووہ پہلے ہی سے پاکستان مخاصمت پر لگانے کی غیر اخلاقی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے کیونکہ اسے خطرہ ہے کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے اعلیٰ سطح کا پاک امریکا مسلسل رابطہ کہیں بریک تھرو نہ کرجائے جب کہ افغان طالبان کو کابل حکومت سے جامع مذاکرات کے لیے امریکا مسلسل زور دے رہا ہے اور امکان یہی ہے افغان امن کی یہ برف کسی بھی وقت پگھل سکتی ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے نیپالی وزیراعظم سے نئی دہلی میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے اس سال سارک سربراہ اجلاس کے اسلام آباد میں انعقاد کو خارج از امکان قرار دے دیا۔ مودی نے نیپالی وزیراعظم کے پی شرما کو بتایا کہ موجودہ صورت حال میں اسلام آباد میں سارک کانفرنس کا انعقاد ممکن نہیں ہے اور بھارت اس میں شرکت نہیں کرے گا۔
مودی نے نیپال پر بھی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے لیے زور دیا۔مودی اور نیپالی وزیراعظم کے پی شرما کی ملاقات کے بعد بھارتی سیکریٹری خارجہ ویجاج گوکھل نے میڈیا بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ بھارتی وزیراعظم نے اپنے ہم منصب کو سارک کانفرنس سے متعلق بھارت کے خدشات سے آگاہ کیا ہے اور پاک بھارت سرحد پر موجودہ صورت حال کے پیش نظر پاکستان میں سارک کانفرنس کے انعقاد کو ناممکن قرار دیا۔ سارک کانفرنس کا پچھلا اجلاس 2014 میں کھٹمنڈو میں منعقد ہوا تھا۔
جس کے بعد انگریزی حرف تہجی کے حساب سے اگلی کانفرنس پاکستان میں 2016 میں ہونی تھی لیکن بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی اور بنگلہ دیش، افغانستان، نیپال اور بھوٹان کی ملی بھگت کے باعث کانفرنس معطل کرادی گئی تھی اور اس بار بھی بھارت نے اپنے منفی کردار اور مذموم کھیل کاآغاز کردیا ہے۔ سارک جنوبی ایشیا کے 8 ممالک پر مشتمل اقتصادی اور سیاسی تنظیم ہے جس میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، مالدیپ، بھوٹان اور افغانستان شامل ہیں۔
سارک کے چارٹر کے تحت اگر کوئی رکن ملک اجلاس میں شرکت سے معذرت کرتا ہے تو اس صورت میں اجلاس کا انعقاد نہیں ہو سکتا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے اس موقع کو بھی اپنی عاقبت نااندیشی سے سارک کانفرنس کے عدم انعقاد کے لیے گولڈن چانس سمجھ لیا ہے۔ اسلام آباد سارک کانفرنس کے انعقاد کی تیاریاں جاری ہیں۔
ادھر مودی کی عدم شرکت کی اطلاع پر پاکستان دفتر خارجہ نے اسے بدقسمتی سے تعبیر کیا ہے اور اس کی مذمت کی ہے، یاد رہے بھارت نے 2016 میں سارک کانفرنس کو اسی قسم کی چال سے بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان کو ساتھ ملا کر معطل کرادیا تھا، اس بار بھی بھارت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد میں کانفرنس ممکن نہیں، حالانکہ بھارت خود بھی جانتا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست کے طور پر جس بے جگری کے ساتھ جنگ لڑی ہے بھارت اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا، ابھی حال ہی میں پاکستان نے لاہور میں پی ایس ایل کے دو اور کراچی میں تین میچز کی سیریز کامیابی سے مکمل کی اور امن ، اسپورٹس مین شپ اور بین الاقوامی دوستی اور خیرسگالی کا دنیا بھر کا پیغام دیا۔
