700 سے زائد اشیا پرعائد ریگولیٹری ڈیوٹی پر نظرثانی کا فیصلہ
انٹراکشمیر ٹریڈ کے تحت اشیا کی درآمد کے حوالے سے ڈیوٹی ،ٹیکسوں پر نظر ثانی کی تجویز زیر غور
انٹراکشمیر ٹریڈ کے تحت اشیا کی درآمد کے حوالے سے ڈیوٹی ،ٹیکسوں پر نظر ثانی کی تجویز زیر غور۔ فوٹو : فائل
MADRID:
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2018-19کے وفاقی بجٹ میں 7سو سے زائد اشیا پر عائد 5سے 25فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی پر نظر ثانی کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔
ایف بی آر نے رواں مالی سال 2017-18 میں پہلی سہ ماہی گزرتے ہی اکتوبر 2017 میں نوٹیفکیشن 1035(I)2017کے تحت 7سو سے زائد اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی تھی جسے مختلف قانونی فورمز پر چیلنج کیا گیا اور اسکے خلاف عدالتی فیصلے بھی آئے مقدمہ بازی کے باعث ایف بی آر یہ ریگولیٹری ڈیوٹی اپنے ریونیو میں شامل نہیں کرسکا ہے اورمتنازعہ ہونے کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کے پاس پڑی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اب یہ تجویز زیر غور ہے کہ آئندہ مالی سال کے فنانس بل کے ذریعے ریگولیٹری ڈیوٹی پر نظر ثانی کی جائے اوراسٹیک ہولڈرز کے تحفظات دور کرکے فنانس بل کے ذریعے اسے قانونی تحفظ دیا جائے تاکہ آئندہ مالی سال کے دوران نظر ثانی شُدہ فہرست اور ریٹس کے مطابق ریگولیٹری ڈیوٹی کی وصولی ہوسکے جب کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں بعض اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم بھی کیے جانیکا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2018-19کے وفاقی بجٹ میں 7سو سے زائد اشیا پر عائد 5سے 25فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی پر نظر ثانی کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔
ایف بی آر نے رواں مالی سال 2017-18 میں پہلی سہ ماہی گزرتے ہی اکتوبر 2017 میں نوٹیفکیشن 1035(I)2017کے تحت 7سو سے زائد اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی تھی جسے مختلف قانونی فورمز پر چیلنج کیا گیا اور اسکے خلاف عدالتی فیصلے بھی آئے مقدمہ بازی کے باعث ایف بی آر یہ ریگولیٹری ڈیوٹی اپنے ریونیو میں شامل نہیں کرسکا ہے اورمتنازعہ ہونے کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کے پاس پڑی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اب یہ تجویز زیر غور ہے کہ آئندہ مالی سال کے فنانس بل کے ذریعے ریگولیٹری ڈیوٹی پر نظر ثانی کی جائے اوراسٹیک ہولڈرز کے تحفظات دور کرکے فنانس بل کے ذریعے اسے قانونی تحفظ دیا جائے تاکہ آئندہ مالی سال کے دوران نظر ثانی شُدہ فہرست اور ریٹس کے مطابق ریگولیٹری ڈیوٹی کی وصولی ہوسکے جب کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں بعض اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم بھی کیے جانیکا امکان ہے۔