عالمی مبصرین نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور ان ایونٹس پر دہشت گردی کو مسترد کرنے کے قومی جذبہ کی عالمی سطح پر پذیرائی انٹرنیشنل کرکٹرز حلقوں نے ادارہ جاتی سطح پر کی، لیکن بھارت کو چونکہ خطے میں امن کے کاز سے کوئی دلچسپی نہیں اس لیے کچھ نہ سہی تو سارک کارنفرنس کو پھر سے نشانہ پر لے لیا۔
ذرا 2002 کے پاک بھارت سیاسی، عسکری اور سفارتی منظرنامہ پر نظر ڈالتے ہیں، اس وقت بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری باجپا ئی اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان مصافحہ ہوا تھا، گیارہویں کھٹمنڈو سارک سربرائی کانفرنس کے وقت پاک بھارت تعلقات کشیدگی کی انتہا پر تھے، مگر جنرل مشرف نے روسٹرم پر پہنچ کر اٹل بہاری کو ساتھ مل کر جنوبی ایشیائی عوام کے لیے امن ، تعاون ، ترقی اور ہم آہنگی کی جو پر خلوص پیشکش کی اور ڈائس پر ان سے ہینڈ شیک کیا میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ شرکائے کانفرنس اس غیر متوقع خیرسگالی پر ششدر رہتے ہوئے بھی دیر تک تالیاں بجاتے رہے جب کہ یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ 2016 کی سارک کانفرنس کو معطل کرانے کے بعد بھی بھارت اسی کوشش میں مصروف ہے کہ پاکستان کو کسی نہ کسی بہانے سے ٹارگٹ کیا جائے۔
جس کی سب سے بڑی نظیر لائن آف کنٹرول پر بھارت کی مسلسل خلاف ورزیاں، بلاجواز اشتعال انگیزی، سرحدی جارحیت، گولہ باری ، فائرنگ، پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے اور سویلین آبادیوں کو نشانہ بنانے کی سنگین وارداتوں کا سلسلہ ہے، ان خلاف ورزیوں کے جواب میں پاک فوج نے دشمن کو ہر مقام پر منہ توڑ جواب دیا اور جواب میں اس کی کئی چیک پوسٹوں کو ملیا میٹ اور بھارتی فورسز کو جانی و اسلحہ جاتی نقصان پہنچایا۔
تاہم پاک بھارت تعلقات میں تناؤ کے مذکورہ بالا حوالہ میں بھی بھارتی میڈیا نے یہ نکتہ نکالا کہ دونوں ملک صورتحال کے اندر سے ''آرٹ آف پیس'' کی کوئی شکل دنیا کے سامنے لاسکتے ہیں، سارک تنظیم علاقائی ترقی و تعاون کے خوابوں کی ایک زنجیر ہے، بھارتی وزیرراعظم نریندر مودی بظاہر یہ اعلان کرتے ہوئے نہیں تھکتے کہ بھارت علاقائی ترقی، قریبی تعاون اور عوام کے معیار زندگی کو بدلنے کا خواہاں ہے مگر اس کا عمل اس کے قطعی برعکس ہے۔
مودی نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کئی اسٹرٹیجک ، معاشی ، جوہری ، تزویراتی معاہدہ کیے ہیں، خطے میں امریکا کی افغانستان میں امن کے قیام کے لیے جاری شدہ ٹرمپ پالیسی میں بھارت اور افغانستان کو کلیدی کردار دیا گیا ہے اور بدقسمی سے جس پاکستان نے افغان امن عمل کے لیے اپنی نیندیں حرام کیں، نائن الیون عذاب کے باعث اربوں کا معاشی نقصان اور انسانی جانوں کی قربانی دی ،اسے کھلے دل سے تسلیم نہیں کیا جاتا۔
بھارت کے لیے اب ایک ہی آپشن ہے کہ وہ سارک کی ساکھ کو داؤ پر نہ لگائے، ساؤتھ ایشیا کی اس علاقائی تنظیم کے چارٹر کی توقیر کرے، سری لنکا اور نیپال بھارت کو سارک کانفرنس میں شرکت پر آمادہ کریں اسی میں جنوبی ایشیائی عوام کا فائدہ ہے۔
مودی نے شرکت سے انکار کے فیصلہ کی بنیاد اس منطق اوربے بنیاد جواز پر رکھی ہے کہ سارک کانفرنس اسلام آباد میں اس لیے نہیں ہوسکتی کہ اس میں شرکت کے لیے بعض رکن ممالک نے شرکت سے معذرت کا عندیہ دیتے ہوئے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔
حقیقت میں یہ سب بھارتی طے شدہ حکمت عملی ہے جس کے تحت بھارت خطے میں نہ صرف اقتصادی ترقی، جنوبی ایشائی ممالک کے مابین قریبی تعلقات و روابط کو یرغمال بنانا چاہتا ہے، اور اس چال کو کامیاب بنانے کے لیے وہ علاقائی صورتحال ،دہشت گردی اور مخدوش تعلقات کا بیہودہ بہانہ بنا کر بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان کو خائف اور بدگمان کرنے کی مذموم روش پر گامزن ہے جب کہ افغانستان کووہ پہلے ہی سے پاکستان مخاصمت پر لگانے کی غیر اخلاقی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے کیونکہ اسے خطرہ ہے کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے اعلیٰ سطح کا پاک امریکا مسلسل رابطہ کہیں بریک تھرو نہ کرجائے جب کہ افغان طالبان کو کابل حکومت سے جامع مذاکرات کے لیے امریکا مسلسل زور دے رہا ہے اور امکان یہی ہے افغان امن کی یہ برف کسی بھی وقت پگھل سکتی ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے نیپالی وزیراعظم سے نئی دہلی میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے اس سال سارک سربراہ اجلاس کے اسلام آباد میں انعقاد کو خارج از امکان قرار دے دیا۔ مودی نے نیپالی وزیراعظم کے پی شرما کو بتایا کہ موجودہ صورت حال میں اسلام آباد میں سارک کانفرنس کا انعقاد ممکن نہیں ہے اور بھارت اس میں شرکت نہیں کرے گا۔
مودی نے نیپال پر بھی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے لیے زور دیا۔مودی اور نیپالی وزیراعظم کے پی شرما کی ملاقات کے بعد بھارتی سیکریٹری خارجہ ویجاج گوکھل نے میڈیا بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ بھارتی وزیراعظم نے اپنے ہم منصب کو سارک کانفرنس سے متعلق بھارت کے خدشات سے آگاہ کیا ہے اور پاک بھارت سرحد پر موجودہ صورت حال کے پیش نظر پاکستان میں سارک کانفرنس کے انعقاد کو ناممکن قرار دیا۔ سارک کانفرنس کا پچھلا اجلاس 2014 میں کھٹمنڈو میں منعقد ہوا تھا۔
جس کے بعد انگریزی حرف تہجی کے حساب سے اگلی کانفرنس پاکستان میں 2016 میں ہونی تھی لیکن بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی اور بنگلہ دیش، افغانستان، نیپال اور بھوٹان کی ملی بھگت کے باعث کانفرنس معطل کرادی گئی تھی اور اس بار بھی بھارت نے اپنے منفی کردار اور مذموم کھیل کاآغاز کردیا ہے۔ سارک جنوبی ایشیا کے 8 ممالک پر مشتمل اقتصادی اور سیاسی تنظیم ہے جس میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، مالدیپ، بھوٹان اور افغانستان شامل ہیں۔
سارک کے چارٹر کے تحت اگر کوئی رکن ملک اجلاس میں شرکت سے معذرت کرتا ہے تو اس صورت میں اجلاس کا انعقاد نہیں ہو سکتا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے اس موقع کو بھی اپنی عاقبت نااندیشی سے سارک کانفرنس کے عدم انعقاد کے لیے گولڈن چانس سمجھ لیا ہے۔ اسلام آباد سارک کانفرنس کے انعقاد کی تیاریاں جاری ہیں۔
ادھر مودی کی عدم شرکت کی اطلاع پر پاکستان دفتر خارجہ نے اسے بدقسمتی سے تعبیر کیا ہے اور اس کی مذمت کی ہے، یاد رہے بھارت نے 2016 میں سارک کانفرنس کو اسی قسم کی چال سے بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان کو ساتھ ملا کر معطل کرادیا تھا، اس بار بھی بھارت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد میں کانفرنس ممکن نہیں، حالانکہ بھارت خود بھی جانتا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست کے طور پر جس بے جگری کے ساتھ جنگ لڑی ہے بھارت اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا، ابھی حال ہی میں پاکستان نے لاہور میں پی ایس ایل کے دو اور کراچی میں تین میچز کی سیریز کامیابی سے مکمل کی اور امن ، اسپورٹس مین شپ اور بین الاقوامی دوستی اور خیرسگالی کا دنیا بھر کا پیغام دیا۔
عالمی مبصرین نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور ان ایونٹس پر دہشت گردی کو مسترد کرنے کے قومی جذبہ کی عالمی سطح پر پذیرائی انٹرنیشنل کرکٹرز حلقوں نے ادارہ جاتی سطح پر کی، لیکن بھارت کو چونکہ خطے میں امن کے کاز سے کوئی دلچسپی نہیں اس لیے کچھ نہ سہی تو سارک کارنفرنس کو پھر سے نشانہ پر لے لیا۔
ذرا 2002 کے پاک بھارت سیاسی، عسکری اور سفارتی منظرنامہ پر نظر ڈالتے ہیں، اس وقت بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری باجپا ئی اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان مصافحہ ہوا تھا، گیارہویں کھٹمنڈو سارک سربرائی کانفرنس کے وقت پاک بھارت تعلقات کشیدگی کی انتہا پر تھے، مگر جنرل مشرف نے روسٹرم پر پہنچ کر اٹل بہاری کو ساتھ مل کر جنوبی ایشیائی عوام کے لیے امن ، تعاون ، ترقی اور ہم آہنگی کی جو پر خلوص پیشکش کی اور ڈائس پر ان سے ہینڈ شیک کیا میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ شرکائے کانفرنس اس غیر متوقع خیرسگالی پر ششدر رہتے ہوئے بھی دیر تک تالیاں بجاتے رہے جب کہ یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ 2016 کی سارک کانفرنس کو معطل کرانے کے بعد بھی بھارت اسی کوشش میں مصروف ہے کہ پاکستان کو کسی نہ کسی بہانے سے ٹارگٹ کیا جائے۔
جس کی سب سے بڑی نظیر لائن آف کنٹرول پر بھارت کی مسلسل خلاف ورزیاں، بلاجواز اشتعال انگیزی، سرحدی جارحیت، گولہ باری ، فائرنگ، پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے اور سویلین آبادیوں کو نشانہ بنانے کی سنگین وارداتوں کا سلسلہ ہے، ان خلاف ورزیوں کے جواب میں پاک فوج نے دشمن کو ہر مقام پر منہ توڑ جواب دیا اور جواب میں اس کی کئی چیک پوسٹوں کو ملیا میٹ اور بھارتی فورسز کو جانی و اسلحہ جاتی نقصان پہنچایا۔
تاہم پاک بھارت تعلقات میں تناؤ کے مذکورہ بالا حوالہ میں بھی بھارتی میڈیا نے یہ نکتہ نکالا کہ دونوں ملک صورتحال کے اندر سے ''آرٹ آف پیس'' کی کوئی شکل دنیا کے سامنے لاسکتے ہیں، سارک تنظیم علاقائی ترقی و تعاون کے خوابوں کی ایک زنجیر ہے، بھارتی وزیرراعظم نریندر مودی بظاہر یہ اعلان کرتے ہوئے نہیں تھکتے کہ بھارت علاقائی ترقی، قریبی تعاون اور عوام کے معیار زندگی کو بدلنے کا خواہاں ہے مگر اس کا عمل اس کے قطعی برعکس ہے۔
مودی نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کئی اسٹرٹیجک ، معاشی ، جوہری ، تزویراتی معاہدہ کیے ہیں، خطے میں امریکا کی افغانستان میں امن کے قیام کے لیے جاری شدہ ٹرمپ پالیسی میں بھارت اور افغانستان کو کلیدی کردار دیا گیا ہے اور بدقسمی سے جس پاکستان نے افغان امن عمل کے لیے اپنی نیندیں حرام کیں، نائن الیون عذاب کے باعث اربوں کا معاشی نقصان اور انسانی جانوں کی قربانی دی ،اسے کھلے دل سے تسلیم نہیں کیا جاتا۔
بھارت کے لیے اب ایک ہی آپشن ہے کہ وہ سارک کی ساکھ کو داؤ پر نہ لگائے، ساؤتھ ایشیا کی اس علاقائی تنظیم کے چارٹر کی توقیر کرے، سری لنکا اور نیپال بھارت کو سارک کانفرنس میں شرکت پر آمادہ کریں اسی میں جنوبی ایشیائی عوام کا فائدہ ہے۔